نواز شریف کا چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بننا یقینی کیوں؟

سینئر صحافی اسدطور کا کہنا ہے کہ چین اور سعودی عرب سمیت پاکستان کے دوست ممالک نے آئندہ حکومتی سیٹ اپ کیلئے اپنا وزن مسلم لیگ ن کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ جس کے بعد نواز شریف کے چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہوتی نظر آتی ہے کیونکہ سعودی عرب اور چین نواز شریف کے ساتھ کمفرٹ ایبل محسوس کرتے ہیں جبکہ قطر کے شاہی خاندان کا بھی یہی خیال ہے۔ سعودی عرب، چین اور قطر عمران خان کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ نواز شریف کی جانب سے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملاقاتیں کی جا رہی ہیں اور امکان ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے بعد نواز شریف اگلے وزیر اعظم بن جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جو نئی حکومت بنے گی اس میں سعودی ولی عہد کا کردار بہت اہم ہو گا۔ پاکستان میں جو 10 سے 25 ارب ڈالرزسعودی سرمایہ کاری کی بات چل رہی ہے وہ سرمایہ کاری ابھی نہیں کی جائے گی بلکہ انتخابات کے بعد ن لیگ کی حکومت آنے کی صورت میں ہو گی۔

یوٹیوب پر حالیہ وی-لاگ میں اسد طور کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس میں مختلف مواقع پر دیگر ممالک کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب ملک بحران کا شکار ہو۔ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی دیگر ممالک ایٹمی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کے بیل آؤٹ کے لیے آگے آتے ہیں اور استحکام لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسد طور کے مطابق پاکستان کے معاملات میں 4 ممالک کا ہمیشہ بہت اہم کردار رہا ہے جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ اسد طور کے مطابق عمران خان جب حکومت میں آئے تھے تو انہوں نے اپنی تمام تر حمایت جنرل باجوہ کو دے دی۔ نعد ازاں اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکہ اور چین کو ناراض کر دیا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ فوج نے اپنا فراہم کردہ قالین عمران خان کے قدموں کے نیچے سے کھینچ لیا۔ ایسے میں ان کو بچانے کے لیے کوئی بھی ملک آگے نہ آیا۔ اب عمران خان فوج سے ڈیل مانگ رہے ہیں لیکن کوئی بھی ملک چیئرمین پی ٹی آئی کی مدد کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ اسد طور کے مطابق جیسے پاکستان کے حالات ہیں تو ایسی ڈیلز میں فوج اور سیاسی قوت کے درمیان کوئی نا کوئی ملک گارنٹر ضرور بنتا ہے اور جو بھی پاور شیئرنگ فارمولا طے پاتا ہے اسی کے مطابق کام ہوتا ہے۔

اسد طور کے مطابق حالیہ صورت حال میں سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار بہت اہم ہو گیا ہے۔ اسد طور بتاتے ہیں کہ پچھلے چند ماہ کے دوران نواز شریف کی لندن میں سعودی عرب کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر، برطانوی اسٹیبلشمنٹ کے اہم ذمہ داران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں دوست ممالک کی طرف سے نواز شریف کو ہر قسم کی حمایت کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ نواز شریف کی پاکستان واپسی ہو اور وہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالیں کیونکہ سعودی عرب عمران خان کے ساتھ کام کرنےکا خواہش مند نہیں ہے۔ چین اور سعودی عرب دونوں ممالک نواز شریف کے ساتھ کمفرٹ ایبل محسوس کرتے ہیں جبکہ قطری شاہی خاندان کا بھی یہی خیال ہے۔ یہ کچھ ایسے عالمی پلیئرز ہیں جو اگر کسی کو سپورٹ کریں تو کہا جا سکتا ہے کہ الیکشن اس انداز میں ہو گا کہ اس میں اکثریت اسی پارٹی کو ملنے کا امکان ہوتا ہے۔ایسی ہی گارنٹیز اور ڈیل کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کو وزیر اعظم بننے سے نہیں روکا جا سکے گا۔ تاہم نواز شریف جو بیانیہ لے کر آئے ہیں اس سے ن لیگ پریشان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس معاملے کو کیسے دیکھتی ہے اور عالمی اسٹیبلشمنٹ اور اہم شخصیات سے جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں وہ کیسے اس بیانیے کے چلتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ نکال کر معاملات کو طے شدہ راستے کے مطابق مناسب رخ دیتے ہیں۔

Back to top button