نیب حکام کو ہائی پروفائل کیسز کی تحقیقات میں تیزی لانے کی ہدایت

نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں (سی آئی ٹی) کے ہمراہ چیئرمین کو صوبائی ہیڈ کوارٹر میں مختلف تحقیقات کے حوالے سےآگاہ کیا۔چیئرمین کو آگاہ کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سے متعلق چوہدری شوگر ملز (سی ایس ایم) کی تحقیقات آخری مراحل پر ہے اور ان کے اور دیگر کے خلاف جلد ہی ریفرنس دائر کیا جائے گا۔نیب کے مطابق مریم نواز کے پاس 2008 میں غیر ملکی شہریوں سیف بن جبار السویدی (متحدہ عرب امارات)، شیخ ذکا الدین (برطانیہ) اور ہانی احمد جامجم (سعودی عرب) کی جانب سے سی ایس ایم کے ایک کروڑ 15 لاکھ شیئر منتقل ہوئے اور تاحال وہ اس ضمن میں جواب جمع کرانے میں ناکام ہیں۔
وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار اور پنجاب کے وزیر خزانہ ہاشم جوان بخت کے اربوں روپے مالیت کے اثاثوں کا انکشاف ہوا ہے لیکن ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے یا نہ ہونے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔رحیم یار خان ضلعی کونسل کے چیئرمین اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے اپنے دور میں خسرو بختیار کے اثاثوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
قبل ازیں نیب نے ایک درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ خسرو بختیار کے خلاف آمدنی سے زائد اثاجات کیس میں انکوائری جاری ہے اور جلد مکمل کرلی جائے گی۔
چیئرمین نیب کو سابق ڈی سی او لاہور نور الامین مینگل اور ایل ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد خان چیمہ کے ذریعہ رائے ونڈ میں اراضی الاٹمنٹ میں شریف خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایل ڈی اے ماسٹر پلان پر نظر ثانی کی تحقیقات میں پیشرفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔
لاثانی چکس اینڈ آئل کمپنیوں کے معاملے میں چیئرمین کو بتایا گیا کہ اب تک ڈھائی ارب روپے کے دعوے دائر کیے جاچکے ہیں اور ایڈن ہاؤسنگ انکوائری میں اس کے مالک کو ہدایت کی گئی کہ وہ اگر پلی بارگین کرانا چاہتا تو پہلے 16 ارب روپے ادا کرے۔غداری کے مقدمے میں ضمانت پر رہا ہونے والے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف پر بھی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔چیئرمین کو اختیارات اور اثاثوں کے ناجائز استعمال میں ڈی آئی جی اکبر ناصر اور ایڈیشنل آئی جی ملک علی عامر کے خلاف تحقیقات میں پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔
