وزیراعظم اور دو سلیکٹرز کی چھٹی کے لیے اسلام آباد دھرنے کی تجویز


اپوزیشن اتحاد کے انتہا پسند عناصر نے یہ تجویز دی یے کہ کپتان کو گھر بھیجنے کے لیے 50 ہزار افراد کا دھرنا تب تک اسلام آباد میں ڈٹا رہے جب تک 3 بڑوں کے استعفوں کا مطالبہ پورا نہ ہو جائے۔ مگر دوسری طرف اعتدال پسند عناصر صرف کپتان کی حد تک ایک استعفے کی بات کر رہے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ لانگ مارچ اگر واقعی موثر ثابت ہوا تو اُنہیں ماضی کے لانگ مارچوں اور دھرنوں کی طرح اس مرتبہ کامیابی مل سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 13 دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد یہ تجویز ہے کہ اپوزیشن اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے اور تب تک دھرنا دے کر بیٹھی رہی جب تک عمران خان اور ان کے دونوں سلیکٹرز استعفی نہ دے دیں۔
تجویز تو یہ بھی ہے کہ اگر تینوں بڑے استعفی دینے کی بجائے اپوزیشن کے خلاف طاقت کا استعمال کریں تو پھر پارلیمینٹ سے اجتماعی طور پر استعفے دے کر نظام کو ایسا چیلنج دے دیا جائے کہ اُس کا چلنا ہی مشکل ہو جائے۔ اگر واقعی تمام اپوزیشن جماعتیں اجتماعی استعفوں کا فیصلہ کر لیں تو حکومت کے لئے نظام کو چلانا ناممکن ہو جائے گا اور اس کے لئے سوائے نئے الیکشن کی طرف جانے کے کوئی اور راستہ باقی نہیں بچے گا۔
ان حالات میں پاکستان کے تینوں بڑے اسٹیک ہولڈرز یعنی حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کو سامنے نظر آ رہا ہے کہ آگ لگنے والی ہے،تصادم شروع ہو چکا ہے لیکن تینوں روم کے آخری شہنشاہ نیرو کی طرح بانسری بجا رہے ہیں اور ملک تیزی سے نفرت، سیاسی مفادات اور ذاتی لڑائیوں کی بھڑکائی گئی آگ کی لپیٹ میں آ رہا ہے، اِس لئے تینوں فریقوں سے عرض ہے، نہ کریں، ایسا نہ کریں۔ تمام فریقین اپنی اپنی جگہ ہر رُک جائیں، جائزہ لیں اور سوچیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس لڑائی میں ناقابل تلافی نقصان ہو جائے۔
یہ کہنا ہے سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ کا اپنے تازہ تجزیے میں۔ انکا کہنا یے کہ نہ تو آنکھیں بند کرنے سے منظر تبدیل ہوگا اور نہ ہی نظر انداز کرنے سے واقعات ٹلیں گے، ہونی ہو کر رہتی ہے۔ ہم تصادم کی طرف بگٹٹ دوڑے جا رہے ہیں مگر حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ تینوں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ سب کو علم ہے کہ تصادم میں ملک کا نقصان ہوگا۔ پہلے سیاست میں کشیدگی آئے گی اور پھر معیشت میں مزید ابتری آئے گی۔
لہذا ان حالات میں سہیل وڑائچ کی تینوں فریقوں سے یہی درخواست ہے کہ نہ کریں، ایسا نہ کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملک کے مسائل کا حل تصادم نہیں، مفاہمت میں ہے۔ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی طرف جائیں اور ملک کو آگے لے کر جانے پر سوچیں۔ ملتان کا جلسہ ٹریلر تھا، تصادم، کشیدگی، جھڑپیں، آنسو گیس اور گرفتاریاں۔ ملک میں سب طبقات گھگھو گھوڑے بنے بیٹھے ہیں حالانکہ سیاست کا طبلِ جنگ بج چکا ہے۔ لاہور کا جلسہ ہونے والا ہے اور پھر اپوزیشن خو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دینا ہوگی۔ کہنے کو تو اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے مگر اندازہ ہے کہ پیپلز پارٹی پہلے لانگ مارچ کی آپشن استعمال کرنے پر زور دے گی۔
لانگ مارچ کی کال پر عمل درآمد ہو گیا تو پھر ہر جگہ ملتان جیسی کشیدگی ہوگی، اگر لوگوں کو روکا گیا تو جگہ جگہ لڑائیاں اور لاٹھی چارج ہوگا اور اگر لوگ اسلام آباد یا راولپنڈی پہنچ گئے تو اُنہیں ڈیل کرنا اور بھی مشکل ترین مرحلہ ہوگا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ہر ریاست کی اپنی سائنس ہوتی ہے، ہم مانیں یا نہ مانیں ہماری ریاست کی سیاست میں ہمیشہ سے فیصلہ کن کردار ریاستی ادارے ہی ادا کرتے رہے ہیں۔ ایسا ہونا تو نہیں چاہئے مگر ماضی میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔بےنظیر بھٹو وزیراعلیٰ پنجاب منظور وٹو کے تعاون سے لانگ مارچ کرنے ہی والی تھیں کہ ایک روز پہلے راولپنڈی سے مذاکرات کی کال آ گئی۔ لانگ مارچ کے بغیر ہی حکومت تحلیل ہو گئی اور نئے الیکشن کی راہ ہموار کر دی گئی۔
دوسرا بڑا لانگ مارچ نواز شریف کی قیادت میں عدلیہ کی بحالی کے لئے لاہور سے روانہ ہوا، قافلہ گوجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ آرمی چیف جنرل کیانی کی کال آ گئی کہ زرداری حکومت عدلیہ کی بحالی پر رضا مند ہو گئی ہے۔ لہذا لانگ مارچ یا دھرنے ابھی تک حکومت گرانے یا جھکانے کے حوالے سے موثر ترین سیاسی ہتھیار ثابت ہوئے ہیں کیوں کی اگر دھرنا شروع ہو جائے تو اُسے ختم کرنا یا اُسے روکنا انتظامیہ اور حکومت دونوں کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ خون خرابہ ہو۔ انتظامیہ خاص طور پر اِس صورتحال سے بچنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھرنے والوں کی شرائط سخت اور ناقابلِ قبول بھی ہوں تو راولپنڈی اور اسلام آباد کی اسٹیبلشمنٹ اُنہیں تسلیم کر لیتی ہے۔
کہنے والے تو کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے انتہا پسند زور دے رہے ہیں کہ 50ہزار افراد کا دھرنا تب تک ڈٹا رہے جب تک 3 استعفوں کا مطالبہ پورا نہ ہو مگر دوسری طرف اعتدال پسند صرف ایک استعفے کی بات کر رہے ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ لانگ مارچ اگر واقعی موثر ثابت ہوا تو اُنہیں ماضی کے لانگ مارچوں اور دھرنوں کی طرح کامیابی مل سکتی ہے۔
تجویز تو یہ بھی ہے کہ اجتماعی استعفے دے کر نظام کو ایسا چیلنج دے دیا جائے کہ اُس کا چلنا ہی مشکل ہو جائے۔ لیکن سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میری رائے میں حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ تینوں ہی ضد کرکے فاش غلطی کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جس طرح سے حکومت کو اتارنا چاہتی ہے اگر وہ اِس میں کامیاب بھی ہو گئی تو بعد میں ملک میں جمہوری استحکام کی بجائے مزید عدم استحکام آئے گا۔ حکومت کا رویہ تو سب سے برا ہے، وہ اپوزیشن کو اشتعال دلا کر خود اپنا بھی اور نظام کا بھی بیڑہ غرق کر رہی ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سے ہر کوئی غیرجانبداری کی توقع کرتا ہے لیکن اپوزیشن کو یقین ہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ غیرضروری طور پر حکومت کی حمایت جبکہ اپوزیشن کی مخالفت کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنے اِس تاثر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے تینوں بڑے اسٹیک ہولڈرز یعنی حکومت، اپوزیش اور اسٹیبلشمینٹ سے عرض ہے، نہ کریں، ایسا نہ کریں۔ سب اپنی اپنی جگہ رُک جائیں، جائزہ لیں اور سوچیں، یہ تینوں غلط راستے پر گامزن ہیں۔ حکومت کی 3 سالہ مدت ابھی باقی ہے۔ سیاسی جماعتوں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایسے اتفاق کی ضرور ہے کہ حکومت کی مدت ایک سال کم کر دی جائے۔
میثاقِ جمہوریت میں بھی چار سالہ مدت کی نشاندہی کی گئی تھی مگر ساتھ ہی اگلے الیکشن کے غیرجانبدارانہ، منصفانہ اور شفاف ہونے کو یقینی بنایا جائے۔ اپوزیشن کو اِس بار ایسی ضمانتیں دی جائیں کہ وہ بااعتماد ہو کر اگلے الیکشن کےلئے میدان میں اُتریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button