پاکستان آرمی کی معاشی سلطنت کتنی وسیع ہو چکی؟


کیا آپ جانتے ہیں کہ بڑے بڑے کاروباری ادارے اور ہاوزنگ پراجیکٹس چلانے والی کارپوریٹ پاکستان آرمی کے زیر انتظام اس وقت نہ صرف 50 عدد بڑی کاروباری کمپنیاں کام کر رہی ہیں بلکہ اس کے پاس ملک کے کل رقبے کے 12 فیصد کا قبضہ بھی ہے۔ اسی کے بل بوتے پر اب ملک میں ایک علیحدہ معاشی سلطنت قائم کی جا چکی یے جسکی وجہ سے ریاست کے اندر بھی ایک علیحدہ ریاست بن چکی ہے۔
بڑا سوال یہ ہے کہ جب ملک کی کل آمدن کا ایک بڑا حصہ فوج کو دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے فراہم کر دیا جاتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاک فوج اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات کے علاوہ مختلف کاروباری ادارے بنانے اور انھیں مسلسل وسعت دینے میں اتنی ذیادہ دلچسپی لیتی ہے؟ دفاعی اُمور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جہاں فوج کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جاتے وہاں فوج کو محدود پیمانے پر چند کاروبار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں حکومت فوج کو پورے وسائل فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 50 کی دہائی میں مختلف کاروباری ادارے فوج سے ریٹائر ہونے والے افسران کو مراعات فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے لیکن یہ بھی سب جانتے ہیں کہ ریٹائرڈ فوجیوں کو پینشن بھی ملتی ہے جو کہ سویلین کھاتے سے ادا کی جاتی ہے۔ عائشہ کا کہنا ہے کہ ’پیشہ وارانہ افواج خود کو کاروباری سرگرمی میں مصروف نہیں کرتیں۔ اس کے علاوہ فوج کو ملنے والے فنڈز کا آڈٹ تو ہوتا نہیں اس لیے یہ بھی نہیں معلوم کہ کیا فوج کو ملنے والا بجٹ ان کاروباری اداروں میں تو استعمال نہیں ہوتا۔
مختلف اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی فوج کے پاس اسوقت ایک کروڑ بیس لاکھ ایکڑ زمین ہے، جو ملک کے کل رقبے کا 12 % ہے۔ اس میں سے ایک لاکھ ایکڑ زمین کمرشل مقاصد کیلئے استعمال ہو رہی ھے۔ فوج کے پاس لاھور میں 12 ہزار ایکڑ زمین، کراچی میں 12ہزار ایکڑ، اٹک میں 3000 ایکڑ، ٹیکسلا میں 2500 ایکڑ، پشاور میں 4000 ایکڑ جبکہ کوئٹہ میں 2500 ایکڑ زمین ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق اس زمین کی قیمت 300 بلین روپے بنتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت یے کہ بہاولپور میں موجود سرحدی علاقے کی زمین 380 روپے ایکڑ کے حساب سے سینئر افسران میں تقسیم کی گئی۔ جنرل سے لیکر کرنل صاحبان تک کل 100 افسران کو یہ زمین تقسیم کی گئی۔ ان میں نمایاں نام پرویزمشرف، جنرل زبیر، جنرل ارشاد حسین، جنرل ضرار، جنرل ذوالفقارعلی، جنرل سلیم حیدر، جنرل خالد مقبول، ایڈمرل منصورالحق کے ہیں۔
ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج دنیا کی واحد فوج ہے جس کی ملکی معیشت کے اندر اپنی الگ معاشی سلطنت قائم ہے اور ملک کی کم و بیش % 60 معیشت میں حصہ دار یے۔ اس سلطنت کے 4 بڑے حصے ہیں جن میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، فوجی فاونڈیشن، شاہین فاونڈیشن اور بحریہ فاونڈیشن شامل ہیں۔ فوج ان 4 ناموں سے زیادہ تر کاروبار کر رہی ہے اور یہ سارا کاروبار وزارت دفاع کے ماتحت کیا جاتا ہے۔ اس کاروبار کو مزید 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ این ایل سی یعنی نیشنل لاجسٹک سیل ٹرانسپورٹ سے متعلقہ شعبہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی ہے۔ جس کا 1698 سے زائد گاڑیوں کا کاروان ہے۔ اس میں کل 7279 افراد کام کرتے ہیں جس میں سے 2549 حاضر سروس فوجی ہیں اور باقی ریٹائرڈ فوجی ہیں۔ کہتے ہیں کہ این ایل سی نے پاکستان ریلوے کی اسی فیصد مال برداری کی آمدنی کو ختم کر دیا ھے کیونکہ جو کام پہلے ریلوے کرتی تھی وہ اب این ایل سی کرتی ہے۔
فوجی کاروبار کا دوسرا حصہ فرنیئر ورکس آرگنائیزیشن ملک کا سب سے بڑا ٹھیکیدار ادارہ ہے اور اس وقت حکومت کے سارے اہم تعمیراتی ٹینڈرز جیسے روڈ وغیرہ اسی ونگ کے حوالے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس لینے کے لیے بھی اس ادارے کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ایس سی او نامی فوجی ادارے کو پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر، سابق فاٹا اور شمالی علاقہ جات میں کمیونیکیشن کا کام سونپا گیا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ مشرف سرکار نے ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ ہزار کے لگ بھگ فوجی افسروں کو مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر فائز کیا اور ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں 56 ہزار سول عہدوں پر سابق فوجی افسر متعین ہیں جن میں 1600 کارپوریشنز میں ہیں۔
پاکستان رینجرز بھی اسی طرح کاروبار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے جس میں سمندری علاقے کی 1800 کلومیٹر لمبی سندھ اور بلوچستان کے ساحل پر موجود جھیلوں پر رسائی ہے۔ اس وقت سندھ کی 20 جھیلوں پر رینجرز کی عملداری ہے۔ اس ادارے کے پاس پیٹرول پمپس اور اہم ہوٹلز بھی ہیں۔
15 فروری 2005 کو سینیٹ میں پہش کردہ ایک رپورٹ کے مطابق فوج کے کئی ادارے اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں اور ان کی یہ سرمایہ کاری کسی بھی صورت میں عالمی سرمایہ کاری سے الگ بھی نہیں ہے۔آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے پروجکٹس، آرمی ویلفیئر نظام پور سیمنٹ پروجیکٹ، آرمی ويلفيئر فارماسيوٹيکل، عسکری سيمينٹ لمٹيڈ، عسکری کمرشل بينک، عسکری جنرل انشورنس کمپنی لمٹيڈ، عسکری ليزنگ لميٹيڈ، عسکری لبريکينٹس لميٹڈ، آرمی شوگر ملز بدين،آرمی ويلفيئر شو پروجيکٹ، آرمی ويلفيئر وولن ملز لاهور،آرمی ويلفيئر هوزری پروجيکٹ، آرمی ويلفيئير رائس لاهور،آرمی اسٹينڈ فارم، آرمی فارم کھوسکی بدين، آرمی ويلفير ٹرسٹ پلازه راولپنڈی، الغازی ٹريولز، سروسز ٹريولز راولپنڈی،آرمی ويلفيئر ٹرسٹ کمرشل مارکیٹ پروجيکٹ اور عسکری انفارميشن سروس جیسے اداروں کے ذریعے افواج پاکستان سرمایہ کاری میں مصروف ہیں۔اس کے علاوہ فوجی فائونڈيشن کے پروجيکٹس میں فوجی شوگر ملز ٹنڈو محمد خان، فوجی شوگر ملز بدين،فوجی شوگر ملز سانگلاہل، فوجی شوگر ملز کين فارم، فوجی سيريلز، فوجی کارن فليکس، فوجی پولی پروپائلين پروڈکٹس، فائونڈيشن گیس کمپنی، فوجی فرٹیلائيزر کمپنی صادق آباد ڈهرکی، فوجی فرٹیلائيزر انسٹیٹیوٹ، نيشنل آئڈنٹٹی کارڈ پروجيکٹ،فائونڈيشن ميڈيکل کالج، فوجی کبير والا پاور کمپنی، فوجی گارڈن فرٹیلائيزر گھگھر پھاٹک کراچی اور فوجی سيکيورٹی کمپنی لميٹڈ وغیرہ شامل ہیں۔
شاہين فاؤنڈيشن کے پروجيکٹس میں شاہين انٹرنيشنل، شاہين کارگو، شاہين ايئرپورٹ سروسز، شاہين ايئرویز، شاہين کامپليکس، شاہين پی ٹی وی، شاہين انفارميشن اور ٹيکنالوجی سسٹم، بحريه فائونڈيشن کے پروجيکٹس،بحريه يونيورسٹی،فلاحی ٹريڈنگ ايجنسی، بحريه ٹريول ايجنسی، بحريه کنسٹرکشن، بحريه پينٹس، بحريه ڈيپ سی فشنگ، بحريه کامپليکس، بحريه ہاوسنگ، بحريه ڈريجنگ، بحريه بيکری، بحريه شپنگ، بحريه کوسٹل سروس، بحريه کيٹرنگ اينڈ ڈيکوريشن سروس،بحريه فارمنگ،بحريه هولڈنگ، بحريه شپ بريکنگ، بحريه هاربر سروسز، بحريه ڈائيونگ اينڈ سالويج انٹرنيشنل اور بحريه فائونڈيشن کالج بہاولپور شامل ہیں۔
ملک کے تمام بڑے شہروں میں موجود کینٹونمنٹ ایریاز، ڈیفینس ہاوسنگ سوسائیٹیز، عسکری ہاوسنگ پراجیکٹس اور زرعی اراضی اوپر دی گئی لسٹ کے علاوہ ہیں۔ 1955 میں کوٹری بیراج کی تکمیل کے بعد گورنر جنرل غلام محمد نے ایک آبپاشی سکیم شروع کی جسکے تحت زمینیں بانٹی گئیں۔ لیکن 4 لاکھ مقامی افراد میں تقسیم کرنے کی بجائے بااثر افراد اس زمین کے حقدار پائے۔ یہاں جنرل ایوب خان کو 500 ایکڑ، کرنل ضیااللّہ کو500 ایکڑ، کرنل نورالہی کو500 ایکڑ، کرنل اخترحفیظ کو500 ایکڑ زمین الاٹ ہوئی۔ کیپٹن فیروزخان اور میجر عامر کو 243 ایکڑ جبکہ چیف سیکرٹری صبح صادق کو 400 ایکڑ زمین کا حقدار قرار دیا گیا۔ اسی طرح 1962ءمیں دریائے سندھ پرکشمور کے قریب گدو بیراج کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس سے سیراب ہونے والی زمینیں جن کا ریٹ اسوقت پانچ سے دس ہزار روپے فی ایکڑ تھا، عسکری حکام نےصرف 500 روپے ایکڑ کےحساب سے خریدیں۔گدو بیراج کے پاس جنرل ایوب خان کو 247 ایکڑ، جنرل موسی خان کو 250 ایکڑ، جنرل امراؤ خان کو 246 ایکڑ، بریگیڈئر سید انور کو 246 ایکڑ اور دیگر کئی افسران کو بھی کئی ایکڑ زمینوں سے نوازا گیا۔
ایوب خان کےعہد میں ہی مختلف شخصیات کو بیراجوں پر زمین الاٹ کی گئی۔ ایوب خان کے بیٹےگوھر ایوب کے سسر جنرل حبیب اللّہ کو ہر بیراج پر وسیع قطعۂ اراضی الاٹ ہوا۔ یاد رہے کہ جنرل حبیب اللّہ گندھارا کرپشن سکینڈل کےاہم کردار تھے۔ جنرل ایوب نے ججز کو بھی سیکڑوں ایکڑ زمین الاٹ کی۔ ان میں جسٹس ایس اے رحمان، انعام اللہ خان، محمد داود، فیض اللہ خان اور جسٹس محمد منیر شامل تھے۔ایوب خان نےجن پولیس افسران میں زمینیں تقسیم کیں، ان میں ملک عطا محمد خان ڈی- آئی- جی، نجف خان ڈی- آئی- جی سمیت دیگر شامل تھے۔ واضح رہے کہ نجف خان لیاقت علی قتل کیس کےکردار تھے۔ افغانی قاتل سید اکبر کو گولی انہوں نے ماری تھی۔
1982میں حکومت پاکستان نےکیٹل فارمنگ سکیم شروع کی۔ اسکا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو بھیڑ بکریاں پالنےکیلئے زمین الاٹ کرنی تھی۔ مگراس سکیم میں گورنر سندھ جنرل صادق عباسی نےسندھ کے جنگلات کی قیمتی زمین 240 روپے ایکڑ کےحساب سے مفت بانٹی۔اس عرصے میں فوج نے کوٹری، سیہون، ٹھٹھہ، مکلی میں 25 لاکھ ایکڑ زمین خریدی۔1993میں حکومت نے بہاولپور میں 33866 ایکڑ زمین فوج کےحوالےکی۔ جون 2015 میں حکومت سندھ نے جنگلات کی 9600 ایکڑ قیمتی زمین فوج کے حوالے کی۔ 24 جون 2009 کو ریونیو بورڈ پنجاب کی رپورٹ کےمطابق 62% لیز کی زمین صرف 56 اعلی عسکری افسران میں بانٹی گئی۔ جبکہ انکاحصہ صرف10% تھا۔ 2003 میں تحصیل صادق آباد کےعلاقے نواز آباد کی 2500 ایکڑ زمین فوج کے حوالے کی گئی۔ یہ زمین مقامی مالکان کی مرضی کے بغیر دی گئی۔ جس پر سپریم کورٹ میں مقدمہ بھی ہوا۔اسی طرح پاک نیوی نے کیماڑی ٹاؤن میں واقع مبارک گاؤں کی زمین پر ٹریننگ کیمپ کے نام پر حاصل کی۔ اس کا کیس چلتا رہا۔اب یہ نیول کینٹ کاحصہ ہے۔2003 میں اوکاڑہ فارم کیس شروع ہوا۔ اوکاڑہ فارم کی 16627 ایکڑ زمین حکومت پنجاب کی ملکیت تھی۔ یہ لیز کی جگہ تھی۔ 1947 میں لیزختم ہوئی۔ حکومت پنجاب نے اسے کاشتکاروں میں زرعی مقاصد سے تقسیم کیا۔
2003 میں اس زمین پر فوج نے اپنا حق ظاھر کر دیا۔اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر شوکت سلطان کے بقول فوج اپنی ضروریات کیلئے کہیں بھی جگہ لے سکتی ہے۔ 2003 میں سینیٹ میں رپورٹ پیش کی گئی جسکے مطابق فوج ملک بھر میں 27 بڑی ہاؤسنگ سکیمز چلا رہی ہے۔ عام لوگوں کو یہ حقیقت معلُوم نہیں کہ فوج کے تحت چلنے والے کاروباری ادارے خسارے، کرپشن اور بدانتظامی میں سٹیل مل اور پی آئی اے سمیت کسی سرکاری ادارے سے پیچھے نہیں۔ اِن کا خسارہ کم دکھانے کا طریقہ اندرونِ مُلک اور بیرونِ مُلک سے لیے ہُوئے قرضوں کو ایکُوئیٹی دکھا کر بیلینس شیٹ بہتر دکھانے کا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ آج کی تاریخ میں بھی خسارے میں ہیں۔یہ ایک ٹرینڈ ہے جو پچھلے 30 سال میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور ہر آڈٹ سے پہلے گورنمنٹ سے بیل آؤٹ پیکج نہ لیا جائے یا اندرونی و بیرونی قرضے نہ ہوں تو خسارہ ہر سال اربوں تک پہنچا کرے۔ لیکِن ہر گورنمنٹ خُود ان کو بیل آؤٹ پیکج دینے پر مجبور پاتی ہے اور جو دینے میں تامل کرے تو حکُومت گرنے کے اسباب ایسے پیدا ہوتے ہیں، جیسے بارش سے پہلے بادل آتے ہیں۔
لیکن سول حکُومتوں کو دفاعی بجٹ کے علاوہ آرمی کے کاروباروں کے لیے بھی اربوں روپوں کے بیل آؤٹ پیکج دینے پڑتے ہیں۔ ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشنز بھی سول بجٹ سے ادا کی جاتی ہیں۔ بیرونی قرضے اور اُنکا سُود وغیرہ ادا کر کے حکومت کے پاس جی ڈی پی کا کم و بیش % 40 بچتا ہے۔ پھر خسارہ پُورا کرنے اور ملک چلانے اور اگلے سال کے اخراجات کے لیے نیا قرض لیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا گھن چکر ہے جِس میں قوم آہستہ آہستہ ایسے پھنستی چلی جا رہی ہے کہ ہر گُزرتا سال پچھلے سال سے مُشکل ہوتا جا رہا ہے۔

Back to top button