پیپلز پارٹی نے لیول پلیئنگ فیلڈ کا واویلا کس خوف سے مچایا ؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ھے کہ ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کے واویلے سے یوں لگتا ہے جیسے پیپلزپارٹی کے پائوں تلے سندھ کی زمین بھی تھرتھرانے لگی ہے ۔ جب الیکشن سے مہینوں قبل ہی ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ نہ ملنے کو بیانیے کا درجہ دے دیا جائے تو جان لینا چاہئے کہ جلی حروف میں لکھا نوشتۂِ دیوار کمزور بصارت والی آنکھوں کو بھی دکھائی دینے لگا ہے۔ اپنے ایک کالم میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ لیول پلینگ فیلڈ‘‘ یعنی انتخابات میں تمام جماعتوں کے لئے یکساں اور منصفانہ مواقع کا مطالبہ، پیپلزپارٹی کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ عام طور پر اِس طرح کا واویلا انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد اُس وقت اٹھتا ہے جب جاگتی آنکھوں کے سَت رنگے خواب چکنا چُور ہو جاتے ہیں اور اولین نتائج کیساتھ ہی ایک دِل گرفتہ سی شام ہارنے والوں کے اُجاڑ خیموں میں آن اُترتی ہے۔ اِسکی سب سے واضح مثال 2013ء کی انتخابی شکست کے بعد عمران خان کا آتش فشانی ردّعمل تھا۔ خواب تراشوں اور پیغمبرانہ تمکنت کیساتھ الہامی لہجے میں پیش بینی کرنے والے مبصرینِ نے عمران کے دِل ودماغ میں نقش کردیا تھا کہ ایک بے پناہ طوفان بحیرہ عرب کے ساحلوں سے لگا کھڑا ہے جو 11 مئی کو اٹھے گا، نوازشریف سمیت سب کو خس وخاشاک کی طرح بہالے جائیگا۔ طفلانِ خود معاملہ کو لگام نہ ڈالی جاتی تو عین ممکن ہے کہ وہ سب 2013ءہی میں ہی ھو جاتا جو 2018ءمیں عمران خان کے لئے کیا گیا۔ انتخابی نتائج کے بعد، دھاندلی کا واویلا، ہارنے والوں کا شیوہ رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کی تالیفِ قلب کیلئے اس طرح کے جواز تراشتی رہتی ہیں۔ لیکن جب یومِ انتخاب سے مہینوں قبل ہی ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ نہ ملنے کو بیانیے کا درجہ دے دیا جائے تو جان لینا چاہئے کہ کسی متوقع افتاد کی آہٹ ابھی سے محسوس کی جانے لگی ہے اور جلی حروف میں لکھا نوشتۂِ دیوار کمزور بصارت والی آنکھوں کو بھی دکھائی دینے لگا ہے۔
عرفان صدیقی پوچھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی ایسا کیوں کررہی ہے؟ کیا ملک کے طول وعرض میں اُسکی مقبولیت کی دِل پذیر ہوائیں چل رہی تھیں جو اچانک راستہ بھول کر ’رائیونڈ‘ کی طرف نکل گئی ہیں؟ کیا رائے عامہ کے جائزے اسے پاکستان کے عوام کی پہلی ترجیح بتا رہے تھے؟ کوئی وجہ تو ہونی چاہئے کہ وہ وزارت عظمیٰ کی پالکی ’’بلاول ہائوس‘‘ میں اترتے دیکھنے لگی تھی کہ یکایک سارا کھیل بگڑ گیا۔ کابینہ میں بیٹھے دو تین بے ضرر سے وزیر اور نگران وزیراعظم کا پرنسپل سیکریٹری جو اَب مستعفی ہوچکا ہے ، اتنے طاقت ور نہیں ہوسکتے کہ پیپلزپارٹی جیسی عوامی جماعت کے سیلاب کا راستہ روک لیں۔ ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کی فریادِ یتیم میں، پی۔ٹی۔آئی کے کچھ بچے کھچے اور روپوش خیرخواہ بھی شامل ہیں جو خود کو ’’تحریکِ انصاف‘‘ کہتے ہیں لیکن اچھی طرح جانتے ہیں کہ اُن کے آشیانے کو خاکستر کر دینے والی بجلیاں کسی خفیہ منطقے نہیں، بنی گالہ اور زمان پارک کی آغوش میں پلتی رہیں۔ 9مئی، ایک سوچی سمجھی سازش اور بھرپور منصوبہ بندی کی کوکھ سے پھوٹا۔ آج جو قیمت پی۔ٹی۔آئی کو ادا کرنا پڑ رہی ہے وہ 9 مئی کی بھیانک واردات کے مقابلے میں کچھ ایسی بھاری بھی نہیں۔ ، اس تلاطم کے ذریعے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کو معزول کرنے کی سازش اور پھر نئی انقلابی فوجی قیادت کے زور پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنا۔ کیا اس سے بڑی کسی سازش یا بغاوت کا تصور کیا جاسکتا ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر 9مئی کی مکروہ سازش کو بھی معمول کی سیاسی سرگرمی، عمومی احتجاج، جمہوری استحقاق اور بنیادی حقوق کے زمرے میں ڈالاجاسکتا ہے تو تھیک ھے ، ورنہ یہ سب کچھ کرنے والی جماعت کے منہ سے ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کی آرزو ، مضحکہ خیز ہی لگتی ہے۔’لیول پلینگ فیلڈ‘ کی کمین گاہوں سے برسنے والے تیروں کا رُخ مسلم لیگ (ن) کی طرف ہے جسے شاید ہی کبھی یکساں منصفانہ انتخابی مواقع ملے ہوں۔ رواں صدی میں اب تک چار انتخابات ہوچکے ہیں۔ 2002ءکے انتخابات، پرویز مشرف کے زیراہتمام منعقد ہوئے جو نوازشریف کے خون کا پیاسا تھا۔ تب نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں جلا وطن تھے اور آصف زرداری جیل میں۔ ہر سُو نوزائیدہ مسلم لیگ (ق) کا طوطی بول رہا تھا۔ سو وہ سرخ قالین پہ چلتی مشرف کے آراستہ پیراستہ حُجلۂِ عروسی میں آبیٹھی۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ دوسرے انتخابات، 2008ء میں ہوئے۔ مشرف تب بھی اقتدار میں تھا۔ اُسکے ایما پر جنرل اشفاق پرویز کیانی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان معاملات طے پاگئے۔ مشرف کو بے وردی صدر رہنے اور پیپلزپارٹی کو سازگار انتخابی فضا کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ دئیے جانے کے عہدوپیمان ہوگئے۔ نوازشریف جلاوطنی ترک کرکے وطن آیا تو اُسے ایک بارپھر جدہ بھیج دیا گیا۔ مفاہمت کے نتیجے میں محترمہ پاکستان واپس آگئیں تو سعودی عرب نے نوازشریف کو پنجرے میں بند رکھنے سے انکار کردیا۔ نوازشریف الیکشن سے چند دن قبل واپس آگئے۔ این۔اے 120سے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرائے جو مسترد کردئیے گئے۔ شہبازشریف بھی انتخابات سے باہر کردئیے گئے۔ ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ پر ہیوی رولر پھیرکر ’پچ‘ پوری طرح تیار کردی گئی۔ محترمہ تو شہید ہوگئیں لیکن پیپلزپارٹی نے ’’ انتخابی مواقع‘‘ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اقتدار میں آگئی۔ تیسرے انتخابات 2013ءمیں ہوئے۔ تب آصف علی زرداری صدر تھے۔ بڑی ہُنرمندی سے انہوں نے اپنے قریبی دوست، میر ہزار خان کھوسو کو نگران وزیراعظم کے عہدے پر بٹھادیا۔ چاروں نگران وزرائے اعلیٰ بھی ان کے نامزد کردہ تھے۔ محترمہ کے ملٹری سیکریٹری رہنے اور صدر زرداری سے تین سال کی توسیع پانے والے اشفاق پرویز کیانی، آرمی چیف تھے۔ ’’پروجیکٹ عمران‘‘ کی کمان، جنرل پاشا سے جنرل ظہیرالاسلام کو منتقل ہوچکی تھی۔ یہ تھی وہ ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ جس میں نوازشریف نے الیکشن لڑا اور وزیراعظم بنا۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ چوتھے انتخابات 2018ءمیں اُس وقت ہوئے جب نوازشریف اور اس کی بیٹی اڈیالہ جیل میں قید تھے۔ جنرل باجوہ پروجیکٹ عمران کے سنہری بجرے پر سوار ہوچکے تھے اور ملک مسلم لیگ (ن) کے لئے جلتا بلتا ریگستان بنادیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اُس نے نہ ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کی دہائی مچائی نہ بائیکاٹ کیا۔ انتخابات، تین ماہ دور ہیں اور پیپلزپارٹی یوں ماتم کناں ہے جیسے یومِ انتخابات کی سوگوار شام ابھی سے اُس کے آنگن میں اتر آئی ہے۔ زرخیز موسموں میں چراگاہ کی سب سے شاداب اور معطر گھاس سے شکم سیر ہونے کے باوجود، رُت بدلتے ہی اپوزیشن کا رُوپ دھار کر سولہ ماہی اقتدار پر تبرّیٰ بھیجنا ، مشترکہ مفادات کونسل میں نئی مردم شماری کے مطابق انتخابات کی خوش دلانہ تائید وحمایت کے فوراً بعد ’’فوری انتخابات‘‘ کے نعرے لگانا، تقاضائے سیاست سہی، لیکن ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ کے واویلے سے یوں لگتا ہے جیسے پی پی پی کے پائوں تلے سندھ کی زمین بھی تھرتھرانے لگی ہے۔
