چاند کی سیر کیلئے جانے والی پہلی پاکستانی خاتون کون؟

پاکستانی ایڈونچر خاتون نمرہ سلیم پاکستان کی پہلی ایسی خاتون کا اعزاز حاصل کرنے والی ہیں جوکہ چاند کیلئے اپنے سفر کا آغاز کرنے والی ہیں، دبئی میں مقیم پاکستانی ایڈونچرر نمیرہ سلیم اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے 17 سال کے انتظار کے بعد 5 اکتوبر کو نجی کمرشل سپیس فلائٹ کے ساتھ خلائی سفر کا آغاز کریں گی، وہ ملک کی پہلی خاتون خلاباز ہوں گی جو اس تاریخی سفر کا حصہ بنیں گی۔کیلیفورنیا میں ورجن گیلیکٹک کے نام سے نجی خلائی پرواز کمپنی 2004 میں قائم ہوئی تھی، یہ کمپنی اگلے ماہ چوتھی خلائی پرواز شروع کرے گی جس میں امریکا، برطانیہ اور پاکستان سے تین خلائی سیاح سفر کریں گے، پاکستان سے نمیرہ سلیم خلا کا سفر کرکے پہلی پاکستانی خاتون کا اعزاز حاصل کرکے تاریخ رقم کریں گی۔نمیرہ سلیم کے پاس اپریل 2007 میں قطب شمالی اور جنوری 2008 میں قطب جنوب تک پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا بھی اعزاز موجود ہے، یہی نہیں نمیرہ سلیم کو 2008 میں ماؤنٹ ایورسٹ پر اسکائی ڈائیو کرنے والی پہلی ایشیائی اور پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔نمیرہ سلیم نے عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ جنوری 2006 کو میں نے ورجن گیلیکٹک کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور ایک ٹکٹ خریدا تھا، لیکن اس وقت کون جانتا تھا کہ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے 17 سال لگیں گے، گزشتہ ہفتے میں نے آفیشل طور پر سبز پرچم لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا، اپنے سبز پرچم کو بلندی تک پہنچانا میرے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔2006 میں خلائی سفر کا ٹکٹ خریدنے کے لیے 2 لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے، اور اب اس کی موجودہ قیمت 4 لاکھ 50 ہزار ڈالرز ہوچکی ہے۔نمیرہ سلیم کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ اسپیس میرے ڈی این اے میں ہے، میں جب بہت چھوٹی تھی تو میں اپنے والدین سے کہتی تھی کہ مجھے کھلونوں سے نہیں کھیلنا، میں اسپیس میں جانا چاہتی ہوں، پاکستان کو نئے خلائی ممالک (جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب) سے کچھ سیکھنا چاہیے جو انسانوں کو خلا کا سفر کرنے کا مواقع فراہم کرنے کے لیے کمرشل خلائی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔مستقبل کے منصوبوں سے متعلق بات کرتے ہوئے نمیرہ سلیم نے یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ مل کر تین یونٹ والے کیوب سیٹلائٹ کی تیاری کے منصوبے کا ذکر کیا، یہ پراجیکٹ زیرو جی 2030 کہلاتا ہے جو خلا میں پہلے امن مشن کی نمائندگی کرتا ہے جہاں ہم طلباء کے بنائے ہوئے سیٹلائٹ میں امن کے پیغامات زمین کے مدار سے بھی آگے لے جائیں گے، جن یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ وہ اس پراجیکٹ میں کام کریں گی وہ کینیا میں نیروبی یونیورسٹی اور امریکا میں ایریزونا یونیورسٹی شامل ہیں۔
