چیف الیکشن کمشنرعمران کے خلاف سپریم کورٹ کیوں چلے گئے


چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے تحریری استدعا کی ہے کہ عمران خان کے حق میں دیا جانے والا ہائی کورٹ کا حکم امتناعی خارج کیا جائے تا کہ موصوف کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی فرد جرم عائد کی جا سکے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے 25 اکتوبر کوسپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال سے استدعا کی کہ تحریک انصاف نے عدالتوں سے توہین الیکشن کمیشن کیس میں جو حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے، اسے خارج کیا جائے تاکہ الیکشن کمیشن ایکٹ 217 کے سیکشن 210 اور آئین کے آرٹیکل نمبر 204 کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن حکم امتناعی خارج کروانے کے بعد عمران خان پر توہین الیکشن کمیشن کے الزام میں فرد جرم عائد کرنا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ توہین الیکشن کمیشن کے کیس میں ملزمان عمران احمد خان نیازی، اسد عمر، اور فواد چوہدری کے نام شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انہیں سکندر سلطان راجہ پر بے بنیاد الزامات لگانے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کر رکھا ہے جس پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے اور اس کی آڑ میں اب بھی مسلسل الیکشن کمشنر پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے ذریعے الیکشن کمیشن اس حکم امتناعی کو خارج کروا کر ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کرنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ توہین الیکشن کمیشن کرنے والے کو تین سال قید کی سزا دینے کے علاوہ بطور رکن پارلیمنٹ نااہل بھی کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب باخبر ذرائع کے مطابق الیکشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا اپنا فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کو بھجوانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے تاکہ انکے خلاف تادیبی کارروائی بھی شروع کی جا سکے۔

اس سے پہلے عمران احمد خان نیازی نے اپنے وکیل بیرسٹرعلی ظفر کے ذریعے الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ 24 اکتوبر کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے فاضل وکیل نے استدعا کی کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو فوری طور پر کالعدم قرار دیں۔ لیکن بطور سپریم کورٹ کے جج نامزد ہو جانے والے اطہر من اللہ نے کہا کہ جب تک اپیل کنندہ الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ فیصلے کی مصدقہ نقل اپیل کے ساتھ منسلک کر کے دوبارہ درخواست نہیں دیتا، تب تک عدالت ایک آئینی ادارے یعنی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری نہیں کر پائے گی۔ ذرائع کے مطابق اس کیس کی اگلی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل آف پاکستان کریں گے۔

Back to top button