چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کابطور ایڈہاک جج حلف لینےسے پھر انکار

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ نےایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کے طور پر حلف لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کی حمایت میں تمام وکلا تنظیموں نے منگل کو مکمل عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔
یاد رہے کہ ان کی جانب سے تین دفعہ حلف سے انکار کے باوجود انہیں 17 اگست کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کی حیثیت سے حلف اٹھانے کا دعوت نامہ ارسال کیا گیا ہے جس کے جواب میں انہوں نے ایک خط کے ذریعے صدر پاکستان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ بطور ایڈہاک جج سپریم کورٹ حلف لینے سے انکاری ہیں اور باقاعدہ صدر اور چیف جسٹس کو اس سے آگاہ کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق بھی کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کو سپریم کورٹ میں بھجوانے کے لیے چیف جسٹس کو متعلقہ ہائی کورٹ کہ چیف جسٹس کی منظوری درکار ہوتی ہے لہذا وہ آئین کے تحت بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کا حلف لینے سے انکاری ہیں۔
یاد رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک سال کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی بطورایڈہاک جج سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دے دی ہے تاہم جسٹس احمد علی شیخ 2 بار چیف جسٹس کو خط کے ذریعے بطور ایڈہاک جج سپریم کورٹ آنے سے انکار کرچکے ہیں جبکہ ایک بار پھر انھوں نے ایڈہاک جج کے طور پر حلف لینے سے انکار کر دیا ہے۔
جسٹس احمد علی شیخ نے صدر مملکت اورچیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کو خط لکھا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج تعیناتی کیلئے چیف جسٹس ہائیکورٹ کی منظوری ضروری ہے اور میں بطورایڈہاک تعیناتی سے اپنے تین خطوط کے ذریعےمعذرت کرچکا ہوں۔ان کا کہنا تھاکہ ایڈہاک جج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن غیرقانونی ہے لہٰذا سپریم کورٹ میں کل ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں حلف نہیں لوں گا۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی طرف سے صدر پاکستان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کو ارسال کئے گئے خطوط میں کہا گیا ہے کہ حلف برادری کے نوٹی فکیشن سے متعلق رجسٹرار نے مجھے دوپہر کو آگاہ کیا، تین خطوط کے ذریعے بطور ایڈہاک جج تعینات سے انکار کرچکا ہوں۔جسٹس احمد علی شیخ نے خط میں مزید کہا ہے کہ میرے انکار کے بعد نوٹی فکیشن غیر قانونی ہے، اطلاعاً عرض ہے کل ہونے والی حلف برادری کی تقریب میں شریک نہیں ہوں گا۔
ان خطوط میں انہوں نے واضح کیا کہ ’سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی سے قبل ان کی رائے نہیں لی گئی نہ ہی انہیں اس بارے میں پیشگی آگاہ کیا گیا، حالانکہ جج کی تعیناتی سے قبل اس سے پوچھنا ضابطے کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔‘جسٹس احمد علی شیخ نے خطوط میں موقف اختیار کیا کہ ’انہوں نے بارہا تحریری طور پر اس عہدے پر تعیناتی سے انکار کیا ہے۔اس کے علاوہ وہ زبانی طور بھی اپنے فیصلے سے چیف جسٹس پاکستان کو آگاہ کر چکے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ وہ اب 17 اگست کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی حلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔‘
اس سے قبل جسٹس احمد علی شیخ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایڈہاک جج بن کر سپریم کورٹ میں تعینات ہونے پر رضامند نہیں، البتہ اگر انہیں مستقل طور پر ترقی دے کر سپریم کورٹ کا جج بنایا جاتا ہے تو وہ یہ عہدہ ضرور قبول کریں گے۔‘
اسی ضمن میں سندھ بار کونسل، سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشنز نے جسٹس احمد علی ایم شیخ کی حمایت میں منگل کو مکمل عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔وائس چیئرمین سندھ بار کونسل ضیاء الحسن لنجار کے مطابق وکلا منگل کو صوبے بھر کی عدالتوں میں پیش نہ ہوں، سندھ ہائی بار کونسل کو ایڈہاک جج تعیناتی پر سخت تحفظات ہیں۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عمر سومرو نے کہا ہے کہ وکلا منگل کوعدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ کو ایڈہاک جج تعینات کرنا سپریم کورٹ کے فیصلوں کی نفی ہے۔اسی طرح کراچی بار نے بھی منگل کو تمام ضلعی عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ کراچی بار کا کہنا ہے کہ جسٹس احمد علی ایم شیخ کو سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کرنے پر شدید تحفظات ہیں۔

دوسری طرف جسٹس محمد علی مظہر نے بطور سپریم کورٹ جج حلف اٹھالیا۔جسٹس محمد علی مظہر سے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے حلف لیا۔ تقریب حلف برداری میں ججز، سرکاری لا افسران، وکلا اور عدالتی اسٹاف نے شرکت کی۔جسٹس محمد علی مظہر کے حلف اٹھانے کے بعد سپریم کورٹ میں 17 ججز کی تعداد پوری ہو گئی۔پاکستان بار کونسل نے جسٹس علی مظہر کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت کردی
خیال رہے کہ جسٹس محمد علی مظہر کو سندھ ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ لایا گیا ہے جبکہ ان کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی پاکستان بار کونسل نے مخالفت کی ہے۔
