چیف سلیکٹر انضمام الحق نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟

پاکستان کرکٹ ٹیم اور کرکٹ بورڈ کے درمیان تنازعات نے سیاسی شکل اختیار کرلی ہے جس نے عالمی ٹورنامنٹ کے اہم اسٹیج پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی ساکھ کو داؤ پر لگادیا ہے.پاکستانی ٹیم ابھی ورلڈکپ سے باہر نہیں ہوئی لیکن کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکاء اشرف کے بیانات، انٹرویوز اور اقدامات نے معاملات کو انتہائی متنازع بنادیا ہے. پاکستان کرکٹ ٹیم پر پہلے ہی کارکردگی کی وجہ سے تنقید ہورہی تھی اب بین الاقوامی میڈیا پر کرکٹ بورڈ ذمہ داران کے بیانات اور ایکشن کے بعد پاکستان کا مذاق اڑایا جارہا ہے، ان تنازعات کے درمیان قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے.پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نےاپنے اوپر مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق الزامات پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے دوران ہی عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں جبکہ کرکٹ بورڈ نے ان کا استعفی قبول کر لیا ہے۔
انضمام الحق نے سما ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ اپنے خلاف مفادات کے ٹکراؤ پر قائم کمیٹی کی تحقیقات تک عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’اگر میرے پر سوال اٹھے گا تو بہتر ہے کہ میں سائیڈ پر ہوجاؤں۔۔۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔‘انضمام نے مزید کہا کہ ’لوگ بغیر تحقیق کے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ جس نے بات کی ہے اسے ثبوت بھی دینے چاہییں۔۔۔ کسی پر بھی ایسے الزامات لگیں تو دُکھ ہوتا ہے۔‘
دوسری جانب پی سی بی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ میڈیا پر گذشتہ کئی دنوں سے یہ باتیں زیرِ بحث تھیں کہ انضمام بطور چیف سلیکٹر کھلاڑیوں کے ایجنٹس کی ایک کمپنی میں شیئر ہولڈر ہیں جس سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے اور بورڈ نے اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے ذریعے آئندہ دنوں میں حقائق سامنے آجائیں گے۔ان کے مطابق انضمام نے خود اپنا استعفیٰ پیش کیا اور اگر ان کا نام کلیئر ہو جاتا ہے تو وہ اس عہدے پر دوبارہ آ جائیں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کو 7 اگست 2023 کو قومی مینز سلیکشن کمیٹی کا چیف سلیکٹر مقرر کیا گیا تھا اور رواں ماہ کے شروع میں انھیں جونیئر مینز سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین بھی مقرر کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم پر جہاں ورلڈ کپ میں لگاتار چار میچوں میں شکست پر تنقید کی جا رہی ہے وہیں یہ معاملہ بھی زیر بحث رہا ہے کہ چیف سلیکٹر انضمام الحق پلیئرز مینجمینٹ کی ایک کمپنی ’یازو انٹرنیشنل لمیٹڈ‘ کے شیئر ہولڈرز میں شامل ہیں جس سے مفادات کے ٹکراؤ کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
گذشتہ روز چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف سے اے آر وائی کو دیے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا تھا کہ پلیئرز ایجنٹ طلحہ رحمانی کی کمپنی میں انضمام شیئر ہولڈر ہیں اور ٹیم کے آٹھ کھلاڑیوں کو وہ مینج کرتے ہیں تو کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ذکا اشرف نے جواب دیا تھا کہ ’یہ بظاہر مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم نے سوچا ہے چیف سلیکٹر کو بُلا کر وضاحت مانگیں گے۔۔۔ اگر سات، آٹھ کھلاڑی قابو کیے ہوئے ہیں تو پھر سلیکشن بھی وہی کروا رہا ہو گا۔‘چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ بورڈ میں ایک نیا قانون لانا ہو گا کہ کسی ایجنٹ کے پاس دو سے زیادہ کھلاڑی نہ ہوں۔ ’ایسے تو یہ ٹیم سلیکشن ہونے نہیں دیں گے، یہ سنجیدہ مسئلہ ہے۔‘
خیال رہے کہ پلیئرز ایجنٹ طلحہ رحمانی سایہ کارپوریشن کے سربراہ بھی ہیں جس کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک ایتھلیٹ مینجمینٹ کمپنی ہے جسے سنہ 2014 میں قائم کیا گیا اور یہ ’پاکستان نیشنل ٹیم کے 70 فیصد حصے کی نمائندگی کرتی ہے‘ جس میں کپتان بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی اور فخر زمان شامل ہیں۔برطانوی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق طلحہ رحمانی کی ایک دوسری کمپنی یازو انٹرنیشنل لمیٹڈ میں انضمام الحق اور محمد رضوان شیئر ہولڈرز ہیں۔دوسری طرف سایہ کارپوریشن کے مطابق اس کمپنی میں کسی بھی موجودہ یا سابقہ کھلاڑی کے شیئرز نہیں ہیں اور ’ہم آمدن یا ڈیویڈنٹس کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر نہیں کرتے۔‘
بعض سابق کھلاڑیوں نے انضمام کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔سابق کپتان شاہد آفریدی نے انضمام کے اس فیصلے کو ’زبردست‘ قرار دیا اور کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف تحقیقات میں کچھ سامنے نہیں آتا تو وہ اس کرسی پر واپس آ سکتے ہیں۔سما ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے سابق سپنر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ فیصلہ عزت کی بنیاد پر لیا گیا کیونکہ حالیہ عرصے میں میڈیا پر لوگوں نے انضمام کے بارے میں بہت سی باتیں کی ہیں۔’وہ پاکستان کے کپتان رہ چکے ہیں اور انھوں نے پاکستان کے لیے سب سے زیادہ رنز کیے ہیں۔ وہ چیف سلیکٹر بن کر پاکستان کی خدمت کرنے آئے تھے۔ آپ کارکردگی پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن ذاتی زندگی پر حملوں سے انزی ہرٹ ہوا ہے۔ جس کے بعد انھوں نے استعفی دینے کا فیصلہ کیا۔
