چینی انجینئرز پر حملے کے 2 ماہ بعد بھی داسو ڈیم پر کام بند

داسو پاور پروجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی بس پر حملے کے دو ماہ بعد بھی منصوبے پر کام دوبارہ شروع نہیں ہو پایا چونکہ پاکستانی حکام چینی کنسٹرکشن کمپنی کے سیکیورٹی خدشات دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔

واپڈا ذرائع کے مطابق داسو منصوبے پر کام مکمل طور پر بند ہے۔ اس سے پہلے اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنر محمد عارف یوسفزئی نے اس منصوبے پر تعمیراتی کام زور وشور سے سروع ہونے کا دعویٰ کیا تھا جو اب جھوٹا ثابت ہوا ہے۔ واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ چینی کمپنی گیژوبا گروپ کارپوریشن نے 14 جولائی 2021 کو ہونے والے واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم معاوضے کی نوعیت یا تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

اس کے علاوہ چینی کمپنی کے سیکیورٹی خدشات بھی دور نہیں ہو پائے ، حکام کا مؤقف ہے کہ اس سلسلے میں چینی کمپنی کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور حکومتِ چلد معاوضے کی ادائیگی کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کر لے گی۔ واپڈا کے ترجمان رانا عابد نے بتایا کہ داسو حملے میں ہلاک ہونے والے چینی انجینئرز کے متبادل کا بندوبست کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ اُن کے بقول سیکیورٹی پلان تشکیل دیا جا چکا ہے جبکہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کی سربراہی میں قائم سٹیئرنگ کمیٹی بھی ڈیم کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے کا معاملہ دیکھ رہی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت بھی اِس بارے میں چینی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ منصوبے پر کام دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ 14 جولائی کو داسو ہائیڈرو پاور منصوبے پر چینی انجینئرز اور مقامی ملازمین پر مشتمل تعمیراتی ٹیم کو رہائشی کیمپوں سے کام کی جگہ لے کر جانے والی بس کو ایک خودکش کار سوار نے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں نو چینی باشندوں سمیت 13 افراد ہلاک جب کہ 28 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے نتیجے میں نہ صرف اس ڈیم پر چند دنوں کے لیے تعمیری کام کا سلسلہ متاثر ہوا تھا بلکہ اس سے پاکستان بھر میں مختلف علاقوں میں تعمیری اور کاروباری شعبوں سے منسلک چینی باشندوں کی سیکیورٹی کے بارے میں تشویش کی لہر پیدا ہوئی تھی۔ تاہم بعد میں حکومتِ پاکستان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک ہونے اور چینی باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں سی پیک منصوبوں سمیت لگ بھگ 45 چینی کمپنیاں مختلف تعمیراتی منصبوں پر کام کر رہی ہیں۔ 14 جولائی کو پیش آنے والے واقعے کو پاکستان حکام نے ابتداً ایک حادثہ قرار دیا تھا مگر بعد ازاں مفصل تحقیقات کے بعد ا سے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد چینی حکام نے پاکستان پر واضح کیا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ ان کے ملک میں سرمایہ لے کر آئیں اور بدلے میں انہیں اپنے لوگوں کی لاشیں واپس لے جانا پڑیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی تسلیم کیا ہے کہ داسو میں چینی انجینئرز پر خودکش حملے میں ہونے والی اموات کے بعد پاکستان کی جانب سے جلد بازی میں اسے ایک حادثہ قرار دینے پر چین ہم سے ناراض ہے۔

Back to top button