کپتان بابر اعظم کی پرسنل چیٹ کس نے اور کیوں لیک کروائی؟

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کی چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ لیک کرنے پر سابق کرکٹرز نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے، قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بائولر وقار یونس نے بھی اس حوالے سے اپنی آواز اُٹھا دی۔گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی نے ایک نجی ٹی وی کے شو میں بابراعظم کی سی ای او سلمان نصیر کے ساتھ پرسنل چیٹ دکھائی جسے لائیو شو کے دوران ٹی وی پر نشر بھی کیا گیا۔اس معاملے پر پروگرام کے میزبان نے سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم یہ چیٹ نہیں دکھانا چاہتے تھے لیکن جب ذکا اشرف نے لائیو شو کے دوران کہا کہ آپ دکھائیں تو اس وقت ہم نے اسے دکھانے کا فیصلہ کیا جو کہ ہمیں نہیں کرنا چاہئے تھا، اگر ہمارے اس اقدام سے کسی کی بھی دل آزاری ہوئی ہے تو ہم اس پر معذرت خواہ ہیں۔قومی ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی کی جانب سے بھی بابراعظم کی واٹس ایپ چیٹ لیک کرنے کے معاملے پر سوال اٹھایا گیا کہ کیا چیٹ دکھانے سے پہلے بابر اعظم سے اجازت لی گئی، اب پاکستان کے سابق فاسٹ باولر وقار یونس نے بھی سوشل میڈیا پر اس معاملے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال پوچھا کہ یہ کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں آپ لوگ؟ وقار یونس نے نجی ٹی وی کے پروگرام کا کلپ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ایک نہایت ہی مضحکہ خیز عمل ہے، سابق فاسٹ باولر نے لکھا کہ خوش ہو گئے آپ لوگ، برائے مہربانی بابراعظم کو اکیلا چھوڑ دیں، وہ پاکستان کرکٹ کا ایک اثاثہ ہیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل قومی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے قومی ٹی وی کے ایک شو میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف، سی ای او سلمان نصیر اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ کو میسجز کر رہے ہیں لیکن کرکٹ بورڈ کے تینوں بڑے انہیں نظر انداز کر رہے ہیں۔اس کے بعد ذکا اشرف نے راشد لطیف کے بیان کی تردید کرتے ہوئے اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ بابراعظم نے کبھی بھی ان سے براہ راست رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی، راشد لطیف کہتے ہیں کہ میں بابر اعظم کا فون نہیں اٹھا رہا، ٹیم کا کپتان ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ یا پھر سی ای او کے ذریعے رابطہ کرتا ہے۔لیکن ہونے والی واٹس ایپ چیٹ میں سی ای او سلمان نصیر کے میسیج کے جواب میں بابراعظم کہتے ہیں کہ سلمان بھائی، میں نے سر (ذکا اشرف) کو کوئی کال نہیں کی۔قومی ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی نے بھی نجی ٹی وی کے ایک پروگرام کے دوران یہی سوال اٹھایا کہ کیا چیئرمین پی سی بی یا پروگرام کرنے والی ٹیم نے بابر اعظم کا میسیج ٹی وی پر چلانے سے پہلے ان کی اجازت لی تھی؟
تاہم دوسری جانب تازہ اطلاعات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکاء اشرف نے لیک کی اور ٹی وی پر دکھانے کی اجازت بھی دی۔کرکٹ ویب سائٹ "کرکٹ پاکستان ” کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ ذکاء اشرف بابر اعظم کی کالز اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے ان سے رابطہ کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے جواب میں، ذکاء اشرف نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کپتان نے کبھی ان سے براہ راست رابطہ نہیں کیا۔انہوں نے واضح کیا، "راشد لطیف کہتے ہیں کہ میں بابر اعظم کافون نہیں اٹھاتا، اس نے مجھے کبھی فون نہیں کیا۔ ٹیم کے کپتان کو ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ یا چیف آپریٹنگ آفیسر سے بات کرنا ہوتی ہے۔
ذکاء اشرف کی جانب سے بابر کی جانب سے کسی بھی رابطے سے انکار کے باوجود انہوں نے انٹرویو لینے والے کے ساتھ بابر اعظم کا ذاتی واٹس ایپ پیغام شیئر کرکے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لائیو ٹی وی پروگرام میں نشر ہونے والے واٹس ایپ میسجز بابراعظم اور پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر کے درمیان تھے۔ گفتگو میں سلمان نصیر کے پیغام میں مبینہ طور پر کہا گیا، "بابر، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ آپ چیئرمین کو فون کر رہے ہیں اور وہ جواب نہیں دے رہے، کیا آپ نے انہیں حال ہی میں فون کیا ہے؟” میزبان کے مطابق بابر نے جواب دیا، ’’سلام سلمان بھائی، میں نے سر کو کوئی فون نہیں کیا۔یہ واضح نہیں ہے کہ آیا بابر نے پی سی بی کے سربراہ کے اقدامات کے بارے میں اخلاقی سوالات اٹھاتے ہوئے اپنا ذاتی پیغام لائیو ٹی وی پر شیئر کرنے پر رضامندی ظاہر کی یا نہیں کیوں کہ نجی پیغامات کو لیک کرنے کو رازداری کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تاہم مذکورہ شو کے پریزینٹر، وسیم بادامی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بابر کے ساتھ واٹس ایپ گفتگو کا انکشاف کرکے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ ابتدائی طور پر گفتگو کو ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ تھی لیکن چونکہ پی سی بی کے سربراہ نے انہیں اسکرین پر دکھانے کی اجازت دی تھی اس لیے انہوں نے بالآخر اسے نشر کرنے کا انتخاب کیا۔ اس کے باوجود، بادامی نے اس بات پر زور دیا کہ بات چیت کو نشر کرنا چینل کی طرف سے کیا گیا ایک غلط فیصلہ تھا۔
