کپتان جھوٹے اور دھوکے باز واوڈا کو سینیٹر کیوں بنوا رہا ہے؟

معلوم ہوا ہے کہ کپتان کے قریبی ساتھی فیصل واوڈا کو اس لئے سینٹر بنوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی دوہری شہریت کے معاملے پر جھوٹا ثابت یو جانے کے بعد نااہلی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ لہذا یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ان کو سینٹ کا ٹکٹ دیا جائے تاکہ وہ وہ بطور ممبر قومی اسمبلی نااہلی کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیں۔
ناقدین کی جانب سے فیصل واوڈا کو سندھ سے جنرل نشست پرسینیٹ کا ٹکٹ دیئے جانے پر یہ کہہ کر تنقید کی جا رہی ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت اپنی دوہری شہریت کے حوالے سے جھوٹ بولنے والے کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی بجائے عمران خان نے ان کو سینیٹ کا ٹکٹ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ ان کی نظر میں میرٹ اور اصول کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور جھوٹ بولنا انکے نزدیک جائز یے۔ تحریک اںصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کو قومی اسمبلی کا رکن ہونے کے باوجود اس لئے سینیٹر بنوایا جا رہا ہے کہ یوں انہیں دوہری شہریت سے متعلق الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری کیسز کا مزید سامنا نہیں کرنا پڑے گا یعنی قومی اسمبلی کی سیٹ سے استعفے کے بعد الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ انہیں نااہل قرار نہیں دے گی۔ ایوان بالا کا رکن منتخب ہونے کے بعد انہیں وزارت بھی واپس مل جائے گی۔
تحریک انصاف کی جانب سے سینیٹ امیدواروں کا اعلان وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کیا جس میں انھوں نے بتایا کہ فیصل واوڈا کو سندھ سے سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ فیصل واوڈا پارٹی کی ایک مضبوط آواز ہیں اور سینیٹ میں ان کی ضرورت تھی اس لیے ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوہری شہریت کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ اس حوالے سے دو رائے ہیں۔ انھوں نے شہریت چھوڑنے کے فیصلے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کر دیا تھا لیکن دستاویزات بعد میں دی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ جب انہوں نے الیکشن کمیشن کو آگاہ کر دیا تھا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے فیصل واوڈا کو سندھ سے سینیٹ کے لیے ٹکٹ جاری کرنے کے اعلان کے بعد سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کو سینیٹ کے لیے نامزد کرنے کا مطلب ہے کہ ’تحریک انصاف کی قیادت جانتی ہے کہ فیصل واوڈا نے دوہری شہریت کیس میں الیکشن کمیشن اور عدالت کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا اور یوں وہ کپتان کی طرح صادق اور امین بھی نہیں رہے لیکن پھر بھی انھیں نا اہلی سے بچانے کے لیے سینیٹ کی سیٹ سے الیکشن لڑوا کر قومی اسمبلی سے استعفیٰ دلوایا جا رہا ہے تاکہ یہ معاملہ دب سکے۔
اس سے پہلے یہ تاثر بھی عام ہے کہ حقائق سامنے ہونے کے باوجود فیصل واوڈا نااہلی کیس کا فیصلہ کرنے کی بجائے عدالت نے حکومتی وزیر کے خلاف دوہری شہریت نااہلی کیس میں انصاف کا دوہرا معیار اپنایا اور لمبی لمبی تاریخیں ڈال کر معاملہ لٹکایا گیا جس کے بعد فیصل واوڈا سینیٹ انتخابات میں حصہ لے کر نظام انصاف کے منہ پر تھپڑ رسید کرنے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ فیصل واوڈا کے خلاف الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوہری شہریت میں نااہلی کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔ ان درخواستوں کی سماعت کے موقع پر فیصل واوڈا کی جانب سے ہر دفعہ التوا مانگ لیا جاتا ہے۔ فیصل واوڈا کو حال ہی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پچاس ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے اور ان کے تاخیری حربوں سے تنگ آکر عدالت عالیہ ان کے خلاف سخت ریمارکس بھی دے چکی ہے۔ ایک مرتبہ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے واوڈا کے وکیل سے کہا تھا کہ آپ کے موکل کا رویہ درست نہیں ہے، آٹھ سے دس سماعتیں ہو چکی ہیں، مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں ان سے جواب کس طرح لوں۔ یہ نوٹس کی کاپی کابینہ کو بھیج دیتا ہوں وہیں سے جواب آ سکتا ہے۔ ایک بار یہاں تک کہا گیا کہ فیصل واوڈا عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی نہ کھیلیں۔اس کیس کی 4 نومبر2020 کی سماعت پر بھی فیصل واوڈا کے تاخیری حربوں سے تنگ آکر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے تھے کہ فیصل واڈا الیکشن کمیشن کے روبرو نااہلی کیس میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگا ہوا ہے اور جب یہاں ان سے پوچھا جاتا ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ میرا کیس تو الیکشن کمیشن کے پاس زیر سماعت ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا 2018ء کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت امریکی شہری تھے اور ان کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جانے والا حلف نامہ جعلی تھا کیونکہ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ 11 جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔ فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا تھا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم دستاویزات سے ثابت ہوا جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے وہ امریکی شہری تھے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے تو واوڈا نااہل ہوسکتے ہیں لیکن واوڈا پیسہ اور غیر مرئی قوتوں کے بل پر دو سال تک اس کیس کو لٹکاتے رہے اور اب قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑ کر یہ باب ہمیشہ کے لئے بند کرنے کے خواہاں ہیں۔
ٹویٹر صارف عاصم خان نے ٹویٹ کیا کہ فیصل واوڈا کو سینیٹ میں لانے کے فیصلے کے نہایت ہی گہرے مضمرات ہوسکتے ہیں۔ صادق سنجرانی کا بہترین نعم البدل بننے کی اہلیت ہے تو دوسری طرف قومی اسمبلی میں نشست جیت سکیں نہ جیت سکیں مگر انہیں پارلیمان میں مزید چھ سال دلوا کر بہت سے معاملات انجام پا سکتے ہیں۔ایک اور صارف سعود سامی نے لکھا کہ غیر ملکی شہریت چھپانے پر نااہل ہونے کے اندیشے کے پیش نظر اب فیصل واوڈا کو سینیٹ میں اکاموڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ جھوٹ بول کر منتخب ہونے والا سینیٹ کی رکنیت کے لئے صادق اور امین قرار پائے گا کیونکہ اس کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button