کیا عمران سے تحفوں بارے پوچھنا ملک کے خلاف سازش ہے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف نے غیر ملکی تحائف کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ مضحکہ خیز مؤقف اپنایا ہے کہ ایسا کرنا ملکی وقار کے منافی ہوگا۔ لندن میں خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہمارے دور میں جب بیرون ممالک سے تحائف آتے تھے تو ان کا باقاعدہ اندراج ہوتا تھا اور ان کو جمع کروایا جاتا تھا جبکہ موجودہ دور حکومت میں میرے خلاف توشہ خانہ کا نیب ریفرنس بھی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا لیکن منافقت اور دوغلا پن یہ ہے کہ جب خود عمران خان سے غیر ملکی تحفوں کی تفصیل بارے پوچھا گیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ملکی وقار کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے لیکن سابق وزرائے اعظم کی طرح عمران خان کو بھی غیر ملکی تحائف کی ساری تفصیلات قوم کے سامنے لانا ہوں گی۔
لندن سے ویڈیو لنک پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ عمران تم کہتے ہو کہ تحائف کی تفصیل دینے سے ملکی وقار مجروح ہوتا ہے، تم کیسے انسان ہو؟ کیا تم قوم کو بُدھو سمجھتے ہو؟ یہ ملکی قانون ہے کہ جب وزیر اعظم کو بیرون ملک سے کوئی تحفہ ملے گا تو اس کو ڈکلیئر کرنا پڑتا ہے، ہم نے اپنے دور میں ایسا ہی کیا۔ تم قوم کو پاگل سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے اور نیب کو عمران خان کے خلاف کیس درج کرنا چاہیے، میں کہتا ہوں کہ تم چور ہو، تم نے ڈاکہ ڈالا ہے، شرم کی بات ہے کہ ایک چوری اور اسکے بعد سینہ زوری، اب تم کہتے ہو کہ ملکی وقار مجروح ہوتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ ملکی وقار تو تم مجروح کررہے ہو، پہلے تم نے ووٹ چوری کیے اور اب قومی خزانہ چوری کر رہے ہو۔
النی جذباتی تقریر میں نواز شریف نے کہا کہ عمران خان! تمہیں اور تمہارے لانے والوں کو کیا پتا کہ کل کیا ہونے والا ہے؟ مہنگائی کہ وجہ سے لوگ تمھاری جان کو رو رہے ہیں اور دن رات گالیاں دیتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ملکی سیاست میں بار بار کی مداخلت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس روش سے ملک آگے نہیں بلکہ پیچھے کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہمارے ملک میں نہ تو آئین کی پاسداری ہے اور نہ پارلیمنٹ کی عزت ہے۔ ہمارے درمیان بہت سے لوگ بیٹھے جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں لیکن ان کو ایک منٹ میں فارغ کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کو ایک روز بندوق کی نوک پر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔
نواز شریف نے بتایا کہ بارہ اکتوبر 199 کو جنرل محمود، بندوق بردار فوجیوں کیساتھ مجھے گرفتار کرنے میرے بیڈ روم میں گھس آیا، اس دوران مجھے کلثوم نواز کا فون آیا تو جنرل محمود نے کہا کہ "کاٹو فون، کاٹو تاریں۔ پکڑو اسکو۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا منتخب وزیر اعظم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟ کیا فوج اسلیے ہوتی ہے کہ اپنے ہی وزیراعظم کو گرفتار کرے۔ نواز شریف نے کہا کہ آج بیرونی دنیا کہہ رہی ہے کہ عمران کی اہمیت اسلام آباد کے میئر سے زیادہ نہیں ہے، یعنی اس عہدے کی اتنی بےتوقیری؟ یہ سب اسی لیے ہوا کہ ہمارے ڈکٹیٹروں نے مارشل لا لگا لگا کر ہمیشہ اپنے ہی وزیر اعظم ہاؤس کو فتح کیا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ اس ملک میں وزیراعظم کو اقامے یا بھینس چوری کے مقدمے میں گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم کو پھانسیاں دی جاتی ہیں۔ ایسے میں آج ہم من حیث القوم کہاں کھڑے ہیں۔ انہوں نے مہنگائی کی لہر کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا: ’کوئی ان سے پوچھے آٹا، چینی، ادویات کیوں مہنگی ہیں؟ عوام ان حکمرانوں کی جان کو رو رہے ہیں اگر ملک کو شفاف الیکشنز ملتے تو تحریک انصاف کی شکل میں قوم کو عذاب نہ بھگتنا پڑتا۔‘
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنی بھی موٹرویز بنائیں آئی ایم ایف سے قرض لے کر نہیں بنائیں۔ ان کی حرکتوں کے بعد دنیا ہمارے ملک کی عزت کیوں کرے گی۔ کیا یہ لوگ اپنے باپ دادا کی سطح کا حساب دے سکتے ہیں؟ ہم سب پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈلیور بھی کیا اور مقدمات بھی ہم پر بنائے گئے۔‘
