کیا واقعی پٹرول کی قیمت میں کمی ہونے والی ہے؟

عالمی سطح تک خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور ڈنڈے کے زور پر ڈالر کو لگام ڈالنے کے بعد ملک میں دو ماہ بعد پہلی دفعہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں یکم اکتوبر سے 15 اکتوبر تک کی مدت کے لیے تقریباً 5 روپے سے 19 روپے فی لیٹر کمی کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ 2 ماہ کے دوران پہلی بار ہوگی۔
خیال رہے کہ آخری بار ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی جولائی کے وسط میں کی گئی تھی جب پیٹرول 9 روپے فی لیٹر کم کرکے 253 روپے اور ڈیزل 7 روپے فی لیٹر کم کرکے 253 روپے 50 پیسے کا کر دیا گیا تھا۔نگران حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا یہ پہلا موقع ہوگا، کیونکہ نگراں حکومت آنے کے بعد 15 اگست اور 15 ستمبر کے درمیان پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 58 روپے 43 پیسے اور 55 روپے 83 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ہوچکا، دونوں مصنوعات فی الحال بالترتیب 333 اور 331 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ ٹیکس ریٹس اور دیگر اوور ہیڈز کی بنیاد پر آئندہ جائزے میں پیٹرول کی قیمت میں 15 سے 19 روپے فی لیٹر تک کی کمی آسکتی ہے کیونکہ اس کی عالمی قیمت میں 2 فیصد کمی آئی ہے جس سے یہ 101 ڈالر فی بیرل سے 99 ڈالر فی بیرل پر آگیا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 10.5 روپے کا اضافہ بھی ہوا ہے۔یہ حساب کتاب ستمبر کے پہلے 12 روز کے اثرات اور آخری 2 روز کے تخمینوں پر مبنی ہے۔ اسی طرح اگر حکومت پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تو ڈیزل کی قیمت بھی 9 سے 12 روپے فی لیٹر تک گر سکتی ہے، تاہم اگر وزارت خزانہ بجٹ کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے لیوی میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کرتی ہے تو ڈیزل کی قیمت میں 5 سے 8 روپے فی لیٹر کمی ہوگی، پیٹرول کے برعکس عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت حالیہ چند ہفتوں کے دوران تقریباً ایک ڈالر فی بیرل بڑھ کر 122 ڈالر تک پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ اس وقت تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی صفر ہے لیکن حکومت پیٹرول پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی جبکہ ڈیزل، ہائی آکٹین ملاوٹ والے اجزا اور 95 آر او این (ریسرچ آکٹین نمبر) پیٹرول پر فی لیٹر 50 روپے لیوی وصول کر رہی ہے، حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 22 سے 23 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ زیادہ تر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلتا ہے، اس کی قیمت کو مہنگائی میں اضافے کا اہم عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی بھاری گاڑیوں، بسوں، ٹرینوں اور زرعی انجنوں مثلاً ٹرک، ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور تھریشر میں استعمال ہوتا ہے، اس کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ پیٹرول بنیادی طور پر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ براہ راست مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔
