کیا کپتان کے خاندان نے واقعی توشہ خانہ سے سستا سونا خریدا؟

سوشل میڈیا پر موجود حکومتی ناقدین نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس لئے توشہ خانہ میں جمع کروائے گے غیر ملکی تحائف کی تفصیل دینے سے انکاری ہیں کہ ان کے خاندان کی کچھ خواتین نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی تحائف اور سونا آدھی سے بھی کم قیمت میں خرید لیا تھا لیکن اب اس عمل کو چھپانے کی خاطر وزیر اعظم تحائف کی خریدوفروخت کے حوالے سے تفصیلات دینے سے انکاری ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دال میں کچھ تو ضرور کالا ہے جو ان تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم اور صدر کو غیر ملکی وفود کی جانب سے ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروا دیے جاتے ہیں جہاں سے انہیں حکومتی اور سرکاری لوگ آدھی سے بھی کم قیمت پر خریدنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد کے ایک شہری نے اطلاعات تک رسائی کے قانون کے تحت انفارمیشن کمیشن کے ذریعے وفاقی حکومت سے عمران خان کے پچھلے تین برس کے دور اقتدار کے دوران توشہ خانہ سے بیچے گئے تحائف اور انکی قیمت کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ چنانچہ انفارمیشن کمیشن نے کابینہ ڈویژن کو یہ تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ تاہم کابینہ ڈویژن نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم ہاؤس سمجھتا ہے کہ ایسی انفرمیشن فراہم کرنے سے غیر ملکوں کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
چنانچہ وفاقی حکومت نے انفارمیشن کمیشن کا یہ حکم نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جس کے بعد اس طرح کی افواہیں گردش میں ہیں کہ وزیراعظم ہاوس نے توشہ خانہ میں کچھ تو ایسا ضرور کیا ہے جسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ایک قریبی رشتہ دار خاتون نے 540 تولہ سونے کے زیورات توشہ خانہ سے صرف 25 فیصد قیمت ادا کر خرید لیے ہیں یعنی سوا لاکھ روپے تولہ بکنے والے سونے کے زیورات 31ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے خریدے گئے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ان افواہوں پر تبصرہ کیے بغیر یہ بیان جاری کیا ہے کہ ماضی میں توشہ خانہ میں موجود تحائف صرف 15 فیصد قیمت پر فروخت کیے جاتے تھے جبکہ موجودہ حکومت نے ان کی قیمت بڑھا کر 50 فیصد کر دی ہے۔ سینئر صحافی اسد علی طور نے بھی اپنے وی لاگ میں بتایا ہے کہ وزیر اعظم کی قریبی رشتہ دار خواتین نے 500 تولہ سونا توشہ خانہ سے اونے پونے داموں خرید لیا ہے۔
لیکن پاکستانی حکمرانوں کو توشہ خانے کے قیمتی تحائف کی ارزاں داموں پر فروخت کوئی نئی بات نہیں۔ ریاست کی ملکیت سمجھے جانے والے توشہ خانہ کے تحائف صرف بیوروکریسی، سیاسی اور عسکری قیادت اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو فروخت کیلئے دستیاب ہوتے ہیں۔ معاشرے کے ان انتہائی با اثر افراد کو غیر ملکی دوروں پر ملنے والے یا غیر ملکی وفود سے ملنے والے تحائف بااثر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے انتہائی سستے داموں توشہ خانہ میں برائے فروخت ہوتے ہیں۔ اگر کوئی تحفہ اس اشرافیہ کو پسند بہ آئے تو وہ عوام میں فروخت کیلئے پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری پالیسی یہ ہے کہ ہر ملنے والے تحفے کے متعلق حکومت کو مطلع کیا جائے اور اسے توشہ خانے میں جمع کرا دیا جائے لیکن اس پالیسی کے باوجود ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں ملنے والے تحائف کے متعلق آگاہ کیا گیا اور نہ ہی توشہ خانے میں جمع کرانے کیلئے حکومت کو دیے گیا۔
حکومتی ذرائع نے وزیراعظم عمران خان کے خاندان کی خواتین کے جانب سے توشہ خانہ سے خریدے گئے تحائف کے حوالے سے گفتگو سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے لہذا اس پر بات نہیں ہو سکتی۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2018ء میں تشکیل دی گئی نئی پالیسی کے مطابق تیس ہزار روپے مالیت سے زائد کے غیر ملکی تحائف کی پچاس فیصد قیمت ادا کر کے انہیں اپنے پاس رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم تیس ہزار روپے تک کے تحفے کو استثنیٰ حاصل ہے اور اسکی قیمت ادا کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن یہ استثنیٰ ایسے تحائف کیلئے نہیں ہے جو نادر نوعیت کے یا تاریخی اہمیت کے حامل ہوں۔
