یوٹیوبر مبشر صدیق اپنے مداحوں سے تنگ کیوں آ گئے

یوٹیوب پر کھانا پکانے کی ترکیبیں سکھا کر ملک بھر میں شہرت پانے والے مبشر صدیق اب اپنے مداحین سے تنگ آ چکے ہیں اور ایک ویڈیو پیغام میں ان سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ انہیں ملنے کی خاطر ان کے گاؤں آنے کی زحمت نہ کریں کیونکہ اس عمل نے ان کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ میں تسلیم کرتا ہوں کے میں پبلک پراپرٹی ہوں لیکن میرا خاندان پبلک پراپرٹی نہیں ہے۔
کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب مٹی کے برتنوں میں کھانا پکاتے اور کچے صحن میں مختلف پکوان پکاتے اور دیکھنے والے کو ان کی ترکیبیں سکھاتے مبشر صدیق اپنے مداحوں کی توجہ اور محبت کا شکریہ ادا کرتے نظر آتے تھے۔ لیکن اب اپنے یوٹیوب چینل پر تیس سیکنڈ کے مختصر سے کلپ میں وہ لوگوں سے التجا کرتے نظر آئے کے ’خدا کا واسطہ ہے مجھ سے ملنے مت آئیں۔‘ ضلع سیالکوٹ کے چھوٹے سے گاؤں کنگڑا سے تعلق رکھنے والے ویلاگر مبشر صدیق نے یوٹیوب پر ’ولیج فوڈ سیکریٹس‘ کے نام سے ایک چینل شروع کیا تھا جس پر وہ دیہاتی پکوانوں کی تراکیب بتاتے تھے۔ سادہ سے کچے صحن اور کچن میں یا کھیتوں میں کھانے بناتے مبشر کے فالوور دیکھتے دیکھتے بڑھنے لگے۔ کچھ ہی عرصے میں وہ اتنے مقبول ہو گئے کہ اس سے چینل سے انھیں ماہانہ اچھی آمدنی بھی ہونے لگی۔ لیکن اب وہ اپنی مداحوں سے ہاتھ جوڑ کر ان سے نہ ملنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ مبشر کے گاؤں کی جانب جانے والی سڑک بھی چھوٹی ہے اور گاؤں میں انٹرنیٹ بھی باقاعدگی سے دستیاب نہیں تھا اور انھیں اپنی ویڈیو گاؤں سے دور ایک اور جگہ جا کر اپ لوڈ کرنی پڑتی تھیں۔ مبشر نے بی بی سی سے کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ میری تعلیم میٹرک ہے، اور وہ بھی تھرڈ ڈویژن میں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ مبشر اُس وقت تک اپنی شہرت اور کامیابی سے لطف اندوز ہوتے رہے جب تک ان کے مداح ان کے گاؤں کو دیکھنے اور ان سے ملنے ان کے گاؤں تک نہیں پہنچ گئے۔
لیکن اب مبشر اپنے مداحوں سے درخواست کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے گاؤں میں آ کر ویڈیو نہ بنائیں۔ ان کا موقف تھا کہ لوگ ان کے گاؤں میں آ کر خواتین کی ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتے ہیں اور چونکہ لوگ خود کو مبشر کا مہمان قرار دیتے ہیں اس لیے انہیں پھر پورے گاؤں سے معافی مانگنی پڑی۔
لیکن اب پھر ایسا کیا ہو گیا کہ انھیں لوگ کو واشگاف الفاظ میں کہنا پڑا کہ ’جو لوگ ہمارے گاؤں ہم سے ملنے آتے ہیں میں ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اللہ کے واسطے ہم سے ملنے نہ آئیں۔ اور اگر یہ بات آپ کو بری لگی ہے تو پھر بھی اللہ کے واسطے ہمیں معاف کر دیں۔‘ وہ اس تیس سیکنڈ کی ویڈیو میں یہی جملے دہراتے نظر آئے۔ مبشر صدیق کا کہنا ہے کہ کچھ خواتین یو ٹیوبر ان سے ملنے ان کے گھر گئیں جب وہ گھر پر نہیں تھے، وہ ان کے گھر کی خواتین کی ویڈیوز خفیہ کیمروں سے بنا کر لے گئیں اور انہیں عام کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔ اگرچہ ان خاتون یو ٹیوبروں نے یہ ویڈیو میری درخواست پر اب ہٹا دی ہیں لیکن مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے میں نے یہ معذرت کی تھی۔‘ مبشر صدیق کا کہنا تھا کہ ان ویڈیوز میں ان کی والدہ، بہن اور بھانجی کی بلا اجازت عکس بندی کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا ’میں نے ان کو ای میل لکھی تھی کیونکہ ان کا نمبر میرے پاس نہیں تھا اور ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کو کہا۔ اگرچہ انھوں نے ویڈیو ڈیلیٹ تو کر دی لیکن پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب دوسرے لوگ یہ ویڈیو ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ مبشر کی فیملی ہے، پھر انٹرنیٹ سے کوئی چیز ہٹانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مبشر صدیق کا کہنا ہے انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ مشھور ہو جانے کے بعد کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔ تاہم میں تسلیم کرتا ہوں کے میں پبلک پراپرٹی ہوں لیکن میرا خاندان پبلک پراپرٹی نہیں ہے۔
