وہ نشانیاں جو آپ کے کووڈ 19 کا شکار ہونے کا عندیہ دیں

کورونا وائرس ممکنہ طور پر ہماری توقعات سے زیادہ عرصے سے دنیا میں گردش کررہا ہے۔
اس وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے بیشتر افراد میں عموماً علامات ظاہر نہیں ہوتیں یا ایک یا 2 نشانیاں ہی نظر آتی ہیں۔ تو ایسا امکان ہوتا ہے کہ بیشتر افراد کو علم ہی نہ ہوتا ہو کہ وہ کووڈ 19 کا شکار ہوچکے ہیں اور صحتیاب بھی ہوجاتے ہوں، مگر اس لاعلمی کے دوران بھی وہ وائرس کو آگے صحت مند افراد تک منتقل کرسکتے ہیں۔ تاہم کچھ نمایاں علامات ایسی ہیں جن سے عندیہ مل سکتا ہے کہ آپ کووڈ 19 سے متاثر ہیں یا رہ چکے ہیں، موسم سرما کے دوران نزلہ زکام ہونا غیرمعمولی نہیں، تاہم اگر اس کا سامنا 2020 کے آغاز یا اختتام پر ہوا ہو، تو اس بات کا امکان ہے کہ یہ بیماری درحقیقت کووڈ 19 ہو۔ دونوں کے درمیان ایک طریقے سے شناخت کی جاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کووڈ 19 عموماً 2 ہفتے یا اس سے زیادہ وقت تک جسم میں موجود رہنے والی بیماری ہے، جب کہ عام نزلہ زکام عموماً ایک ہفتے میں ٹھیک ہوجاتا ہے۔ نزلے کے برعکس کووڈ سے بخار بھی ہوتا ہے جب کہ سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ نزلہ زکام یا فلو کی کوئی عام علامت نہیں مگر کووڈ 19 کے مریضوں کو یہ احساس اکثر ہوتا ہے جیسے ان کا سانس رک گیا ہے۔ کئی افراد کو احساس ہوسکتا ہے کہ ذہنی بے چینی یا پریشانی کا نتیجہ ہے مگر کووڈ میں سانس لینے میں مشکلات کا مسئلہ زیادہ وقت تک رہتا ہے جب کہ فلو جیسی علامات بھی سامنے آتی ہیں۔ اگر آپ کو کافی وقت سے خشک کھانسی ہے جو صحیح نہیں ہورہی تو یہ کووڈ 19 کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ کھانسی نزلہ زکام سے ہونے والی کھانسی سے مختلف ہوتی ہے، جس کی شدت آغاز میں معمولی ہوتی ہے مگر 5 سے 7 دن میں بدتر ہوجاتی ہے۔ وبا کے آغاز سے کہا جارہا ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اکثر دھوتے رہیں اور چہرے کو چھونے سے گریز کریں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کووڈ 19 آنکھوں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اگر آشوب چشم، آنکھوں سے پانی بہنا یا بینائی دھندلا رہی ہے تو یہ بھی وائرس کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ کووڈ 19 دل کو بھی متاثر کرنے والا مرض ہے، جس کے نتیجے میں دھڑکن کی رفتار تیز یا سست ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ یہ احساس ہوسکتا ہے کہ جیسے سینے کو جکڑ لیا گیا ہے۔ یہ سب نشانیاں اس وقت بھی سامنے آسکتی ہیں جب وائرس جسم سے نکل چکا ہو، اس طرح کی علامات معمولی بیمار ہونے والے افراد میں 2 ہفتے جب کہ زیادہ بیمار ہونے والوں میں 6 ہفتوں تک نمایاں ہوسکتے ہیں۔ ہر وقت بہت زیادہ تھکاوٹ کا احساس بھی کووڈ 19 کی ایک عام علامت ہے، یہ تھکاوٹ اس طرح کی ہوتی ہے جو اچھی نیند کے باوجود ختم نہیں ہوتی اور اس سے وائرس کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے۔ یہ احساس کئی دن کے وقفے سے دوبارہ ہوسکتا ہے بلکہ ہفتوں تک اس کا تجربہ ہوسکتا ہے۔ اگر کھانے اور مشروبات کا ذائقہ معمول سے مختلف یا بالکل بھی محسوس نہ ہو، یا کچھ ہفتوں تک کوئی مہک یا بو محسوس نہ ہو، تو یہ بھی کورونا کی نشانی ہوسکتی ہے۔ درحقیقت کورونا وائرس سے متاثرہ ہونے والے تقریباً 80 فیصد افراد کو اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے اور عموماً یہ معتدل کیس کی نشانی ہوتی ہے۔ اینٹی باڈیز جسم میں بننے والے ایسے پروٹینز ہوتے ہیں جو کسی بیماری سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ کووڈ 19 کا شکار ہوئے یا نہیں اس کا ایک بہترین ذریعہ خون کا ٹیسٹ ہے جس میں ایسی اینٹی باڈیز کو دیکھا جاتا ہے جو وائرس سے لڑتی ہیں۔ اگر وہ موجود ہو تو اس سے علم ہوجاتا ہے کہ آپ کورونا کا شکار رہ چکے ہیں۔ کورونا میں میوٹیشن سے آنے والی تبدیلیوں سے بننے والی اقسام سے علامات پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوا، یہ اقسام زیادہ آساننی سے ضرور پھیل سکتی ہیں مگر ان کی علامات اوریجنل وائرس جیسی ہی ہوتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close