ملازمت سے محبت، ملازم نے بیٹے کا نام ہی ’محکمے‘ کے نام پر رکھ دیا

اپنے کام اور پیشے سے محبت کرنے والے شخص تو دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جنہیں اپنے کام سے اتنی محبت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام ہی وہی رکھ دیا جو ان کے آفس کا نام ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈونیشین شہری سمت واہیودی نے شادی سے قبل ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ اگر ان کا بیٹا ہوا تو اس کا نام اس محکمے کے نام جیسا ہی رکھیں گے جس میں وہ سرکاری ملازم تھے۔ شادی سے قبل ہی سمت نے اپنی منگیتر کو اس حوالے سے آگاہ کردیا تھا اور خلاف معمول وہ راضی بھی ہوگئیں، شادی کے بعد جب ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تو سمت اور ان کی اہلیہ نے بچی کا نام روایتی ہی رکھا تاہم گزشتہ برس جب ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو سمت اور ان کی اہلیہ نے بچے کا نام محکمے کے نام ’اسٹیٹسٹیکل انفارمیشن کمیونیکیشن آفس‘ رکھا۔ بچے کے نام سے متعلق اس کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے بریس شہر میں 2003 میں بطور سرکاری ملازم ملازمت حاصل کی اور تب سے وہیں کام کررہے ہیں، یہ جگہ ان کےلیے دوسرے گھر کی مانند ہے لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا بھی اس جگہ سے وابستہ ہوجائے جائے۔ سمت کا کہنا تھا کہ انہیں اندازہ ہے کہ ان کے بیٹے کو اپنا پورا نام اسٹیٹسٹیکل انفارمیشن کمیونیکیشن آفس متعارف کروانے میں مشکل کا سامنا ہوگا لہٰذا سمت اور ان کی اہلیہ بچے کا نک نیم ’ڈنکو‘ رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close