کپتان کو جلال آ گیا: بشیر میمن کے خلاف کارروائیاں شروع

منتقم مزاج وزیراعظم کی حکومت نے ایف آئی اے کے سابق سربراہ بشیر میمن کی جانب سے عمران خان کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے جانے کے بعد حسب روایت انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ بشیر میمن نے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ دعوی کیا تھا کہ وزیراعظم نے انہیں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس بنانے کو کہا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ 29 اپریل کے روز صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات میں عمران خان نے بشیر میمن کے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماضی میں سابق ڈی جی ایف آئی اے کو صرف خواجہ محمد آصف کے خلاف کیس بنانے کو کہا تھا اور وہ کسی ایجنڈے کے تحت جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کی اس گفتگو کے فوری بعد وفاقی حکومت کے ادارے پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی یعنی پی ایس کیو سی اے کی ایک ٹیم نے سانگھڑ میں قائم بشیر میمن کی آئل اور گھی کی فیکٹری پر چھاپہ مار دیا اور وہاں ملازمین سے پوچھ گچھ کی۔ بشیر میمن نے تصدیق کی کہ ضلع سانگھڑ کے علاقے شہداد پور میں پی ایس کیو سی اے نے ان کی فیکٹری پر چھاپہ مارا ہے جسکا مقصد انہیں دانہ بنانا اور ہراساں کرنا ہے یاد رہے کہ بشیر میمن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم شہزاد اکبر اکبر اور فروغ نسیم پر جو بھی الزامات عائد کیے ہیں ان کے دستاویزی ثبوت ان کے پاس موجود ہیں۔ انکامکہنا تھا کیونکہ وہ ایک پولیس آفیسر ہیں اس لیے جانتے ہیں کہ ایسی گفتگو کرنے سے پہلے آپ کے پاس ثبوت ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ شہزاد اکبر اور فروغ نسیم نے بھی بشیر میمن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا۔ ان دونوں کا کہنا تھا کہ بشیر میمن کی عمران خان سے ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی، تاہم دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے ایک ملاقات میں بشیر میمن کو خواجہ آصف کے خلاف اقامہ رکھنے پر تحقیقات کرنے کا کہا تھا، یعنی انکی بشیر میمن سے ملاقات ہوئی تھی جس کی فروغ نسیم اور شہزاد اکبر تردید کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ بشیر میمن کا خاندان مختلف کاروبار کرتا ہے اور طویل عرصے سے زرعی شعبے سے منسلک ہے۔ 29 اپریل کو پی ایس کیو سی اے کے عہدیداروں نے شہداد پور میں بشیر میمن کی ملکیتی المجتبیٰ آئل اینڈ گھی ملز پر چھاپہ مارا اور فیکٹری کے لائسنس کے حوالے سے پوچھ گچھ کی۔ چھاپہ مارنے والوں کا کہنا تھا کہ اس فیکٹری کا لائسنس متنازعہ ہے اور معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ چھاپہ مارنے والوں ٹیم نے فیکٹری کے عملے سے کئی گھنٹے تفتیش کی اور چلے گئے۔ بشیر میمن کے خاندانی ذرائع کا کہنا تھا کہ سول ایجنسی کے عہدیداروں نے ان کے فارم پر بھی چھاپہ مارا جہاں ان کے کیلے اور آم کے باغات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تب مزدور وہاں موجود تھے جن سے زمین کے حوالے سے تفصیلات پوچھی گئیں، یہ زرعی زمین 1973 میں ان کے دادا سے بشیر میمن کو منتقل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمین ان کے دادا نے خریدی تھی۔ انکامکہنا تھا کہ بشیر میمن کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف وفاقی حکومت کے بارے میں انکشافات کے بعد یہ انتقامی کارروائی کی گئی ہے اور مزید کارروائی کے خدشات ہیں۔
خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے وزیر اعظم اور حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمہ بنانے کے لیے دباؤ ڈالا کیا گیا تھا۔ ‘جیو نیوز’ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ انکی وزیر اعظم ہاؤس میں عمران خان، ان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم سے ملاقات ہوئی جہاں انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمہ بنانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ بطور ایک ادارہ اپنی ساکھ خراب نہیں کرسکتے۔۔انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز کے خلاف مقدمات بنانے پر دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
بشیر میمن نے کہا تھا کہ شہباز شریف کے بیٹے اور کیپٹن (ر) صفدر سمیت دیگر مسلم لیگ (ن) رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے لیے کہا گیا جبکہ مریم نواز کے حوالے سے تین مختلف اوقات میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کا کہا تھا۔
انہوں نے بتایا تھا کہ جب سوشل میڈیا پر خاتون اول کی تصویر سامنے آئی اور جج ارشد ملک سے متعلق ویڈیو اسکینڈل میں پریس کانفرنس کے معاملے پر مریم نواز کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو گرفتار کرنے کا بہت دباؤ تھا اس کے علاوہ شہباز شریف، مریم اورنگزیب، حمزہ شہباز، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، رانا ثنا اللہ، جاوید لطیف، خرم دستگیر، پیپلزپارٹی سے خورشید شاہ، نفیسہ شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر سمیت جو بھی حکومت کے خلاف بات کرتا تھا، اس کو پکڑنے اور اس کے خلاف انکوائری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button