مجھ سے بڑے غلط فیصلے بھی ہوجاتے ہیں

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ٹکٹس دینے میں بڑی غلطیاں کیں اور اکثر اب اس حوالے سے خیال آتا ہے کہ کسے وزارت دینی چاہیے تھی اور کسے ٹکٹس دینے چاہیے تھے۔
واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان ایک روزہ دورہ پر گلگت میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کےلیے 370 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا۔ گلگت میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قرضوں کی قسطیں دینے کی وجہ سے وسائل بہت کم ہوجاتے ہیں اور ہر جگہ سے پیسوں کا مطالبہ ہے تاہم گلگت بلتستان کےلیے اس طرح کا پیکج ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ 15 سال کی عمر میں گلگت بلتستان آیا تھا، ان دنوں سڑکیں ایسی تھیں کہ وہاں کہ مقامیوں کے علاوہ دنیا کا کوئی ڈرائیور وہاں گاڑی نہیں چلا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی آتا ہی نہیں تھا اور یہ علاقہ دنیا سے دور تھا، یہاں سڑکیں اتنی مشکل تھیں کہ یہاں کہ علاقے بھی ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں تھے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسے دیکھنے کے بعد دنیا کے دیگر خوبصورت علاقوں میں گیا تو اس چیز کا فخر ہوتا تھا کہ پاکستان میں ایسا علاقہ ہے جس کا مقابلہ دنیا میں کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے جب اپنے دوستوں کو پاکستان کا یہ حصہ دکھایا تو انہوں نے بھی کہا کہ اس سے خوبصورت دنیا میں کوئی علاقہ نہیں تبھی میں نے اس علاقے کی مدد کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک تصاویر پر مشتمل کتاب ‘انڈس جرنی’ لکھی اور جب وہ انگلینڈ میں شائع ہوئی تو سب دنگ رہ گئے کہ یہ بھی پاکستان ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک کے لوگوں کو چھوڑیں ہمارے اپنے لوگوں کو نہیں پتہ کہ پاکستان کتنا خوبصورت ہے، ان سب کی پراپرٹیز باہر ہیں یہ چھٹیاں منانے بھی وہیں جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی تو ہم نے اس خطے کو اوپر لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں فوڈ پراسیسنگ کی بہت گنجائش ہے تاہم اصل میں یہاں سیاحت کے فروغ کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ ہمارے گلگت بلتستان سے آدھا ہے اور وہ صرف سیاحت سے 60 سے 80 ارب ڈالر کماتا ہے، ہم بھی اس خطے کو ترقی دیں تو ملک اور قوم دونوں کا فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پارٹی کے ٹکٹس دینے میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں اور اب اس بارے میں اکثر سوچتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ خالد خورشید کو آپ کا وزیر اعلٰی بنانے کا میرا فیصلہ بالکل درست تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں 3 طرح کے لوگ سیاست میں آتے ہیں ان میں سے ایک اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کےلیے آتے ہیں، ہمارے یہاں سیاست میں اخلاقیات اتنی گر گئی ہیں کہ اسے کرپشن سمجھا نہیں جاتا، یہ لوگ عوام کا پیسہ چوری کرتے ہیں اور باہر لے جاتے ہیں اور ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ ان ہی کی وجہ سے عوام غریب ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنا پیٹ پالنے کےلیے تو سیاست میں آتے ہیں مگر عوام کےلیے بھی کچھ نہ کچھ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں اور عوام کی فلاح کےلیے کام کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقتدار بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، نبی ﷺ نے مدینہ کی فلاحی ریاست قائم کرکے دنیا کےلیے مثال قائم کی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے کہا تھا کہ ان کی ریاست میں ایک کتا بھی بھوکا مرے تو وہ ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ گلگت-بلتستان خالد خورشید میں ایک جنون ہے کہ کیسے یہ اپنے علاقے کو بہتر کرے، جب یہ ہمارے پاس پروپوزل لے کر آتے ہیں تو ہم ان کی پوری مدد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 370 ارب روپے کی شروعات ہوگئی ہے اور ہم آگے مزید اور مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ اگر آپ نے سیاحت پر صحیح طرح سے کام کیا تو آپ وفاق سے پیسے کیا مانگیں گے وفاق آپ سے کہے گی کہ ہمیں بھی کچھ پیسے دیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سیاحت کے شعبے کےلیے بہت منصوبہ بندی کے تحت کام کرنا ہے، اگر صحیح منصوبہ بندی نہ ہوئی تو سیاحت نہیں آئے گی۔ آخر میں انہوں نے 370 ارب روپے کے 5 سالہ گلگت بلتستان ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائیڈل پاور جنریشن اور لوکل ڈسٹربیوشن نیٹ ورک، ٹور ازم کےلیے رابطے جس میں بابوسر کا ٹنل بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیکج میں نوجوانوں کی تربیت کا پروگرام، صحت کے نظام کی بہتری بھی شامل ہے جب کہ پانی اور نکاسی کے نظام کی تعمیر، چھوٹے اور درمیانی صںعتوں کا فروغ، انفراسٹرکچر کی تعمیر وغیرہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 55 سال قبل جب یہاں آیا تھا تو یہاں کے لوگوں میں ایک تاثر تھا کہ پاکستان ان سے سوتیلے ماں کی طرح رویہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے پاس اختیارات نہیں تھے، وفاقی حکومت سمجھتی تھی کہ یہاں کہ لوگوں میں اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے صوبائی حیثیت کا قدم اس لیے اٹھایا تاکہ سارے فیصلے آپ خود کریں، اس علاقے کے فیصلے اسلام آباد میں بیٹھ کر کیسے ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں وزیر اعلیٰ میں پوری صلاحیت ہے ہمیں انہیں اسلام آباد سے ہدایت دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ملک انصاف کے بغیر عظیم ملک نہیں بن سکتا، خوشحالی اس قوم میں آتی ہے جس میں انصاف کی قوت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانون کی بالادستی کا مطلب ہے کہ کمزور اور طاقتور کو قانون کے نیچے برابر لانا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جس قوم میں جرات نہ ہو کہ طاقتور اور کمزور کےلیے ایک قانون کے نیچے لاسکیں تو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کی غریب ملکوں کی داستان یہی ہے کہ وہاں کے طاقتور لوگ مغربی شہروں میں محلات بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب 20 سال سے قائم ہے، صرف اب اس نے بڑے بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے، پاکستان کی خوشحالی کےلیے یہ ایک جدوجہد چل رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button