بلڈ گروپس اور مخصوص امراض کے درمیان تعلق دریافت

خون کے مخصوص گروپس اور 49 بیماریوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ یہ انکشاف سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں 50 لاکھ سے زیادہ افراد اور ایک ہزار سے زائد امراض کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں تصدیق کی گئی کہ مخصوص بلڈ گروپس سے خون جمنے، جریان خون کے مسائل یا دوران حمل کے فشار خون کے زیادہ خطرے میں تعلق موجود ہے۔ انسانی خون میں بنیادی عناصر تو یکساں ہوتے ہیں مگر اس میں کچھ مختلف چیزیں اسے 4 بلڈ گروپس میں تقسیم کرتی ہیں۔ ان چاروں بلڈ گروپس کو جو چیز ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے وہ اینٹی جنز ہے یعنی ایسے پروٹین یا کاربوہائیڈریٹ جو خون میں شامل ہوکر اینٹی باڈیز بنانے کا عمل تیز کرتے ہیں۔ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ او بلڈ گروپ کے حامل افراد میں دل کی شریانوں کے امراض یا خون جمنے کا خطرہ کم ہوتا ہے، مگر جریان خون کا امکان اے یا بی گروپ والے افراد سے زیادہ ہوتا ہے۔ طبی جریدے ای لائف میں شائع تحقیق میں سوئیڈن ہیلتھ رجسٹریز کے 50 لاکھ سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ دریافت کیا گیا کہ 49 امراض کا خون کے گروپس سے تعلق ہوتا ہے۔ تحقیق میں تسدیق کی گئی کہ اے بلڈ گروپ والے افراد میں خون جمنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جب کہ او گروپ والے افراد میں جریان خون کے امراض کا امکان زیادہ ہوتا ہے جب کہ او بلڈ گروپ کی حامل خواتین میں حمل کے دوران فشار خون کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بی بلڈ گروپ والے افراد میں گردوں کی پتھری کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ نتائج کی تصدیق کےلیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ مختلف بلڈ گروپس سے مخصوص امراض کا خطرہ بڑھتا ہے یا اس ممکنہ تعلق کی وضاحت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج سے امراض اور خون کے گروپس کے درمیان موجود نئے اور دلچسپ تعلق کی نشاندہی ہوتی ہے جب کہ مستقبل کی تحقیقی رپورٹس کےلیے بنیاد فراہم کی گئی ہے۔
مستقبل میں تحقیق میں ایسے میکنزمز کی نشاندہی کی ضرورت ہوگی جو اس تعلق کی وضاحت کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close