آکسیجن سیلنڈرز مہنگے کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟

انڈیا میں کورونا کی بگڑتی صورت حال اور آکسیجن کی قلت کے بعد پیدا ہونے والی افرا تفری کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ چکا ہے، جہاں کرونا صورت حال قابو میں ہونے کے باوجود ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا نے مال بنانے کے لیے آکسیجن سیلینڈرز کی مصنوعی قلت پیدا کردی ہے۔ دوسری جانب اسپتالوں کی جانب سے آکسیجن کی ڈیمانڈ میں اضافے نے صورت حال کو مزید سنگین کردیا ہے۔
نتیجہ یہ یے کہ دو ماہ قبل مریضوں کے استعمال میں آنے والے دس لیٹر آکسیجن سیلنڈر کی قیمت دس ہزار روپے سے بڑھ کر اب 15 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یوں ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے آکسیجن لوگوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں کرونا وبا کی تیسری لہر میں شدت آنے کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتے مریضوں کے پیش نظر صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہے اور حکومت کسی بھی بدترین صورت حال سے نمٹنے کےلیے وینٹیلیٹرز اور آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔
چند روز قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ملک میں مریضوں کےلیے آکسیجن کا استعمال 90 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے سامنے آنے والے خدشات کے پس منظر میں پاکستان میں آکسیجن گیس اور سیلنڈروں کی قیمتوں میں اضافے اور ان کی قلت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اسکی وجوہات پر بات کرتے ہوئے پاکستان میں آکسیجن بنانے والی ایک کمپنی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس کی ایک اہم وجہ تو عالمی سطح پر کرونا کی وبا کے باعث آکسیجن کی کھپت میں بے پناہ اضافہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بھی آکسیجن تیار کرنے سے متعلقہ خام مال کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کی قلت بھی دیکھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درحقیقت پاکستان میں آکسیجن گیس کی قیمت میں تو معمولی اضافہ ہوا ہے مگر اصل قلت اور قیمت میں اضافہ آکسیجن سیلنڈرز کی قیمتوں میں ہوا ہے، ملک میں آکسیجن سلنڈرز کی قلت اور اس کے مہنگے ہونے کی ایک اور وجہ سرکاری اور نجی اسپتالوں کی جانب سے آکسیجن سلنڈرز کی اضافی مانگ اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورت حال کے باعث انہیں ذخیرہ کرنا ہے۔ اس معاملے کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر آکسیجن بنانے والی کسی کمپنی کے پاس 100 سیلنڈرز موجود تھے اور اس نے اپنے کسی کلائنٹ کےلیے 30 سیلنڈرز مختص کر رکھے تھے، تو اب ملک میں وبا کی شدت کے بعد ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے اور پریشانی سے بچنے کے لیے وہی کلائنٹ 70 آکسیجن سیلنڈرز کی ڈیمانڈ کرتا ہے، چاہے ان کو اس کی ضرورت بھی نہ ہو، لیکن کمپنیوں کو اہنے کلائنٹ کی اس ڈیمانڈ کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ایسے میں اگر کوئی اور اسپتال بھی اس سے پچاس سیلنڈرز طلب کرے گا تو کمپنی کو عالمی منڈی سے یہ مال خرید کر اسے فراہم کرنا ہو گا۔
اس وقت عالمی منڈی میں آکسیجن سیلنڈر کی قیمت پاکستانی روپے میں 40 سے 45 ہزار تک ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک 30 ہزار تھی۔ ایسے میں کوئی بھی درآمد کرے گا تو اپنا کاروبار چلانے کےلیے منافع رکھ کر ہی آگے بیچے گا۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ عام حالات میں سیلنڈرز نہیں خریدے جاتے بلکہ گیس خریدی جاتی ہے لیکن اب انڈیا میں کرونا کی صورت حال اور وہاں آکسیجن کی قلت کے بعد پاکستان میں بھی سیلنڈرز خریدے جا رہے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ آکسیجن سیلنڈرز پاکستان میں تیار نہیں ہوتے بلکہ انہیں باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر بھی ان کی قیمت میں اضافہ ہوچکا ہے جس کے باعث ملک میں ان کی قیمت بڑھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے حالات کے پیش نظر عام صارفین اور پاکستانی عوام کی جانب سے بھی آکسیجن سیلنڈرز خرید کر گھروں میں رکھنے کے باعث مارکیٹ میں اِن کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ اب عام آدمی بھی خوف کے مارے ممکنہ صورت حال کے پیش نظر گھر میں دو، تین سیلنڈر خرید کر رکھ رہا ہے۔ پہلے سیلنڈرز نہیں، گیس بکتی تھی اب گیس کے سیلنڈرز بھی بک رہے ہیں۔ اسلام آباد میں اسپتالوں، فارمیسیز اور چھوٹی صنعتوں کو آکسیجن سیلنڈرز فراہم کرنے والی ایک نجی کمپنی کے مالک کا کہنا ہے کہ انڈیا کی صورت حال دیکھ دیکھ عوام بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں اور آکسیجن سیلنڈرز خرید کر گھروں میں رکھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جس کو آکسیجن کی ضرورت نہیں بھی تھی وہ دو، دو تین، تین سیلنڈرز خرید کر گھر میں رکھ رہا ہے۔ جس کے باعث اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ صورت حال میں چھوٹے ڈسٹریبیوٹرز سلنڈرز کی ذخیرہ اندوزی کرکے ناجائز منافع خوری کے ذریعے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت مارکیٹ میں آکسیجن سیلنڈرز کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
ایک اور آکسیجن سپلائر نے بتایا کہ دو ماہ قبل مریضوں کے استعمال میں آنے والا چھ لیٹر کا سیلنڈر ساڑھے پانچ ہزار روپے تک بازار میں دستیاب تھا جو اب مہنگا ہو کر سات ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ جب کہ دس سے گیارہ لیٹر آکسیجن کا سیلنڈر پہلے دس ہزار روپے میں فروخت ہو رہا تھا جس کی قیمت اب بڑھ کر 15 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بازار میں آکسیجن سیلنڈرز اس وقت لاہور اور کراچی سے آ رہے ہیں۔ جہاں تک آکسیجن گیس کی سیلینڈرز میں بھروائی کی قیمت کی بات ہے تو پہلے چھ لیٹر آکسیجن سلنڈر میں گیس کی بھروائی چار سو روپے کی تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے چار سو روپے ہوگئی ہے جب کہ دس سے گیارہ لیٹر والے سیلنڈر میں گیس بھروائی جو پہلے پانچ سو روپے تھی وہ اب بڑھ کر سات سو روپے ہوگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آکسیجن گیس کی قیمت میں اضافہ حکومت کی جانب سے آکسیجن بنانے والی کمپنیوں سے 90 فیصد آکسیجن اسپتالوں کو فراہم کرنے کے باعث ہے کیوں کہ باقی ماندہ دس فیصد وہ کمرشل بنیادوں پر نجی مارکیٹ میں مہنگی بیچ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close