بحریہ ٹاؤن ایک مادر پدر آزاد قبضہ گروپ کیسے بن گیا؟

How did Bahria Town become a parent independent occupation group?


ارب پتی بزنس ٹائیکون ملک ریاض کا بحریہ ٹاؤن ہاوسنگ منصوبہ ہمیشہ سے تنازعات میں گھرا نظر آتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر معاملے میں آخری فتح ملک ریاض کو ہی حاصل ہوتی ہے جس کی بنیادی وجہ انکا طاقت کے ایوانوں میں گہرا اثر رسوخ ہونا ہے۔
کراچی میں بحریہ ٹائون کے تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے مقامی افراد اور ٹاون انتظامیہ کے مابین جاری محاذ آرائی کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ تصادم کے حالیہ واقعے میں گڈاپ ٹاؤن میںBahria Town کراچی کی جانب سے اپنے نئے ہاؤسنگ منصوبے کے لیے زرعی اراضی پر تجاوزات کی کوشش کے خلاف احتجاج کے دوران نجی گارڈز اور پولیس اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے کئی شہری زخمی ہو گے جس کے بعد ٹوئٹر پر بائیکاٹ بحریہ ٹائون کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہا ہے۔ مگر سندھ حکومت اور عدالتیں اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر نظر آتی ہیں۔ پاکستان کی انتہائی متمول اور بااثر ترین شخصیت سمجھے جانے والے ملک ریاض کی بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکمنامے کی من مانی تشریح کرتے ہوئے کراچی کے علاقوں ملیر، گڈاپ ٹائون اور کاٹھوڑ وغیرہ میں اپنی ملکیتی زمین پر تعمیرات کرنے کے ساتھ اردگرد کے دیہات پر بھی ناجائز قبضہ شروع کر دیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن والے ریاست اور حکومت سے بھی طاقت ور ثابت ہوئے ہیں جو اسلحے کے زور پر لوگوں سے ان کی آبائی زمینیں چھیننے کے لئے ان کی جانوں کے درپے ہیں مگر سندھ حکومت اور عدالتیون سمیت کوئی بھی ان کا ہاتھ روکنے کے لئے آگے نہیں بڑھ رہا۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے کے خلاف عوامی شکایات پر نوٹس لیا گیا ہے اور رپورٹ طلب کر لی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کے سامنے ہے اور مجھ سمیت کوئی بھی توہین عدالت کا مرتکب نہیں ہوسکتا ہے۔بلاول بھٹو کی جانب سے نوٹس لینے پر بحریہ ٹاؤن کے نے تجاوزات کا کام روک تو دیا تھا لیکن ایک ہفتے کے وقفے کے بعد اب دوبارہ سے قبضے کا کام شروع کر دیا گیا یے۔ مقامی افراد کو شکوہ ہے کہ حکومت سندھ نے بحریہ ٹاؤن کو لوگوں کے گھر بلا خوف و خطر تباہ کرنے کی چھوٹ دی ہوئی ہے حالانکہ عدالت نے ایسا کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔
سندھ انڈیجینئس رائٹس الائنس کے کارکن اور کاٹھور کے رہائشی عبدالحفیظ نے بتایا کہ بحریہ ٹائون کے گارڈز نے گزشتہ روز پولیس کے ہمراہ کمال خان جوکھیو گوٹھ میں فصلیں تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن مقامی افراد نے مزاحمت کی اور انہیں کام سے روکنے پر مجبور کردیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلح نجی گارڈز اور سادہ لباس اور یونیفارم میں پولیس اہلکار نماز جمعہ کے بعد آئے اور بلڈوزرز کے ساتھ فصلیں تباہ کرنا دوبارہ شروع کردیں۔بحریہ ٹاؤن کے اقدامات کے خلاف تقریباً سینکڑوں لوگ جمع ہو گے اور مزاحمت کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے عملے پر پتھراؤ کیا، جس پر گارڈز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کر دی۔ گارڈز کی مبینہ فائرنگ سے کئی لوگ معمولی زخمی ہوئے لیکن ایک شہری شوکت خاص خیلی گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ حفیظ کا کہنا ہے کہ گارڈز زخمی شہریوں کو اپنےساتھ لے گئے۔گاؤں کے لوگوں نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے کرتا دھرتا افراد کے خلاف احتجاج کیا اور زخمی افراد کی واپسی اور گارڈز کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔عبدالحفیظ نے بتایا کہ بحریہ ٹاون والے ایک زخمی شوکت خاصخیلی کو ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے تھانے لے گئے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی۔ اس پر مظاہرین تھانے پہنچ گئے اور شوکت خاصخیلی کو زبردستی واپس لے جا کر ہسپتال منقتل کردیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے کارکن ھفیظ کا کہنا تھا کہ کاٹھور کے قریب بحریہ ٹاؤن کے نئے ہاؤسنگ منصوبے کے لیے راستہ صاف کرنے کی خاطر 50 سے 60 ایکڑ زرعی زمین تباہ کر دی گئی ہے۔ ٹوئٹر پر حفیظ نے کہا کہ ‘اسحلے سے لیس بحریہ ٹاؤن کے ملازم آتے ہیں اور زمین کے مالک سے کہتے ہیں کہ اپنی زمیں کے کاغذات دیکھاؤ کیون کہ یہ زمین ہمیں سپریم کورٹ نے دے دی ہے، لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ عدالتی حکم دکھایا جائے تو وہ غنڈہ گردی اور بدمعاشی شروع کر دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سےپاکستانی سوشل میڈیا پر ڈھیروں ایسی ویڈیوز اور تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں پولیس اہلکار بڑی گاڑیوں اور بلڈوزروں کے ہمراہ ایک علاقے میں آپریشن کرنے والوں کے ساتھ موجود ہیں اور عوام ان کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھی جانے والی مشینری زمین ہموار کرتے اور راستہ صاف کرتے نظر آ رہی ہے جبکہ عوام چیخ و پکار کرتے تھے اور بددعائیں دیتے سنائی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیوز کراچی کے علاقے ملیر کی ہیں اور ان میں نظر آنے والی ہیوی مشینری اور اہلکار ارب پتی بلڈر ملک ریاض کی نجی ہاؤسنگ سکیم بحریہ ٹاؤن کراچی کے ملازم ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہBahria Town کے اہلکار اپنی سوسائٹی کے پھیلاؤ اور راستہ بنانے کے لیے وہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں چند پرانے گوٹھ آباد ہیں۔کراچی کی تاریخ پر متعدد کتابوں کے مصنف اور انڈیجینس رائٹس الائنس کے سرگرم رکن گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے اب کاٹھوڑ کی طرف بڑھنا شرو ع کر دیا ہے جہاں وہ فارم ہاؤس بنانا چاہتے ہیں۔ ایک طرف سے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سٹی آگے بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف بحریہ ٹاؤن بھی ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی ایک نرغے میں آگئی ہے۔’گل حسن کلمتی کے مطابق یہ زمین سرکاری ہے اور سرکار نے لیز ختم کر کے زمین ملیر ڈیویلپمینٹ اتھارٹی کو دے دی جنھوں نے کچھ برس قبل یہ زمین بحریہ ٹاؤن کے حوالے کردی۔ گل حسن کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ہاؤسنگ کے کیس میں واضح کیا تھا کہ وہ 16800 ایکڑ سے آگے نہیں بڑھیں گے تاہم سندھ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ زمین کونسی ہے۔Bahria Town گل حسن کلمتی کا دعویٰ ہے کہ اس وقت کاٹھوڑ کراچی میں 45 ہزار ایکڑ پر بحریہ ٹاؤن کا پھیلاؤ اور ہاؤسنگ جاری ہے۔’جام شورو کے چار دیھ میں بھی بحریہ ٹاؤن نے زمین حاصل کرلی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت الاٹ کردہ زمین کی ڈیمارکیشن کروائے تاکہ پتہ چلے کہ وہ زمین کون سی ہے۔ اس وقت تو بحریہ والے عدالت کے حکم کا فائدہ لے کر ہر کسی کو کہہ رہے ہیں کہ عدالت کے حکم پر انھیں زمین دی گئی۔ عدالت نے تو صرف 16800 ایکڑ کو قانونی قرار دیا جبکہ، یہ 45 ہزار تک قبضے میں لے چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close