کیا پاکستان اور سعودیہ امریکی دھتکار کے بعد قریب ہو رہے ہیں؟

Are Pakistan and Saudi Arabia getting closer after the US ouster?

وزیرِ اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل باجوہ کا بیک وقت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کرنا خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال میں خصوصی اہمیت کا حامل بن گیا ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے اور دوبارہ سے ترتیب دینے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔ Pakistan and Saudi Arabia کے تعلقات کی تاریخ تو پرانی ہے جس میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں لیکن 2019 میں جب انڈیا نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی آئئنی حیثیت تبدیل کی تھی تو اُس وقت سعودی عرب نے پاکستان کا اُس طرح ساتھ نہیں دیا جس طرح روایتی طور پر توقع کی جاتی تھی۔ چنانچہ دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ آ گیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ اور عمران خان کے دورہٴ ریاض کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو ماضی کی سطح پر بحال کیا جائے اور مذید بہتر بنایا جائے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں بحالی کے کئی محرکات ہیں جن میں بائیڈن انتظامیہ کا سعودی عرب سے سخت رویہ اپنانا نمایاں ہے چنانچہ ٹرمپ کے جانے کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں پہلے جیسی قربت نہیں رہی۔ اسی تناؤ کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب نے اب متبادل ذرائع پر کام کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے اور پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے جانے اور بائیڈن کے آنے کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں بھی پہلے جیسی گرمجوشی دکھائی نہیں دیتی۔ چنانچہ یوں لگتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فارغ کیے جانے کے بعد سعودی عرب اور پاکستان شعوری طور پر بھی ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا تین روزہ دورہ جمعۃ الوادع کے دن سے شروع ہوچکا ہے جو نو مئی تک جاری رہے گا۔ اس سے پہلے فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے شہزاد سلمان سے ملاقات کی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور انکی اہلیہ کا استقبال کرنے شہزادہ محمد بن سلمان خود ایئر پورٹ پہنچے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ دلی طور پر رنجش بھلا چکے ہیں اور اب واقعی پاکستان کے ساتھ معاملات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ وزیرِ اعظم کے وفد میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ یاد رہے شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب کی جانب سے او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے پر سخت زبان استعمال کی تھی جس پر شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان سے ناراض ہوگئے تھے۔ بعد ازاں جب پاکستان نے ملائیشیا میں انڈونیشیا، ترکی، بنگلہ دیش اور ایران کی قیادت میں منعقد ہونے والے اسلامی بلاک میں شرکت کا اشارہ دیا تھا تو سعودی عرب نے پاکستان سے مذید ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
Pakistan and Saudi Arabia کے یمن کی جنگ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سے ناراض سعودی عرب نے 2018 میں پاکستان کو ادائیگیوں کا توازن بہتر کرنے کے لیے تین برسوں کے لیے تین ارب ڈالرز کے قرضوں کی جو سہولت دی تھی، اُسے بھی تعلقات خراب ہونے کے بعد اچانک تبدیل کردیا گیا اور وہ ایک ارب ڈالرز فوراً واپس مانگ لیے گے تھے۔ چنانچہ سخت مالیاتی تنگی کے باوجود، پاکستان نے چین کی امداد سے یہ قسط ادا کردی تھی۔ حال ہی میں پاکستان نے چین کی مدد سے سعودی عرب کو مزید ایک ارب ڈالر بھی واپس کردیا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد پاکستان کے اپنے ‘برادر اسلامی ملک’ سے تعلقات کمزور ترین سطح پر آگئے تھے۔
لیکن اب تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آرہے ہیں کہ دونوں ممالک اپنی نئی پالیسیوں کو چھوڑے بغیر نئے انداز سے دوستی کو ترتیب دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ میں صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ کا ایران سے جوہری منصوبے پر کیے گئے معاہدے کی کسی نئی صورت میں بحالی پر بات چیت اور چین کا ایران میں چار سو ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ سعودی پالیسی میں تبدیلی کا سبب بنا ہے۔ پاکستان میں سرکاری حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان اپنے دورہ میں سعودی عرب کو بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری میں شامل کرنے کے حوالے سے بات کریں گے، اسکے علاوہ وہ سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے مدد کی پیش کش کریں گے، اسخے علاوہ گوادر میں آئل ریفائنری پر پیش رفت پر بات ہوگی۔
Pakistan and Saudi Arabia اور تجزیہ کار خالد المعینہ کہتے ہیں کہ عمران خان اور جنرل باجوہ کے سعودی عرب کے دورے کو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی تاریخ کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ‘آپ جانتے ہیں کہ یہ بہت ہی سٹریٹیجک اتحاد ہے جس کی کئی برسوں کی ایک تاریخ ہے۔ اور ساتھ ساتھ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کی فوج کو تربیت دیتا رہا ہے، بہت سارے پاکستانی سعودی عرب میں ملازت کرتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں دراڑ پیدا ہوئی لیکن اختلافات تو دو بھائیوں کے درمیان بھی ہو سکتے ہیں۔ خالد المعینہ کہتے ہیں کہ ‘اس کے علاوہ جنرل ضیاالحق کے زمانے سے پاکستان کے کئی سربراہوں کی روایت رہی ہے کہ وہ 26 یا 27 رمضان کو سعودی عرب آتے ہیں۔ اس لیے میرے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ اس موقع پر پاکستانی وزیرِ اعظم اور فوج کے سربراہ سعودی عرب آئے ہوئے ہیں۔ خالد المعینہ کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم ایک سیاسی اور جغرافیائی طور پر ایک بدلتی ہوئی دنیا سے گزر رہے ہیں۔ ‘تاہم میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک بہت اچھا دورہ ہے۔ اسے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ حال ہی میں تعلقات میں تلخی کے عرصے میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔’
یاد رہے کہ وزیرِ اعظم اور فوجی سربراہ موجودہ دورہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ یہ دورہ سعودی عرب کی ماضی قریب میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے بعد روایتی سعودی پالیسی کی طرف واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ محمد بن سلمان اپنے آپ کو نظرانداز ہوتا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور ان کو اپنے آپ کو اہم بنانے کے لیے اس خطے کے اہم کرداروں سے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس دوران سعودی عرب کے لیے افغانستان میں امریکہ کی فوجوں کے انخلا کے بعد جو نظام قائم ہوتا نظر آرہا ہے اُس میں بھی اپنے ایک کردار کا تعین کروانا ہے، یعنی سعودی عرب افغانستان کی تعمیرِ نو میں کس طرح کی اور کس طرح اقتصادی تعاون کرے گا۔
Pakistan and Saudi Arabia اس لحاظ سے سعودی عرب، جو محمد سلمان کی حالیہ پالیسیوں کی وجہ سے اب اپنے آپ کو غیر متعلقہ محسوس کر رہا ہے، خطے میں جنگوں کی قیادت کرنے کے بجائے ایک ‘پیس میکر’ کے طور پر ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش میں پاکستان کے تعاون کا خواہاں ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس وقت خطے میں چار ممالک نمایاں کردار یا حیثیت کے خواہاں ہیں۔ سب سے پہلے ہے ترکی، مگر اُس کے سعودی بلاک سے تعلقات بہتر نہیں ہیں۔ دوسرا سعودی عرب خود، جس کے ترکی اور قطر سے حلیفانہ تعلقات نہیں ہیں۔ تیسرا ہے ایران، جس کی سعودی عرب سے مخالفت ہے۔ اور چوتھا ہے پاکستان، جس کے صرف سعودی عرب سے کمزور تعلقات رہے ہیں۔ اس پس منظر میں سعودی عرب کے لیے ایک یہ بھی مسئلہ ہے ایران اور امریکہ کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کے پس منظر میں اب ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں مثبت تبدیلی آتی ہے تو سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کیا صورت اختیار کریں گے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آرمی چیف کا بذاتِ خود وزیرِ اعظم عمران خان سے پہلے سعودی عرب پہنچنا اس دورے کی اہمیت کا اشارہ ہے۔ اگرچہ یہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو ری سیٹ کرنے کی کوشش ہے اور اس سے پیغام یہ ملتا ہے کہ سعودی عرب نے تعلقات میں بہتری کی پاکستان کی کوششوں کو پذیرائی دے دی ہے، لیکن ایک بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ سعودی عرب نے کشمیر کے بارے میں جو موقف بدلا اُس میں وہ تبدیلی نہیں لائے گا۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی بھی یہی کوشش ہے کہ پاکستان کے ایک پرانے اتحادی اور دوست کو راضی کیا جائے۔ جبکہ امریکہ میں بائیڈن کی انتظامیہ کے بعد سعودی عرب اپنی پالیسی میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ امریکہ سے نئے انداز میں تعلقات بنانا چاہتا اور چاہتا ہے کہ خطے میں زیادہ سے زیادہ ممالک اُس کے دوست بنیں۔ سعودی عرب کی پاکستان سے تعلقات میں ری سیٹ کی ایک اور اہم وجہ چین اور ایران کے درمیان طے پانے والا سینکڑوں ڈالرز کا سرمایہ کاری کا معاہدہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستان کے لیے ایران کا تیل خریدنا آسان ہو جائے گا۔ تاہم پاکستان سعودی عرب سے تیل خریدنا جاری رکھے گے کیونکہ اُسے وہاں سے موخر ادائیگی کی سہولت کے ساتھ تیل مل رہا ہے اور پاکستان اس سہولت کو ختم نہیں کرنا چاہے گا۔
Pakistan and Saudi Arabia تجزیہ کاروں کے مطابق ان حالات میں پاکستان کے لیے بہتر ہے کہ وہ سعودی عرب سے اقتصادی تعلقات بہتر کرنے پر توجہ دے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ اب اسے سعودی امداد کی قیمت بھی اداد کرنا ہوگی۔ اور اگر پاکستان یہ قیمت ادا نہیں کرنا چاہتا ہے — یعنی سعودی عرب کے مخالفین کے خلاف جنگوں میں کودنا نہیں چاہتا — تو پھر پاکستان کے بہترین مفاد میں یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کی اقتصادی مدد لینے سے گریز کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close