تحریک لبیک کے فنانسرز کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

Decision to crack down on Tehreek-e-Libek financiers

Tehreek-e-Libek فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق قرارداد قومی اسمبلی میں لانے کے بعد یورپی یونین کے شدید ردعمل کو کاؤنٹر کرنے کے لیے اب کپتان حکومت نے تحریک لبیک کے مالی سہولت کاروں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے معاہدے کے باوجود مسلسل وعدہ خلافی کا شکوہ کرنے والی شدت پسند تنظیم کس قسم کا ردعمل دیتی ہے۔
یاد رہے کہ 30 اپریل کو یورپی پارلیمان نے پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی اور صحافیوں کو درپیش خطرات کے تناظر میں ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی تھی جس میں پاکستان سے تجارتی تعقات میں جی ایس پی پلس سٹیٹس واپس لینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس قرارداد میں حکومت کی جانب سے تحریک لبیک سے معاہدے اور فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق قرارداد کی منظوری کو بنیاد بناتے ہوئے اسلام آباد کے ساتھ خصوصی تعلقات میں کمی لانے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک کی جانب سے 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کو روکنے کے لئے حکومت نے عجلت میں تنظیم کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو لاہور میں گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوگئے جن کے نتیجے میں دونوں جانب سے کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔Tehreek-e-Libek صورتحال کو کنٹرول کرنے کے پہلے حکومت نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دے کر پابندی لگادی لیکن جب معاملات طاقت سے قابو میں نہ آئے تو 19 اپریل کو لبیک کی قیادت کے ساتھ نیا معاہدہ کرکے قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیر کی بیدخلی سے متعلق قرارداد پیش کردی گئی۔ بعد ازاں حکومتی وزرا نے یہ تاثر دیا کہ بہت جلد تحریک لبیک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔ اس کے بعد کراچی اور خوشاب کے ضمنی الیکشن میں بھی تحریک لبیک کے امیدواروں کو الیکشن میں حصہ لینے سے نہیں روکا گیا۔ تاہم یورپی پارلیمان میں پاکستان مخالف قرارداد کی منظوری کے بعد حکومت پاکستان عالمی دبائو سے نمٹنے کے لئے لبیک اور اسکے فنانسرز پر پابندیاں سخت کرنے کے موڈ میں نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ تنظیم کے فنانسرز کو پکڑنے کے لئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ Tehreek-e-Libek
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کی نگرانی میں کام کرنے والے محکمہ انسداد دہشت گردی یعنی سی ٹی ڈی نے کالعدمTehreek-e-Libek کے ملک بھر میں 328 بڑے فنانسرز کا سراغ لگانے کے بعد انخے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کی تیاری کرلی ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ان میں زیادہ تر بزنس مین، صنعتکار اور تاجر ہیں جو کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور گوجرانوالہ جیسے بڑے کاروباری مراکز سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کو جنوبی پنجاب سے بھی مالی اعانت کا ایک بہت بڑا حصہ مل رہا ہے جہاں 72 فنانسرز کالعدم جماعت کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ کالعدم تنظیم کے قیام کے بعد سے ہی حکومت مخالف مظاہروں،Tehreek-e-Libek مہم اور اس طرح کے دیگر اقدامات کو چلانے کے لیے مالی اعانت فراہم کررہے ہیں۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے ٹی ایل پی کو ممکنہ طور پر ملنے والی بین الاقوامی فنڈنگ کا جائزہ لینے کے لیے کئی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی اس وقت بینک اکاؤنٹس اور تنظیم کے لین دین کے طریقہ کار کی تفصیلات حاصل کررہی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے کے بعد سی ٹی ڈی نے فنانسرز کے منظم نیٹ ورک کا سراغ لگایا تھا اور صوبائی حکام نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت اس کی مرکزی، علاقائی اور ضلعی کمانڈ کے خلاف 54 سے زیادہ مقدمات درج کیے تھے۔ پابندی کے بعد تنظیموں یا افراد کو ٹی ایل پی کو کسی قسم کی مالی امداد فراہم کرنے پر سختی سے ممانعت کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی نے تب اپنی تفتیش کے دائرہ کار میں توسیع کی جب ٹی ایل پی کی ملکیت میں لگژری گاڑیوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر سامان کی موجودگی کے بڑے نیٹ ورک کا پتا لگایا۔ اب سی ٹی ڈی نے 328 بڑے تاجروں، صنعت کاروں اور تاجروں کی فہرست تیار کی ہے جن میں مکمل تفصیلات کے ساتھ نام، کاروبار کی نوعیت اور رقم کے لین دین کا طریقہ بھی شامل ہے۔Tehreek-e-Libek
وزارت داخلہ کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے لاہور سے 54، گوجرانوالہ سے 46، فیصل آباد سے 45، کراچی سے 37، سرگودھا سے 27، ملتان اور ڈی جی خان سے 24، راولپنڈی سے 24، بہاولپور سے 23 اور شیخوپورہ سے 22 کاروباری افراد کا سراغ لگایا ہے جو کہ تحریک لبیک کو فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان فنانسرز کی گرفتاری کے لیے سی ٹی ڈی کی متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ تحریک لبیک کے زیر حراست 213 مرکزی، علاقائی اور ضلعی رہنماؤں، کارکنوں اور مددگاروں کو فورتھ شیڈول کے تحت رکھا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close