پاکستانی سفیروں کے خلاف کپتان کے کان کس نے بھرے؟


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ ایک حالیہ ویڈیو کانفرنس کے دوران نازیبا زبان استعمال کرنے اور فارن سروس افسران کو نو آبادیاتی ذہنیت کے لوگ قرار دینے پر افسران میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ فارن سروس سے تعلق رکھنے والے افسران کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ان پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات اور تنقید نے انہیں ڈی موریلائز کر دیا ہے اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہو گے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو غلط بریفنگ دراصل ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان دی جو شاہ محمود قریشی کے ساتھ اپنے ذاتی چپقلش کا غصہ نکال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جتنے الزامات عائد کیے وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے جو کہ اعظم خان اور شاہ محمود قریشی کی آپسی رنجش کا نتیجہ ہے۔ فارن آفس افسران کا کہنا ہے کہ اعظم خان نے وزیر اعظم کو یکطرفہ بریفنگ دی تاکہ شاہ محمود قریشی کو گندا کیا جاسکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سفارتی عملے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو نہ تو سفارتی معاملات کا صحیح ادراک ہے اور نہ ہی انہیں ان سے متعلق ٹھیک بریفنگ دی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نے 19 ممالک میں تعینات سفارت کاروں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف انکی کارکردگی پر کڑی تنقید کی تھی بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ سمندر پار تعینات پاکستانی سفارت کار ‘چونکا دینے کی حد تک بے حس ہیں۔ عمران خان بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود سفارتی مشنز پر تنقید کر رہے تھے جہاں بڑی تعداد میں سمندر پار پاکستانی کمیونٹی رہتی ہے، وزیراعظم نے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘انکا رویہ ناقابلِ معافی اور ناقابل قبول ہے، انکا کہنا تھا کہ پاکستانی سفارتکار اپنی نوآبادیاتی دور کی ذہنیت چھوڑیں اور تارکین وطن کے ساتھ اچھا سلوک کرنا شروع کریں’۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم کا یہ بیان حکومت کی جانب سے سعودی عرب میں تعینات سفیر راجا اعجاز کو پاکستانی کمیونٹی کی مناسب طرح خدمت نہ کرنے اور نااہلیت پر معطل کرنے اور ان سمیت 6 سفارتی اہلکاروں کو وطن واپس بلانے کے بعد سامنے آیا۔
لیکن وزیر اعظم کے سخت بیان سے فارن سروس کے افسران میں غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ انکے رویے کو سخت محنت کرنے کے باوجود حوصلہ شکنی کے مترادف قرسر دے رہے ہیں، ایک سینئر فارن آفس عہدیدار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے تذلیل آمیز بیان پر فارن سروس افسران سخت غص میں ہیں اور انکا کہنا ہے کہ اس عمل سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔
پاکستانی سفیروں کو زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے سفارتکاروں پر تنقید کرتے ہوئے انکا موازنہ بھارتی سفارت کاروں سے کیا اور ان کی تعریف کی۔ فارن سروس افسران کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو ایسی سخت باتیں بند دروازوں کے پیچھے کرنی چاہیے تھیں نہنکہ انہیں براہ راست ٹی وی پر دکھایا جاتا۔ انکا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں 113 پاکستانی سفارتی مشنز ہیں جن میں سے چند ایک جگہوں پر سگر مسائل ہیں بھی تو انکی بنیاد پر پوری دنیا میں فرائض انجام دینے والے اہنے سفیروں کو جھاڑ پلا دینا کہاں کا انصاف ہے۔ سفارتی عملے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو سفارتی معاملات بارے نہ تو صحیح شعور ہے اور نہ ہی انکے بارے میں انہیں صحیح طرح بریف کیا جا رہا ہے۔
فارن سروس سے وابستہ افسران نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے نادرا، پولیس ویریفیکیشن اور دیگر محکمہ جات کی جانب سے کی جانے والی تاخیر کو بھی سفیروں کے کھاتے میں ڈال دیا حالانکہ انکو معلوم ہونا چاہئے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کاغذات کی تصدیق کا اختیار سفارت خانوں کے پاس نہیں ہوتا۔ انکا کہنا ہے کہ اگر پاکستان سے کام کرنے والے یہ سرکاری محکمے اپنے کام میں تاخیر کریں گے تو اس کا ذمہ دار بیرون ملک سفیروں کو کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق سفیروں نے وزیراعظم کے غصے کے پیچھے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا ہاتھ بھی قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جتنے الزامات عائد کیے وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے جو کہ اعظم خان اور شاہ محمود قریشی کی آپسی چپقلش کا نتیجہ ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم خان نے وزیراعظم کو یکطرفہ بریفنگ دی تاکہ شاہ محمود قریشی کو ایک طرف کیا جاسکے۔
تاہم بعض افسران کا کہنا تھا کہ اس بات سے انکار نہیں ہے کہ سمندر پار رہنے والے افراد کو سفارتخانوں میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان مسائل پر وزیر اعظم کی اپنی پریزینٹیشن معاملات کی سمجھ کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے لہازا انہوں نے مسائل کا جائزہ لے کر انہیں سنجھنے کی بجائے صرف شکایتوں سن کا ذہن بنا لیا۔ انکا کہنا ہے کہ حاضر سروس افسران پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی وجہ سے کھلے عام ردِعمل نہیں دے سکے لیکن سابق فارن سیکریٹریز نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کی مذمت کرنے میں کوئی کس نہیں چھوڑی ۔
یاد رہے کہ سابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ‘وزارت خارجہ پر وزیر اعظم کی غیر ذمہ دارانہ تنقید سے انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے’۔ ایک اور سابق سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے ٹوئٹر بیان میں کہا تھا کہ ‘پاکستانی کمیونٹی کو فراہم کی جانے والی عمومی خدمات دیگر محکموں کے دائرہ کار میں آتی ہیں جو پاسپورٹ، نیشنل آئڈینٹیٹی کارڈ فار اووسیز اور قونصلر تصدیق کے معاملات دیکھتے ہیں۔ انکا سفارت خانوں میں تعینات پولیس افسران کی کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں۔
دفتر خارجہ میں تعینات افسران کا کہنا ہے کہ اگر غیر جانبدرانہ تحقیقات کروائی جائیں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ مسائل کی وجہ صرف دفتر خارجہ نہیں بلکہ متعدد حکومتی اداروں کا غیر فعال ہونا ہے، لہازا دفتر خارجہ کو مورد الزام ٹھہرانا حقیق مسائل کو چھپانے کے مترادف ہے۔ انکا۔کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بذات خود بھی یہ بات کی کہ زیادہ تر شکایات پاسپورٹ اور شناختی کارڈ سے متعلق ہیں جو وزارت داخلہ اور نادرا کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ بیرونِ ملک تعینات ایک پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ ‘مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ اور آئی ڈی کارڈ سے متعلقہ مسائل کی وجہ سے تنقید فارن سروس کے افسران پر کی جاتی ہے جو کے وزیراعظم کی کم علمی اور نہ سمجھیں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close