پنجابی طلبا CSS میں زیادہ کامیاب کیوں ہوتے ہیں؟


سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کی اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہونے کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیر تنقید ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ایسا کیوں یے؟ یاد رہے کہ پنجاب سے پاس ہونے والے طلبا کی تعداد ملک کے باقی صوبوں سے مجموعی طور پر کافی زیادہ ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ تمام صوبوں کو امتحانات میں حصہ لینے کے لیے کوٹہ دیا جاتا ہے لیکن اگر پنجاب کے امیدوار زیادہ کامیاب ہوتے ہیں تو اس کی بڑی وجہ معیاری تعلیم کے مواقع ہیں۔ واضح رہے کہ سینٹرل سپیریئر سروس یعنی سی ایس ایس 2020 کے امتحانی نتائج کے مطابق کُل 18 ہزار 553 امیدواروں میں سے صرف 364 امیدوار کامیاب ہوئے جب کہ کامیابی کا تناسب 1.962 فیصد رہا ہے۔ ان 364 امیدواروں میں سے 118 کا تعلق پنجاب سے تھا۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن اسلام آباد کی جانب جاری ہونے والے نتائج کے مطابق ماہین حسن نے سب سے زیادہ نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ڈائریکٹر ایف پی ایس سی کے جاری کردہ نتائج کے مطابق کل 376 امیدوار پاس ہوئے، ان میں سے آگے چل کر 12 امیدوار انٹرویو میں ناکام رہے۔ پاس ہونے والوں میں 226 مرد جب کہ 138 خواتین تھیں۔ اس مرتبہ کامیابی کا تناسب 2019 کے نتائج کے برعکس تھوڑا کم رہا کیوں کہ 2019 میں مجموعی طور پر 14 ہزار 521 امیدواروں نے حصہ لیا تھا، جن میں سے 365 کامیاب ہوئے جب کہ کامیابی کا تناسب 2.51 فیصد تھا۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 364 کامیاب امیدواروں میں پنجاب کے 118، سندھ رورل کے 22، سندھ اربن کے 13، بلوچستان کے 13، آزاد کشمیر کے چار، خیبر پختونخوا کے 26، گلگت بلتستان کے سات جب کہ جنرل میرٹ کے 20 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کا تعلق پنجاب سے ہونے پر سوشل میڈیا صارفین تنقید کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے ماہر تعلیم رسول بخش رئیس نے کہا کہ یہ تاثر نامناسب ہے کہ سی ایس ایس میں پنجاب کے امیدواروں کو رعایت دی جاتی ہے یا ان کےلیے زیادہ آسانی دی جاتی ہے کیوں کہ تمام صوبوں کو امتحانات میں حصہ لینے کےلیے کوٹہ دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر پنجاب کے امیدوار زیادہ کامیاب ہوتے ہیں تو اس کی وجہ انکے پاس معیاری تعلیم کے مواقع ہونس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اسلام آباد، کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں ایسے تعلیمی ادارے ہیں جہاں تعلیم کا معیار بہتر ہے۔ اندرون سندھ اور بلوچستان میں پسماندگی کی وجہ سے تعلیمی ادارے اس قابل نہیں کہ وہ طلبہ کو مقابلے کے امتحانات میں بہتر کارکردگی کے قابل بنا سکیں۔ رسول بخش نے کہا کہ مجموعی طور پر سی ایس ایس کے نتائج کا تناسب دیکھ کر مایوسی اور اپنے نظام تعلیم یا کوئی حکومتی ترجیحات نہ ہونے پر افسوس ہوتا ہے۔ ہمارے ادارے اس قابل نہیں کہ عالمی سطح کا تعلیمی معیار فراہم کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سی ایس ایس جیسے امتحانات میں لمز، ایچی سن و دیگر بڑے اداروں کے علاوہ سرکاری جامعات سے پڑھنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں امیدواروں میں سے چند سو کا پاس ہونا حوصلہ افزا نہیں۔ ہمیں تعلہمہ نظام کی خامیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیوں کہ جو طلبہ امتحان دیتے ہیں وہ اکثر بھرپور تیاری کے ساتھ شریک ہوتے ہیں مگر نتائج سے لگتا ہے جیسے طلبہ نالائق ہیں حالانکہ ایسا نہیں۔ رسول بخش کے مطابق وہ خود ان امتحانات کی نگرانی اور پرچے چیک کرتے رہے ہیں لہٰذا انہیں اندازہ ہے کہ اس نظام میں کس قدر خامیاں ہیں۔ پیپر چیک کرنے والوں یا امتحانات منعقد کرانے والوں کو وظیفہ کم ملتا ہے اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے کوئی مکمل توجہ کے ساتھ پیپر چیک نہیں کرتا اور طلبہ میں پاس ہونے کےلیے قسمت کا تاثر پایا جاتا ہے۔
سول سروسز سے متعلق قوانین کے ماہر شعیب شاہین نے بھی اس تاثر کو مسترد کیا کہ سی ایس ایس کے امتحانات میں پنجاب کے امیدوار کسی خاص وجہ سے زیادہ پاس ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف ایس سی نے امتحان دینے کے خواہش مند امیدواروں کےلیے کوٹہ مختص کر رکھا ہے، جس میں تمام صوبوں کا الگ الگ کوٹہ ہوتا ہے جس کے مطابق درخواستیں منظور کی جاتی ہیں اور پھر امتحان کے نتائج آنے کے بعد تقرریوں کی تجاویز بھی اسی کوٹہ کے مطابق کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام صوبوں میں مختلف محکموں کی خالی آسامیوں پر تقرریوں کی ڈیمانڈ کے مطابق کوٹہ مختص کیا جاتا ہے اور اسی لحاظ سے تقرریوں کی تجویز دی جاتی ہے۔ اس میں پاکستان کے کسی بھی علاقے سے تعلق رکھنے والے کامیاب امیدوار کا نام شامل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب سی ایس ایس کا دو بار امتحان دینے والے ایک امیدوار کاشف ندیم نے بتایا کہ سی ایس ایس جیسے امتحانات ہر سال مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ طلبا جتنی بھی تیاری کر لیں لیکن امتحان کے وقت احساس ہوتا ہے کہ ہمیں اس اعلی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ہی نہیں ملا اور ہم جن اداروں میں زیر تعلیم رہے وہاں بھی ایسی تعلیم کی سہولت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایم اے سیاسیات اور وکالت کی ڈگریاں لے چکے ہیں مگر دو بار سی ایس ایس کا امتحان دینے کے باوجود پاس نہیں ہوسکے۔ وہ کہتے ہیں کہ دو بار امتحان دینے کے باوجود انہیں سمجھ نہیں آسکی کہ اس میں کامیابی کے لیے کس قدر تیاری کرنی چاہیے۔ شاید ابتدا سے ہی ایسا تعلیمی معیار درکار ہوتا ہے جو بیرون ملک کالجز یا یونیورسٹیز کا ہے یا یہاں جو پرائیویٹ بڑی درس گاہیں ہیں وہاں سے تعلیم حاصل کرکے ہی حتمی کامیابی کا یقین ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close