ایمزون کی سیلر لسٹ میں شامل ہونا گیم چینجر کیوں ہے؟


دنیا کے سب سے بڑے ای کامرس پلیٹ فارم ایمازون نے بالآخر پاکستان کو اپنی سیلرز لسٹ میں دوبارہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے مستقبل کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے، یاد رہے کہ 2013 تک پاکستان اس فہرست میں شامل تھا، لیکن بد قسمتی سے چند فراڈیوں نے ایمازون کے نظام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جسکی پاداش میں پاکستان کو ڈی لسٹ کردیا گیا تھا۔ اب چھ برس بعد ایمیزون کی سیلرز لسٹ میں دوبارہ شامل ہونے پر ای کامرس سے وابستہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت انہیں سپورٹ کرے اور غیر ضروری ٹیکسز لگانے سے اجتناب کرے تاکہ پاکستانی بھی عالمی سطح پر اپنی مصنوعات بآسانی بیچ کر ملک کےلیے کثیر زرمبادلہ کما سکیں۔ دوسری جانب ماہرین نے ایمیزون سے متوقع سالانہ آمدنی کا تخمینہ دو ارب ڈالرز لگایا ہے۔
حکومتی عہدیداران کا کہنا یے کہ ایمیزون کی سیلرز لسٹ میں شامل ہونے سے پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوگی اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، ای کامرس کو فروغ ملے گا اور صارفین کو معیاری اشیاء دستیاب ہوں گی۔ ایمازون کی ای کامرس خدمات سے پاکستانی اس سے پہلے بھی منسلک تھے تاہم سیلرز لسٹ میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے پاکستانی ایڈریس سے خود کو بطور سیلر رجسٹر نہیں کروا سکتے تھے۔ چنانچہ انہیں دیگر ممالک سے ایمازون کے اکاؤنٹس کھلواکر کاروبار کرنا پڑتا تھا۔
خیال رہے کہ چھ مئی کو وزیر اعظم کے مشیر برائے کامرس اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ بالآخر ہم کامیاب ہوئے۔ ایمازون پاکستان کو اپنی ‘سیلرز لسٹ’ میں آنے والے چند دنوں میں شامل کر لے گا۔ ہم گزشتہ سال سے ایمازون سے بات چیت کر رہے تھے اور اب یہ ہو گیا ہے۔ یہ ہماری نوجوان نسل، ہمارے چھوٹے اور درمیانے سائز کے کاروبار اور خواتین بزنس وومین کے لیے ترقی کا بہت ہی شاندار موقع ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے خود بھی اپنی ٹویٹ میں اس خبر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ ایک بڑی پیش رفت ہے کہ ایمازون نےبالآخر ہمارے تاجروں کو اپنے نظام کے ذریعے اشیا کی برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے ایمازون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ کاروبار میں وسعت لانے کی غرض سے اپنے شراکت داروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ لوگ دنیا بھر میں اپنے بزنس کو ترقی دے سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہم مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں نہیں کرتے اور نہ ہی ہمارے پاس اسے بارے میں بتانے کےلیے کچھ ہے۔ البتہ وزارتِ کامرس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایمازون نے اپنی فہرست میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی تصدیق کر دی ہے اور اگلے چند دنوں میں ایسا ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے اس اعلان کو پہلے کرنے کی وجہ تھی کہ وہ کاروبار جو سیلرز لسٹ میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ اپنی تیاریاں شروع کر دیں کیوں کہ یہ ترقی کرنے کا ایک بڑا سنہری موقع ہے۔
آن لائن کاروبار سے وابستہ ایک خاتون نیہا ظفر کا۔کہنا ہے کہ یہ خبر پاکستان میں ترقی اور ای کامرس کی صنعت میں بہتری کےلیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن اس کے لیے ابھی ایک لمبا سفر طے کرنا ہوگا۔ اپنی مصنوعات کو بیچنے سے پہلے کاروبار چلانے والوں کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایمازون پر کامیاب ہونے کےلیے روایتی ذہنیت کو چھوڑ کر سوچنا ہوگا۔ یہ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور ای کامرس کی طرف جا رہی ہے۔ ہمیں اس موقع کا فائدہ اٹھانا ہوگا۔ نیہا ظفر نے بتایا کہ اس سے پہلے کئی لوگ تھرڈ پارٹی ذرائع کی مدد سے ایمازون پر اپنی مصنوعات کو فروخت کےلیے رکھ رہے تھے اور اس میں ان کی امریکہ میں مقیم دوست نے بہت مدد کی لیکن ایسا کرنا نہ صرف کافی محنت طلب کام تھا بلکہ اس کےلیے کافی وقت بھی درکار ہوتا تھا۔ اس طرح سے وہاں پر اکاؤنٹ بنانا بھی اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ ایمازون پر اپنی مصنوعات کی تشہیر کیسے کرنی ہے، اس کے بارے میں لوگوں کو کیسے متوجہ کرنا ہے۔ ایمازون پر آپ صرف ایک جوتا یا چپل نہیں بیچ رہے ہوتے ہیں۔ آپ ایک ہنر، ایک تجربہ، ایک کہانی بیچ رہے ہوتے ہیں۔
خیال رہے کہ 1994 میں جیف بیزوس کے گیراج سے شروع ہونے والی کمپنی ایمازون اب دنیا کی سب سے بڑی اور اہم ترین ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا آغاز ایک آن لائن کتاب بیچنے والی ویب سائٹ کے طور پر ہوا تھا۔ لیکن 27 برس گزرنے کے بعد ایمازون اب اربوں ڈالر کا کاروبار کرنے والی کمپنی بن چکی ہے جہاں اب صرف کتابیں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے ہر قسم کے سامان کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ ایمیزون نے صرف سال 2020 میں 386 ارب ڈالر کی آمدنی کمائی جو کہ 2019 کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ تھی۔ اسی خرید و فروخت کے لیے کمپنی میں ‘سیلرز لسٹ’ کا استعمال ہوتا ہے جس میں دنیا بھر کے کم از کم 104 ممالک شامل ہیں، جن کے شہری اور کاروباری افراد ایمازون کی ویب سائٹ پر اپنی مصنوعات فروخت کےلیے رکھ سکتے ہیں۔ سال 2020 کے اختتام تک کے اعداد و شمار کے مطابق ایمازون کے 30 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں اور یہ دو سو سے زیادہ ممالک میں سامان کی ترسیل کرتے ہیں۔
پاکستانی کامرس منسٹری سے منسلک نیشنل ای کامرس کونسل کے سینئیر ممبر بدر خوشنود نے بتایا کہ ہمسایہ ملک انڈیا کے 70 ہزار سے زیادہ چھوٹے کاروبار ایمازون پر رجسٹرڈ ہیں جنہوں نے گزشتہ برس ایمازون پر اپنی مصنوعات کی فروخت کی مدد سے دو ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات 20 سے 22 ارب ڈالر مالیت کی ہیں۔ اس میں اگر آپ تصور کریں کہ دو ارب ڈالر کی آمدنی مزید آ جائے تو یہ کل آمدنی کا دس فیصد بن سکتی ہے۔ ایمازون سیلرز لسٹ پر آنے سے پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ اس حوالے سے کامرس منسٹری کی سینئیر جوائنٹ سیکریٹری عائشہ موریانی کا کہنا تھا کہ ایمازون پر جانے کا مطلب ہے کہ آپ ممکنہ طور پر تیس کروڑ صارفین کے سامنے اپنی مصنوعات رکھ رہے ہیں اور پوری دنیا کی مارکیٹ تک کی رسائی ممکن ہو جائے گی، انہون نے بتایا کہ صرف شمالی امریکہ میں اس کی مدد سے ہونے والی آمدنی 80 ارب ڈالر ہے اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کاروبار اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کی مصنوعات کی بیرون ملک بہت مانگ ہے جیسے کپڑے، چادریں، وغیرہ۔
عائشہ موریانی کا کہنا تھا کہ عموما پاکستان میں برآمدات بی ٹو بی، یعنی کاروبار سے کاروبار کرنے والوں کے درمیان ہوتی تھی لیکن ایمازون پر بی ٹو سی، یعنی کاروبار سے صارف کے درمیان سودا ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ خام مال نہیں بلکہ تیار شدہ چیز بیچتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنا سامان ایمازون پر بیچنا چاہتا ہو تو اسے اپنی پراڈکٹ کے لیے اچھی پیکنگ کا بھی سوچنا ہوگا، معیار کو بھی برقرار رکھنا ہوگا، اس کو پرکشش بنانا ہوگا، تصویر اچھی لگانی ہوگی، اور بھیجنا بھی ایسے ہوگا کہ وہ صارف تک پہنچتے ہوئے خراب نہ ہو جائے۔ گویا کہ بہت سارے لوگوں کو اس ایک فیصلے سے نہ صرف اپنے صلاحیتوں میں اضافے کا موقع ملے گا بلکہ انہیں نوکری کے ذرائع میسر آئیں گے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
اس سے پہلے آبادی کے اعتبار سے دنیا کے چھٹے سب سے بڑے ملک ہونے کے ناطے کئی لوگوں کے لیے یہ ایک حیران کن امر تھا کہ پاکستان اب تک ایمازون کی سیلرز لسٹ میں شامل نہیں تھا لیکن شاید زیادہ لوگوں کو یاد نہیں کہ پاکستان 2013 تک اس لسٹ کا حصہ تھا۔ آٹھ سال قبل پاکستانی کاروباری افراد بھی اس فہرست میں اپنا نام درج کرا سکتے تھے لیکن بد قسمتی سے چند فراڈیوں نے ایمازون کے نظام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جس کی بنا پر پاکستان کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایمازون کی سیلرز لسٹ کا حصہ بننے سے فوراً مالی فائدہ آنا شروع ہو جائے گا؟ نیہا ظفر کہتی ہیں کہ پاکستان میں بدقسمتی سے ابھی تک لوگ دقیانوسی اور روایتی طرز عمل پر توجہ دیتے ہیں اور تجربات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں شامل ہونے سے شاید فوری طور پر تبدیلی تو نہیں آئے گی لیکن اس سے معاشی خوشحالی کے راستے ضرور کھل جائیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ محض پہلا قدم ہے، اور کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ اسے استعمال کرنے والوں کی مناسب تربیت کی جائے۔
نیہا ظفر سے جب پوچھا گیا کہ انہیں ایمازون پر کاروبار کرنے میں سب سے زیادہ کس چیز کا ڈر ہے، تو انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج فروخت کی گئی مصنوعات کے عوض رقم شفاف طریقے سے حاصل کرنے کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close