ابھرتے ہوئے گوادر میں ڈوبتے ہوئے ماہی گیروں کی کہانی


سی پیک منصوبوں کے تحت گوادر میں ہونے والی تبدیلیوں سے مچھیروں کی بستی گوادر کے مقامی ماہی گیر اپنے مستقبل سے پریشان ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ گوادر کے ماڈرن شہر بن جانے کے بعد انکے لیے معاشی طور پر زندہ رہنا محال ہو جائے گا کیونکہ وہ غریب تر ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ گوادر کے مقامی افراد کی اکثریت کا واحد ذریعہ معاش ماہی گیری ہے اور وہ گوادر کے پانیوں میں غیر ملکوں کے بڑھتے ہوئے غیر قانونی شکار سے پہلے ہی پریشان ہیں۔
یوں تو بلوچستان کی پوری ساحلی پٹی ماہی گیری کے روزگار سے ہی وابستہ ہے لیکن گوادر کو یہ خاص اہمیت حاصل ہے کہ قدرتی طور پر ’ڈیپ سی‘ یا گہرا سمندر ہونے کی وجہ سے یہاں پورا سال ماہی گیری کرنا ممکن رہتا ہے۔ گوادر شہر کی اپنی ایک تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کی اپنی تجارتی حیثیت کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ گوادر پورٹ کے ذریعے جن ممالک سے تجارت کی جاتی ہے ان میں خلیجی ممالک عمان، کویت اور بحرین کے علاوہ افریقی ممالک ممباسا اور صومالیہ اور ہمسایہ ملک بھارت بھی شامل ہے۔ کوہ باطل سےنظر آنے والا گوادر کا دلکش شہر 2016 میں نواز شریف کے دور میں تب خبروں کی زینت بنا جب اسے حکومت وقت نے سی پیک کا جھومر قرار دیا۔ تب کسی نے آنے والے وقتوں میں گوادر کو دبئی سے تشبیہ دی تو کسی نے سنگاپور سے۔ نواز دور۔میں ہی گوادر پورٹ سٹی ایک نیا نام ابھر کر سامنے آیا اور پھر چین نے یہان پر اہم ترین بندرگاہ کی تعمیر شروع کر دی۔
ترقی کسے اچھی نہیں لگتی، خوشحالی کے دن کون نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ جہاں گوادر سی پورٹ اب تجرباتی طور پر آپریشنل ہوچکا ہے وہیں یہاں ایک ایئرپورٹ پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ لیکن ناقدین کے مطابق ہونا یہ چاہیے تھا کہ چونکہ شہر کے باسیوں کا انحصار ماہی گیری پر ہے لہازا اس شعبے کے فروغ پر حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہئے تھی۔ مگر افسوس اسے گوادر کی ترقی کے تناظر میں بری طرح نظر انداز کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ صنعت کس قدر منافع بخش ہوسکتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بی این پی کے موجودہ ایم پی اے حمل کلمتی، بی این پی کے سابق رکن قومی اسمبلی عیسیٰ نوری اور نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی امور سیاست دان گوادر اور پسنی میں فش پروسسنگ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ گوادر کے کچھ مسائل ایسے ہیں جنہیں حل کیا جائے تو یہاں کا ہر ماہی گیر اس صنعت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان مسائل میں سر فہرست مچھلی کے شکار کی غیرقانونی ٹرالنگ ہے، بلوچستان کے زرخیز سمندر میں کئی اقسام کی نایاب مچھلیاں پائی جاتی ہیں جن کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں دو ہزار سے زائد اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ گوادر ماہی گیر اتحاد کے ترجمان یونس انور کے مطابق سندھ سے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں غیر قانونی ٹرالنگ کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے جو کہ نہ صرف بلوچستان کے ماہی گیروں کے حق پر ڈاکہ دالنے کے مترادف ہے بلکہ یہاں کی نایاب آبی حیات کی نسل کشی کے بھی مترادف ہے۔ یہ غیر قانونی ٹرالرز اپنے منافع کے چکر میں جس طرح کا جال شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں اس میں مچھلیوں کے ساتھ ان کے انڈے اور بچے بھی پکڑے جاتے ہیں۔ غیر قانونی ٹرالرز کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حوصلے مسلسل بڑھ رہے ہیں اور اب وہ رات کے علاوہ دن میں بھی غیرقانونی شکار کرتے ہوئے کسی قسم کا کوئی خوف محسوس نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ’گواننر‘ اور ’یالوار‘ نامی قیمتی مچھلی اب گوادر کے ساحل پر ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ یونس انور نے بتایا کہ مقامی ماہی گیر قرض لے کر سمندر میں کئی ماہ گزارنے کے باوجود وہ نفع نہیں کما سکتے جو غیر قانونی طور پر ٹرالنگ کے ذریعے کمایا جاتا ہے کیوں کہ یہاں کا مقامی ماہی گیر ان حصوں میں کبھی بھی شکار نہیں کرتا جہاں ان آبی حیات کی افزائش ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گوادر کے اعلی حکام پیسے لے کر ٹرالنگ کرنے والوں کو غیر قانونی شکار کی اجازت دیتے ہیں۔
ناقدین کہتے ہیں کہ گوادر میں مسلسل غیر قانونی ٹرالنگ محکمہ فشریز کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ گوادر کے اے ڈی سی اطہر عباس کے مطابق چند ماہ قبل ایک ضلعی میٹنگ کے دوران میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بتایا کہ پندرہ سے زائد غیر قانونی ٹرالر انہوں نے دو ماہ میں پکڑے جب کہ محکمہ فشریز نے اتنی تعداد میں دو سال میں بھی نہیں پکڑے۔
مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ایک تو عام بوٹس کے ذریعے پیٹرولنگ ممکن ہی نہیں لیکن پھر بھی محکمہ فشریز ہر مہینے کروڑوں روپے پیٹرول کی مد میں وصول کر لیتا ہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں گوادر اب وفاقی حکومت کی توجہ کا اہم مرکز بن گیا ہے اور ہر نیا حکمران اس شہر کی ترقی کو پاکستان کی ترقی قرار دیتا ہے وہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ گوادر کے بنیادی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ مقامی ماہی گیروں کی جدید ٹریننگ کی جائے اور انہیں فشنگ اور کشتی سازی کی تربیت دی جائے تاکہ مقامی آبادی کو روزگار کے مزید مواقع فراہم ہو سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close