شاہد آفریدی نے آفریدی پٹھانوں کا تعارف کیسے بدلا؟


پاکستان کا مشہور پٹھان قبیلہ آفریدی یوں تو پاک افغان سرحد پر تجارت اور انگریزوں کے ساتھ جنگ و جدل کے لئے مشہور ہے تاہم اس قبیلے کا نیا تعارف لیجنڈ کرکٹر شاہد خان آفریدی اور شاہین شاہ آفریدی کی وجہ سے کچھ بدل گیا ہے۔ اب آفریدی قبیلے کے لوگ کھیل ہی نہیں بلکہ سیاست، ادب، فون لطیفہ اور قانون کے شعبے میں بھی اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں کے علاوہ آفریدی قبائل افغانستان کے شہروں کابل، جلال آباد اور قندوز میں بھی آباد ہیں جبکہ ہندوستان کے شہروں دکن، ہریانہ صوبہ کے مشہور علاقے پانی پت، کشمیر ، بہار اور اترپردیش کے علاقے قائم جنگ میں بھی کثیر تعداد میں آفریدی رہائش پزیر ہیں۔ قابل ذکر بات ہہ ہے کہ بھارت کے سابق صدر ڈاکٹر ذاکر حسین اترپردیش کے آفریدی پختون قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے ایک اور پشتو شاعر قاسم علی خان بھی آفریدی تھے جو صاحب دیوان شاعر گذرے ہے۔ آفریدی قبیلے سے تعلق رکھنے والی دیگر نمایاں شخصیات میں نواب عظمت علی کوکی خیل، شیرخان خیل اور اُن کا بیٹا عجب خان افریدی انگریز سامراج کے خلاف جنگ ازادی کے عظیم ہیرو رہے ہیں جو پشتو فوک لور کا حصہ بنے۔ بعد میں عجب افریدی افغانستان ہجرت کر گے اور قندوز شہر میں وفات پاکر وہیں دفن ہوئے۔ عجب خان افریدی کے کارناموں اور مجاہدانہ زندگی پر ایک کامیاب پشتو فلم عجب خان بھی بنی تھی جو پشتو فلم انڈسٹری اور اپنے زمانے کے مشہور ہیرو بدر منیر کی کامیاب فلموں میں سے ایک ہے۔ پشتو شاعر خاطر آفریدی، عجب خان آفریدی ، ملتان خان آفریدی، سابقہ صدر ہندوستان ذاکرخان آفریدی قانون دان لطیف آفریدی، انگریزی روزنامہ فرنٹیر پوسٹ کے بانی رحمت شاہ آفریدی، کرکٹ کی دنیا کے ریکارڈ یافتہ کھلآڑی شاہد آفریدی جیسی شخصیات نے بھی آفریدی قبائل کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت دلا دی ہے۔ اردو ادب میں جاسوسی کی دنیا میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی مصنف ابن صفی نے اپنے ناولوں کے ایک ہیرو اور عظیم کردار کرنل فریدی کا تعلق بھی آفریدی قبیلے سے دکھایا ہے۔ ابن صفی نے جاسوسی دنیا پر مبنی ناولوں کے دو سلسلے حمید سیریز اور عمران سیریز تخلیق کیے جنہیں بین الاقوامی سطح پر شہرت ملی۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر لالہ عبد الطیف آفریدی بھی آفریدی پٹھانوں کا روشن چہرہ ہیں۔ اس کے علاوہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کی نشاندہی کرنے والے ڈاکٹر شکیل کا تعلق بھی آفریدی قبیلے سے ہی ہے جو اب قید میں ہے۔ آفریدی قبائل بعض اوقات پشتونوں کے مقامی لہجے میں اپریدی بھی کہلاتے ہیں لیکن اصل لفظ آفریدی ہی ہے۔ آفریدی قبیلہ دراصل کرلانی یا کرلانڑی نسل سے ہے۔یونامی مؤرخ ہیروڈٹس نے 500 سال قبل مسیح میں نے جن چار پشتون قبائل کا ذکر کیا تھا ان میں ایک ‘ایپی ریتی’ قبیلہ بھی شامل تھا جو ماہرین کے مطابق تب کا موجودہ آفریدی قبیلہ ہے۔ جبکہ لسانیت کے ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایپی ریتی اور آفریدی میں مماثلت موجود ہے۔ پشتون شجرہ انصاب کے مطابق اپریدی یا آفریدی برہان کا بیٹا، ککی کا پوتا اور کرلان یا کرلانڑ کا پڑپوتا تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق آفریدی بابا کا اصل نام عثمان بابا تھا لیکن بعد میں کسی واقعے کی وجہ سے آفریدی یا اپریدی بن گیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق آفریدی قبائل کے جد امجد کا نام فریدون تھا جو کرلان بابا کا پڑپوتا تھا۔ آفریدی قبائل درہ خیبر، کوہاٹ اور تیرا وادی میں آباد ہیں۔ آفریدی قبائل کے مشرق میں خٹک جنوب میں اورکزئی، سپین غر اور بنگش، مغرب میں شینواری اور شمال میں مہمند قبائل اباد ہیں۔ آفریدی قبائل کی اکثریت بنیادی طور پر پہاڑی علاقوں میں زندگی بسرکرتے ہیں۔ آفریدی قبائل کے لوگ جفاکش، محنتی، مہمان نواز، اور پشتون روایات پر کاربند طرز زندگی کے قائل ہیں۔ بہادری اور جوان مردی ان کا خاصہ ہے اور سکندر اعظم سے لیکر مغل بادشاہوں کےجبرواستبداد اور انگریز سامراج کے خلاف آفریدی قبائل کے بہادر سپوتوں نے معرکہ العراء کارنامے سر انجام دیے ہیں اور اپنی آزادی ، قبائلی طرز معاشرت اور جغرافیائی وحدت کے تحفظ کے لیے ہر بیرونی حملہ آور کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ آج آفریدی قبائل مزید آٹھ 8 ذیلی شاخوں میں تقسیم ہو چکا ہے جو آگے مذید زیلی شاخوں میں تقسیم درتقسیم ہے۔
باڑہ، جمرود، لنڈی کوتل اور اخور درہ آفریدی قبائل کے تجارتی مراکز ہیں اور قابل کاشت زمین کم ہونے کی وجہ سے آفریدی قبائل کے ذیادہ تر لوگ عرصہ دراز سے پاک افغان تجارت اور اس سے متعلقہ محنت مزدوری سے وابستہ رہے لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ اس قبیلے کے لوگ ہر شعبہ زندگی میں نمایاں نظر آرہے ہیں۔ لیکن آفریدی قبائل کو نئی پہچان دینے میں بلاشبہ سٹار کرکٹر شاہد خان آفریدی کا اہم کردار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close