خواتین بری ڈرائیونگ کے لیے اتنی بدنام کیوں ہیں؟

آج کے ترقی یافتہ معاشرے میں تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کلیدی کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں خواتین کو بری ڈرائیونگ کرنے والی جنس مشہور کر دیا گیا ہے۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کسی شاہراہ پر اگر کوئی گاڑی رش کی وجہ بن جائے تو بغیر دیکھے ہی یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ گاڑی کوئی خاتون ہی چلا رہی ہوگی۔

فرض کریں کسی سڑک پر ٹریفک کا اژدھام ہے، گرمی تو ظاہری سی بات ہے، اوپر سے گاڑی کا اے سی بھی کام نہیں کر رہا۔ آپ کے ساتھ اہل خانہ بھی گاڑی میں بیٹھے ہیں۔ جیسے تیسے کر کے آپ نے گاڑی آگے نکالی، اور اس جگہ پہنچے جو رش کا مرکز ہے تو پتہ چلے گا کہ وہ ایک خاتون ہیں جو اپنی گاڑی پھنسا چکی ہیں اور اسے موڑ نہیں پا رہیں۔ آپ کے منہ سے فوراً نکلے گا ‘مجھے پتہ تھا یہ کوئی آنٹی ہی ہوگی‘ اس کے بعد آپ ایک آدھی ہلکی پھلکی گالی دیں گے، ایکسلیٹر پر پورا زور دیتے ہوئے گاڑی دوڑائیں گے تاکہ غصے کی گرمی کم اور اے سی کی کم ٹھنڈک زیادہ ہو سکے۔
لیکن آپ کی گاڑی میں اگر آپ کے ساتھ بیوی، بیٹی یا بہن موجود ہیں تو وہ زندگی میں جب کبھی گاڑی سڑک پر لائیں گی تو کیا وہ آپ کے اس طنز کو اپنے لاشعور سے کھرچ پائیں گی؟
ذرا غور فرمائیں: لڑکے بچپن سے ہی سائیکل، موٹر سائیکل بلکہ ڈنڈے کے ساتھ ٹائر چلا کر جوان ہوتے ہیں۔ زیادہ تر مرد ویڈیو گیمز میں بھی موٹر سائیکل اور گاڑیوں کو دوڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسٹیئرنگ کنٹرول تو انہیں یہیں سے سمجھ آنے لگتا ہے۔ رہی بات روڈ سینس کی تو لڑکپن میں ابا بھی آپ کو اپنی بائیک کی چابی تھما دیتے ہیں کہ لو بھئی گلی کی نکڑ سے فلاں شے تو پکڑ لاؤ۔
امی کہیں گی تم سائیکل سنبھال تو لیتے ہو چلو بہن کو ٹیوشن سینٹر چھوڑ آؤ، دوست یار آئیں گے اور بائیک یا کار پر ریس کا دعوت نامہ آپ کے حضور پیش کیا جاتا ہے اور ابھی آپ کی مسیں بے شک بھیگی نہ ہوں آپ دوسروں کے ماتھے اپنی بے ڈھب ڈرائیونگ سے ضرور بھگونے لگتے ہیں۔ آپ کے بہت زیادہ بچپن کے کھیل بھی بندوق والے کھلونوں اور چھوٹی گاڑیوں کے تحائف پر مشتمل ہوتے ہیں۔

اب ذرا عورتوں کی طرف آئیے۔ بچپن سے انہیں کھیلنے کےلیے گڑیائیں تحفے میں ملتی ہیں، کچن کے برتن، گڑیا کا گھر، میک اپ کٹ اور بہت کوئی جدید اور پڑھے لکھے اماں ابا ہوں گے تو ڈاکٹر سیٹ۔۔۔

لڑکیوں کے کھیل ہوں گے گھر گھر کھیلنا، ٹیچر اسٹوڈنٹ اور گڈی گڈے کی شادی۔ اگر کبھی بچپن میں سائیکل چلائی ہو تو لڑکپن میں جاتے ہی وہ چھن جاتی ہے۔ پھر تربیت ہوگی ساری کی ساری ایک اچھی بیٹی اور بہو پروان چڑھانے کی، یعنی کھانا پکانا سکھایا جائے گا، سلائی کڑھائی، گھر کے معاملات درست کرنے کی ٹریننگ، حیا داری اور سلیقہ شعاری کے چکر میں انہیں نظر اٹھا کر چلنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ اسکول جاتی ہیں تو ابو یا بھائی چھوڑ کر آئیں گے، واپس بھی وہ ہی لائیں گے۔ وین لگی ہوئی ہے تو بھی وین، رکشہ، ٹیکسی یا پرائیویٹ کار سب کے ڈرائیور مرد ہو ہوتے ہیں۔ سڑک پار کریں گی تو ساتھ چلتا بھائی چاہے چھوٹا ہی کیوں نا ہو وہ ہمیں راستہ دکھائے گا۔ دوپٹے، چادریں، نیچی نگاہیں اور اچھی عورتیں ہونے کے سب لوازمات پورے کرتے کرتے لڑکیوں کو اچھی ماں، بیوی اور بیٹی کی ڈگری تو مل جاتی ہے لیکن سڑک پر چلنے کا اعتماد تک ختم ہو جاتا ہے، کجا وہ ڈرائیونگ کےلیے سڑک پر آئیں اور آتے ہی فاسٹ اینڈ فیورس کی ہیروئن بن جائیں۔
پھر رہی سہی کسر پوری ہوجاتی ہے خواتین کے سامنے بولے گئے ان جملوں سے۔
جب گھر کے مرد ہی کہتے ہوں کہ ٹریفک جام ہونے کی وجہ ‘کوئی آنٹی‘ ہی ہوگی۔ یقین جانیے ایسے ہر جملے کے بعد کئی بار انہوں نے اپنی ہمت ٹوٹتی ہوئی محسوس کی ہوگی۔
ہر بار کسی بھی مرد ڈرائیور کا کہا گیا ایسا جملہ کیسے خواتین ڈرائیور کی دل آزاری کا باعث بنتا ہوگا اس کا اندازہ ایک مرد کبھی نہیں کرسکتا جب بالکل درست ڈرائیونگ کے باوجود لاشعوری طور پر دوسروں کی غلطی کا سہرا بھی خواہ مخواہ خواتین کے سر تھوب دیا جاتا ہے۔ اور تو اور ایک نجی ڈرائیونگ اسکول کے سربراہ ہر بار اپنی تھیوری کی کلاس میں یہ بات بتاتے ہیں کہ جب سڑک پر آپ دیکھیں کہ عورت ہے تو آپ نے خود ہی بچنا ہے۔ وہ آپ کو ضرور پریشان کرے گی، اور ایسا کہنے کے بعد پورے ہال کے قہقہوں میں عورتوں کی کھسیانی ہنسی کوئی سن نہیں پاتا نہ سننا چاہتا ہے۔
سوچیں، ان عورتوں کو اس قدر کنفیوزڈ آخر کس نے کیا؟ ایسی کسی کلاس میں کوئی نئے مرد ڈرائیوروں سے یہ نہیں کہتا کہ جب سڑک پر دیکھیں کہ عورت گاڑی چلا رہی ہے تو اس کے مددگار بنیں، اسے بار بار ہارن بجا کر پریشان مت کریں، اس کے کان کے پاس آکر مت چلائیں، اور سب سے اہم بات یہ کہ اپنے آس پاس کی عورتوں کے دماغ میں یہ ڈیٹا ڈالنا بند کریں کہ سڑک پر ٹریفک رکنے کی وجہ ‘ایک آنٹی‘ ہی ہیں۔ کیوں کہ دنیا کے تمام سروے یہ بتاتے ہیں کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں محتاط ڈرائیونگ کرتی ہیں اور حادثات کا شکار بھی کم ہوتی ہیں۔ تقریباً تمام ہی سروے میں مردوں کو ٹریفک کےلیے زیادہ بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close