بیگم نسیم ولی: ’ثابت قدم، مردم شناس اور بااصول سیاست دان‘

خیبر پختونخوا کی نامور بزرگ سیاسی شخصیت، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی بانی رہنماؤں میں سے ایک اور خان عبدالولی خان کی اہلیہ بیگم نسیم ولی خان اتوار کی صبح انتقال کر گئیں۔ایک عرصے سے فالج کے مرض میں مبتلا بیگم نسیم ولی خان کا انتقال دورہ پڑنے سے ہوا۔
1975 میں سیاست میں قدم رکھنے والی بیگم نسیم ولی خان نے پاکستان کی صوبائی اور قومی سیاست کے کافی اتار چڑھاؤ دیکھے اور سیاسی اور ذاتی چیلنجر کا مقابلہ کیا۔ان کا اصل سیاسی امتحان اس وقت شروع ہوا جب 1974میں چارسدہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی حیات شیرپاؤ کی بم دھماکے میں موت ہو گئی۔ذوالفقار بھٹو کو شک تھا کہ اس واقعے کے پیچھے نیشنل عوامی پارٹی اور ولی خان کا ہاتھ ہے۔
واقعے کے ردعمل میں انہوں نے این اے پی کو کالعدم قرار دے کر اس کی اعلیٰ قیادت کی گرفتاری کا حکم دیا، جس میں ولی خان بھی شامل تھے۔ولی خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ‘حیدرآباد ٹریبیونل’ کے تحت مقدمے کا آغاز ہوا تو ولی خان نے اس مقدمے کو بے بنیاد اور اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے اپنے دفاع سے انکار کر دیا۔اگلے سال 1975 میں انہی حالات کے تناظر میں بیگم نسیم ولی خان نے سیاست میں قدم رکھا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکریٹری ثقافت خادم حسین نے بتایا کہ اس وقت کی نیشنل عوامی پارٹی(موجودہ عوامی نیشنل پارٹی) کی اعلی قیادت کی غیر موجودگی میں نسیم ولی خان نے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہوئے پارٹی کارکنان اور عوام کا اعتماد بحال کیا اور باچا خان کی تحریک، جو 1921 سے چلی آرہی تھی، میں ایک نئی روح پھونک دی۔‘نسیم ولی خان کی موت پاکستانی سیاست کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی سیاست میں بالخصوص اور پاکستانی سیاست میں باالعموم بہت اہم کردار ادا کیا۔’انہوں نے اس وقت سیاسی میدان میں قدم رکھا جس وقت نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت مختلف مقدمات کے تحت جیلوں میں تھی۔‘
خادم حسین نے مزید کہا کسی پشتون خاتون کے لیے مایوسی کی اس فضا میں پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنا، کارکنان اور عوام کا اعتماد بحال کرنا اور ان کی نمائندگی کرنا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔ان کو 1977 کے عام انتخابات میں کسی بھی خاتون کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی جنرل سیٹ پر کامیابی کا اعزاز حاصل ہے۔مرحومہ نے پی-ایف 15 چارسدہ تین سے 1977، 1993 اور 1997میں صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور اپنے مرد حریفوں کو ہرایا۔
وہ مسلسل تین مرتبہ اپنی پارٹی کی صدارت کر چکی ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی 1986 میں عوامی نیشنل پارٹی بن گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور جب ولی خان کی وفات کے بعد ان کے اپنے سوتیلے بیٹے اسفندریار خان کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے تو 2014 میں انہوں نے اے این پی- ولی کے نام سے ایک اور سیاسی تنظیم کی بنیاد رکھی۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری سردار حسین بابک کہتے ہیں کہ بیگم نسیم ولی خان انتہائی ثابت قدم، مردم شناس اور اصول و قواعد کی پابند تھیں۔انہوں نے کہا کہ مرحومہ سیاسی بصیرت کی حامل تھیں اور تنظیمی نظم وضبط کو انہوں نے ہمیشہ مقدم رکھا۔‘ان کی اپنی پارٹی سے اختلافات کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنی رٹ کو بحال رکھا۔ وہ سیاسی سرگرمیوں میں کافی متحرک رہتی تھیں۔
’وہ بنیادی طور پر ایک سنجیدہ طبع خاتون تھیں، اس لیے اکثر کارکنان ان کی شخصیت سے خائف رہتے تھے۔ تاہم انہوں نے جب بھی بات کی اس میں دوسروں کے لیے علم اور شفقت کا عنصر نمایاں ہوتا تھا۔‘سردار بابک نے ایک ذاتی قصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لڑکپن میں نسیم ولی خان نے ان کے آبائی گاؤں بونیر کا دورہ کیا تو ان کے ایک چچا نے، جو اس وقت پارٹی میں صدر تھے، نسیم ولی خان سے سردار بابک کا تعارف کروایا۔’میرے چچا نے کہا کہ یہ میرے بھتیجے ہیں۔ بیگم نسیم ولی نے مجھے ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ میں نوجوان تھا اور مجھے سخت کمتری کا احساس ہوا۔’لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ میں اس وقت ایک لاابالی سا نوجوان تھا اور بیگم نسیم کی یہی خاصیت تھی کہ انہوں نے ایک ہی نظر میں مجھے پہچان کر نظر انداز کر دیا۔‘
سردار بابک مزید کہتے ہیں کہ بعد میں جب وہ باقاعدہ طور پر سیاست میں آئے اور اس میں سنجیدگی سے حصہ لیا تو وہی بیگم نسیم ولی خان تھیں جنہوں نے ان کو سراہا اور ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔’جس وقت میں پارٹی الیکشن کمیشن کا چیئرمین تھا اور بیگم ولی خان کو ممبرشپ دینے کے لیے میں خود ان کے گھر پہنچا تو ملاقات کے وقت میں نے ان کی آنکھوں میں اپنے لیے وہ اظہار دیکھا جو میں نے ان کے دورہ بونیر میں ان سے پہلی ملاقات میں کھو دیا تھا۔’انہوں نے پرستائش الفاظ میں کہا کہ وہ میری کارکردگی سے خوش اور مطمئن ہیں۔ یہی ان کی مردم شناسی تھی جو ان کی سیاست کا خاصہ تھی۔‘
جب بیگم نسیم ولی خان کی اپنے سوتیلے بیٹے اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی خان سے پارٹی صدارت اور منشور پر اختلافات بڑھ گئے تو انہوں نے 2014 میں اے این پی-ولی کی بنیاد رکھی اور یوں عوامی نیشنل پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔نئی پارٹی میں ان کے ساتھ شمولیت اختیار کرنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے پرانے کارکن فرید طوفان تھے۔ جنہوں نے مرحومہ کا آخر وقت تک ہر مرحلے پر ساتھ دیا۔
فرید طوفان نے ان کی وفات پربتایا کہ بیگم نسیم ولی خان ان پر بہت اعتبار کرتی تھیں۔ ‘میں نے اپنی والدہ سے زیادہ ان کے ساتھ وقت گزارا۔ وہ اپنا دکھ، غم اور خوشی مجھ سے شئیر کرتی تھیں۔’میں اس پارٹی میں پہلے دن سے کارکن رہا ہوں اور خود ولی خان نے بیگم نسیم کو میرے بارے میں نصیحت کی تھی کہ مجھے ہر مرحلے میں اپنے ساتھ رکھیں۔‘2005 میں عوامی نیشنل پارٹی کو خیرباد کہنے والے فرید طوفان پارٹی اختلافات اور اے این پی- ولی دھڑے کے قیام اور اسفندیار ولی کے نسیم ولی خان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اسفندیار ولی اور بیگم نسیم ولی کے درمیان انتہائی احترام کا تعلق رہا۔
‘اسفندیار ولی خان کی والدہ بچپن میں ان کی پیدائش پر انتقال کر گئی تھیں۔ اس لیے ان کی پرورش خود نسیم ولی خان نے کی۔’سیاست کے معاملے پر دونوں ماں بیٹے کے درمیان شروع ہونے والے اختلافات کے بعد دونوں کو اندازہ ہوا کہ ایک دوسرے سے دوری اور اختلافات نے انہیں اور باچا خان کے نظریے کو کافی نقصان پہنچایا۔‘یہی وجہ تھی کہ نسیم ولی خان کے بھتیجے اور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی کی مصالحت پر اگست 2017 میں دونوں سیاسی لیڈروں کے درمیان چارسدہ ولی باغ میں صلح ہوئی اور یوں بیگم ولی خان نے اپنی پارٹی کو اے این پی میں ضم کر دیا۔بیگم نسیم ولی انتخابات میں خواتین کی شرکت کی بہت قدردان تھیں اور اس کو بہت سراہتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو نظر انداز کرنا معاشرے کے ایک بڑے حصے کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close