راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں کپتان کا نام بھی آ گیا


راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل بارے اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ سڑک کی لمبائی 36 کلومیٹر بڑھانے کا فیصلہ کسی اور نے نہیں بلکہ خود وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے دور میں راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا خاکہ تیار کیا گیا تھا جس کے مطابق سڑک کی کل لمبائی 50 کلومیٹر تھی لیکن موجودہ دور حکومت میں عمران کی چند قریبی حکومتی شخصیات کی خواہش پر انکے علاقوں سے رنگ روڈ سڑک گزارنے کے لیے سڑک کی لمبائی میں 36 کلو میٹر کا اضافہ کر دیا گیا اور اسکی لمبائی 86 کلو میٹر کر دی گئی جس پر پچیس ارب روپے اضافی لاگت آنا تھی۔
راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ کی سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اٹک لوپ اور پسوال زگ زیگ تک کی اضافی سڑک بنانے کی ہدایت خود وزیراعظم عمران خان نے دی جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی مرضی بھی شامل تھی۔ اس سے پہلے حکومت کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جا رہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے خود اس سکینڈل کا سراغ لگایا ہے لیکن دستاویزی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان خود اس اسکینڈل کے مرکزی کردار ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ 4 فروری 2021 کو وزیر اعظم کے دفتر سے عمران خان کی سربراہی میں رنگ روڈ اور مارگلہ ہائی وے کے حوالے سے منتعقدہ اجلاس کا حوالہ دے کر ایک ہدایت جاری کی گئی جس میں راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے اٹک لوپ اور پسوال زگ زیگ کی اضافی سڑک کی تعمیر کی توثیق کی گئی، جو اب ایک بڑا اسکینڈل بن چکا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہدایات مین کہا گیا کہ مارگلہ ہائی وے کو راولپنڈی رنگ روڈ سے جوڑا جائے تاکہ وہ ایم ون سے مل جائے۔ وزیر اعظم ہاوس کی طرف سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا کہ سی ڈی اے زون۔ 2 کی سڑک کے ترقیاتی کام کے لیے حقوق حاصل کرے جب کہ اس سے باہر کے ایریا میں باڑ لگا دی جائے گی تاکہ اسکا کنٹرول قابل رسائی رہے۔
وزیراعظم کی جاری کردہ ان ہدایات کا تعلق دراصل پسوال زگ زیگ سے ہے جو مارگلہ روڈ کو رنگ روڈ سے سنگجیانی کی زون۔2 میں جوڑتا ہے۔ مارگلہ روڈ کو رنگ روڈ سے جوڑنا صرف سنگجیانی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تاہم اب اس معاملے پر اسکینڈل کھڑا ہوگیا ہے کیوں کہ یہ زمین ایک سینئر بیوروکریٹ ڈاکٹر توقیر شاہ کی فیملی کی ملکیت ہے۔ اس کے علاوہ زلفی بخاری کی والدہ بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ رنگ روڈ کی لمبائی بڑھانے کے پیچھے عمران خان کے تین قریبی افراد بحریہ ٹاون کے ملک ریاض، زلفی بخاری اور غلام سرور خان
کا ہاتھ ہے۔ اس معاملے میں وزیراعظم کی جاری کردہ ہدایات کا دوسرا حصہ حکومت پنجاب سے متعلق ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایم۔1 کا مشرق والا حصہ پنجاب میں آتا ہے، اس پر تعمیر کرنا اور باڑ لگانا حکومت پنجاب کی ذمہ داری ہے۔ یہ حصہ اب اٹک لوپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
سرکاری دستاویزات کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ میں اٹک لوپ اور پسوال زگ زیگ کے اضافی حصوں کی تعمیر کرنے کے لیے ہدایات وزیراعظم ہاؤس سے آئیں کیونکہ عمران خان نے خود کہا تھا کہ مارگلہ روڈ کو راولپنڈی رنگ روڈ سے جوڑ دیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان کی ان ہدایات کے 23 روز بعد پنجاب کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی کی پروجیکٹ نظرثانی کمیٹی اور مانیٹرنگ بورڈ نے 27 فروری 2021 کو وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اقتصادی امور ڈاکٹر سلمان شاہ کی زیر صدارت ایک اجلاس کیا جس میں راولپنڈی رنگ روڈ ہمواری منصوبے بشمول اٹک لوپ اور پسوال زگ زیگ کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ رنگ روڈ منصوبے کے اخراجات اور فنانسنگ کے معاملات بھی طے کیے گے۔
یا درہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ چھ لین منصوبہ ہے جو این۔5 ریڈیو اسٹیشن انٹرچینج سے ہاکلہ ڈی آئی خان انٹر چینج تک جاتا ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز نے بھی اب یہ الزام لگایا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں مرکزی کردار وزیراعظم عمران خان کا ہے لہازا وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں تاکہ ان کے خلاف بغیر کسی دباؤ کے تحقیقات اور کارروائی کی جا سکے۔ یاد رہے کہ اس کیس کی ابتدائی انکوائری رپورٹ کے بعد نیب نے جن 37 افراد کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے وہ سب لوگ سرکاری ملازمین ہیں۔ لیکن اب نواز لیگ نے رنگ روڈ اسکینڈل کو قومی خزانے پر 25 ارب روپے کا ڈاکہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم نے اسکینڈل میں اپنا نام سامنے آنے کے بعد راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی دوبارہ سے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ تفتیش کے لیے یہ کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھجوایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ دو نئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹس سامنے آنے کے بعد کیا گیا یے جن میں ایک راولپنڈی کے کمشنر اور دوسری ڈپٹی کمشنر نے تیار کی تھی۔ ان رپورٹس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ رنگ روڈ منصوبے کو وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور ان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کی منظوری سے ری الائن کیا گیا تھا۔
تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) نے رنگ روڈ منصوبے کی ری الائمنٹ منظور کرنے پر متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ تو وزیراعظم عمران اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور نہ ہی اس سے براہِ راست ‘مستفید ہونے والے’ غلام سرور خان اور زلفی بخاری کو استثنٰی دیا جا سکتا ہے۔ کمشنر راولپنڈی کی رپورٹ میں کچھ نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے نام دیے گئے تھے جو رنگ روڈ کے اصل پلان سے بہت دور تھیں لیکن ری الائنمنٹ سے انہیں فائدہ پہنچایا گیا۔ ان میں سب سے نمایاں نام ملک ریاض حسین کے بحریہ ٹاؤن کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close