عمران اسرائیل کی زبانی مذمت سے آگے کیوں نہیں جا رہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود خطے میں غیر ملکی طاقتوں کا سہولت کار بن کر رہ گیا ہے اور اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کی زبانی مذمت سے آگے نہیں بڑھ سکے، وجہ یہ ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا انجام نہیں بھولے ہیں۔ آج کی وہ نوجوان نسل جو ہر الیکشن میں ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کا نعرہ سنتی ہے، اسے پیپلز پارٹی کی قیادت یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ جب 1973کے رمضان المبارک میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی تو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان ایئر فورس کے پائلٹ شام اور اردن بھجوائے جنہوں نے فضائی جنگ میں اسرائیل کے کئی طیارے تباہ کئے۔
حامد میر اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنانے والے اسرائیل کی نظریں پورے مشرق وسطیٰ پر ہیں اور اُس کے سرپرستوں نے سعودی عرب اور ایران سے لے کر پاکستان اور افغانستان تک کئی اہم مسلم ممالک کی سرحدیں تبدیل کرنے کے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرکے دیکھ لیا۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں پر ظلم و ستم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور 2021کے رمضان المبارک میں اسرائیل نے بیت المقدس سے لے کر غزہ تک اپنی طاقت کا جو بہیمانہ استعمال کیا اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بات کرنا دراصل اسرائیل کے ریاستی جرائم میں شریک ہونے کے مترادف ہوگا۔ اسرائیلی ریاست نے سیلف ڈیفنس کے نام پر غزہ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کے چیتھڑے اُڑا کر بہت سے یہودیوں کو بھی اسرائیل کی مذمت پر مجبور کردیا۔
لندن کی سڑکوں پر ہمیں بہت سے آرتھوڈاکس یہودی رہنما مسلمانوں کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے حق میں نعرے لگاتے نظر آئے۔ اسرائیلی مظالم کی مذمت میں نہ صرف مسلمان بلکہ مسیحی اور یہودی بھی پیش پیش ہیں۔ اسرائیل کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو صیہونی سوچ کے خلاف ہیں۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم صیہونیت اور یہودیت میں فرق کو سمجھیں اور اسرائیلی ریاست کی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنے والے یہودیوں کے ساتھ مل کر دنیا پر صیہونی عزائم کو واضح کریں۔ اسرائیل دنیا کی وہ منفرد ریاست ہے جو 1948میں قائم کی گئی اور ابھی تک اس ریاست کی مستقل سرحدوں کا فیصلہ نہیں ہوا۔ اسرائیل نے 1967 اور 1973 کی عرب اسرائیل جنگوں کے دوران اپنی سرحدوں میں تبدیلی کی اور کچھ برسوں سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو پامال کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر اپنی جغرافیائی حدود میں اضافہ کر رہا ہے۔ کچھ ایسی ہی حرکت بھارت نے اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر کے کی تھی۔ عجیب اتفاق ہے کہ ماضی میں جو طاقتیں پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دبائو ڈالتی رہیں اب وہ طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان مذاکرات کے نام پر بھارت کے سامنے کشمیر پر سرنڈر کردے تاکہ کل کو بھارت کشمیر میں وہی کچھ کرے جو اسرائیل آج غزہ میں کررہا ہے۔
حامد میر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب پاکستان ایٹمی طاقت نہیں تھا تو اس کا زیادہ رعب و دبدبہ تھا۔ ایٹمی طاقت بننے کے بعد سے پاکستانی ریاست اس خطے میں غیر ملکی طاقتوں کی سہولت کار بن کر رہ گئی ہے جس پر ہر وقت کہیں نہ کہیں سے ’’ڈو مور‘‘ کا دبائو رہتا ہے۔
لیخن اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان حکومت نے ابھی تک اسرائیل بارے وہ لچک نہیں دکھائی جس کی توقع کچھ اسلامی ممالک کر رہے تھے۔ حامد میر کہتے ہیں عمران خان سے سو اختلاف کریں لیکن اسرائیل کے بارے میں ان کا موقف دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ ابھی تک وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ لیکن فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی انہوں نے زبانی مذمت کی ہے اور مذمت سے آگے وہ بھی نہیں بڑھ سکے کیوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کا انجام وہ اب تک نہیں بھولے جنہوں نے 1973 کے رمضان المبارک میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان ایئر فورس کے پائلٹ شام اور اردن بھیجے جنہوں نے کئی اسرائیلی طیارے تباہ کئے۔ اس جنگ میں شمالی کوریا، سعودی عرب، کویت، مراکش، لبنان اور سوڈان نے بھی اپنے فوجی دستے اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجے۔
دوسری جانب امریکہ نے کھل کر اسرائیل کی مدد کی تھی۔ عرب ممالک بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ ختم نہ کرا سکے لیکن عربوں نے پہلی دفعہ تیل کا ہتھیار استعمال کیا۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ اس جنگ کے کچھ عرصہ بعد فروری 1974 میں بھٹو نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروائی۔ اس کانفرنس میں مصر کے صدر انور السادات اور لیبیا کے صدر معمر قذافی ایک ہی طیارے میں لاہور آئے۔ پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کو امیر کویت اپنے طیارے میں لے کر آئے۔ شام کے سوشلسٹ صدر حافظ الاسد اور سعودی عرب کے شاہ فیصل نے ایک ساتھ بھٹو کے ہمراہ بادشاہی مسجد لاہور میں بیت المقدس کی آزادی کے لئے دعا مانگی۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے ایک مینار آج بھی اس عظیم کانفرنس کی یادگار کے طور پر موجود ہے لیکن اس کانفرنس کے بعد باری باری شاہ فیصل، بھٹو اور انور سادات سازشوں کا نشانہ بنتے گئے۔ اسرائیل نے مذاکرات کے نام پر عربوں کو تقسیم کیا اور آپس میں خوب لڑایا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ جب پاکستان ایٹمی طاقت نہیں بنا تھا تو اسرائیلی جارحیت کو للکارنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ لیکن بھٹو کی پھانسی کے بعد ایسا کبھی نہ ہو سکا۔ پاکستان کو 1998 میں ایٹمی طاقت بنانے والے وزیراعظم نواز شریف بھی آج جلا وطن ہیں۔ اسرائیل کی مذمت تو سب کرتے ہیں لیکن اس کے خلاف عملی اقدامات کرنے کی جرأت سے ہماری قیادت محروم ہو چکی ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اسرائیل کے بارے میں بانی پاکستان قائداعظمؒ محمد علی جناح نے جو موقف 1948میں اختیار کیا تھا وہ موقف آج بھی درست ہے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ اسرائیل اور بھارت کی انتہا پسند قیادت ناقابلِ اعتبار ہے۔ اور اگر کسی کو اس بارے کوئی غلط فہمی ہے تو اب اسے دور کر لے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close