شہباز شریف کے معاملے پر آرمی چیف اور کپتان میں تناؤ

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے معاملے پر آرمی چیف جنرل باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان کے تعلقات میں نئے تناؤ کی اطلاعات ہیں جن کے بعد اب میدان لگنے والا ہے۔ ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کیس کی جو بھی حقیقت ہو، اُنکی نیب کی قید سے رہائی نے حزب اختلاف اور اسٹیبلشمینٹ کے درمیان کسی قسم کی ”ڈیل“ کی افواہیں گرم کردی ہیں اور اب یہ تائث بھی عام ہے کہ مستقبل قریب میں حکومت کو چلتا کرنے کا پروگرام بن چکا۔ شہباز شریف کی ضمانت پر سیخ پا عمران خان کے میڈیا ٹرولز نے عدلیہ پر چڑھائی کردی کہ اس نے طاقتور افسران کی بات مانتے ہوئے شہباز شریف کو رہا کردیا ہے۔ رہائی کے ردعمل میں حکومت نے ایف آئی اے اور نیب کو شہباز شریف کو دوبارہ گرفتار کرنے کا ہدف دے دیا ہے جس کے بعد ان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز اور دوسرے پرانے کیسز کی دوبارہ تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اب ایک جانب حکومت شہباز شریف کو باہر جانے سے روکنے کے درپے ہے جب کہ دوسری جانب فوجی اسٹیبلشمنٹ انہیں لندن بھجوانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ قرین از قیاس یہی ہے کہ شہباز شریف بالآخر حکومتی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے بیرون ملک روانہ ہو جائیں گے جہاں ان کی اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے ساتھ اگلے سیاسی سیٹ اپ کے حوالے سے اہم ترین ملاقاتیں ہونا ہیں۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ایسے میں بجٹ کا موسم بھی آچکا ہے۔ حالات اتنے ابتر ہیں کہ عام آدمی کے لیے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ اس عالم میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جہانگیرترین فارورڈ بلاک کو کہیں سے ایک اشارے کی ضرورت ہے وہ میدان میں اتریں اور بجٹ منظور ہونے سے روک دیں۔ سیٹھی کے مطابق اس کا مطلب وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا دروازہ کھولنا ہوگا۔ لیکن دوسری طرف عمران خان بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے رہیں گے اور وہ بھی اپنا اقتدار بچانے کے لیے پورا زور لگائیں گے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ بھی پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمینٹ ان کا ساتھ دیتی ہے یا اس معتبہ انہیں صرف انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ کے مخصوص دھڑے کی حمایت پر ہی بھروسہ کرنا پڑے گا۔
نجم سیٹھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کندھا دینے والے ایک صفحے پر دکھائی نہیں دیتے۔ یہ جی ایچ کیو،وزیر اعظم آفس اور دفتر خارجہ ہیں جن کی نمائندگی بالترتیب جنرل قمر جاوید باجوہ، عمران خان اورشاہ محمود قریشی کرتے ہیں ۔ یہ مضحکہ خیز صورت حال شاید ہی کسی اور جگہ اتنی واضح ہو جتنی بھارت کے حوالے سے۔یہ بات قابل غور ہے۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ 18 مارچ 2021 ء کو جلدبازی میں اسلام آباد میں ایک قومی سیمینار کا اہتمام ہوا جس میں جنرل باجوہ کی ایک تقریر نے پاکستان کی بھارت بارے پالیسی سوچ میں بنیادی تبدیلی کی بحث چھیڑ دی۔ یہ تبدیلی جغرافیائی تدبیر سے معاشی تدبیر کی طرف پیش رفت تھی۔ اس کا بنیادی مرحلہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لاناتھا تا کہ مسلسل فوجی کشمکش کی وجہ سے پڑنے والا دفاعی دباؤ کم کیا جاسکے۔ اس کے فوراً بعد جنرل باجوہ کی ”تاریخی“ پیش رفت کی وضاحت کرنے اور اس کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے آئی ایس پی آر نے دودرجن صحافیوں کو چنا۔
سیٹھی کے مطابق میڈیا کی جنرل باجوہ کے ساتھ سات گھنٹوں پر طویل گفتگو کو مندرجہ نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے: پہلا نکتہ یہ کہ انڈیا کے مشیر برائے قومی سلامتی، اجیت دول اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، جنرل فیض حمید کے درمیان ”بیک چینل“کا آغاز مسلم لیگ ن کے وزیر اعظم، شاہد خاقان عباسی کی منظوری سے ہواتھا۔ اس کے نتیجے میں 24/25 فروری 2021ء کو لائن آف کنٹرول پر فائربندی کا معاہدہ عمل میں آیا۔ دوسرا نکتہ یہ کہ بھارتیوں نے پاکستانیوں کو یقین دلایا کہ وہ دیگر معاملات پر بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں جو جامع مذاکرات کا حصہ تو نہیں لیکن ہر معاملے کو فرداً فرداً دیکھا جاسکتا ہے، اور جب صورت حال معمول پر لانے کے اقدامات اٹھائے جائیں تو کشمیر تنازع بھی اس عمل کا حصہ بن سکتا ہے۔
تاہم اپنا مخصوص زاویہ نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں نے فوراً مندرجہ ذیل نکات کی نشاندہی کردی: پہلا یہ کہ سرکاری اور عوامی سطح پر پاکستان کا موقف تھا کہ جب تک انڈیا پانچ اگست 2019 ء کے کشمیر پر قبضہ جمانے کے اقدام کو واپس نہیں لے گا، پاکستان اس کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کرے گا، لیکن درحقیقت پاکستان کے انڈیا کے ساتھ پس ِپردہ رابطے جاری تھے۔ دوسرا نکتہ یہ کہ یہ گفتگو سولین حکومت کی بجائے فوجی اسٹیبلشمینٹ نے کی تھی، پھر بھی وہ فائر بندی کے معاہدے سے آگے تک جانے کی تجویز پیش کررہے تھے۔ تیسرا نکتہ یہ کہ مجوزہ نتائج کو کسی قدر قانونی جواز دینے کی کوشش میں کہا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران شاہد خاقان عباسی نے 2017 ء میں اس عمل کی منظوری دی تھی۔ تاہم عباسی نے اس کی فوری تردید کردی۔ اس کا مطلب ہے کہ پس پردہ رابطے 2020 ء کے آخرمیں ہی شروع ہوئے تھے۔ چوتھا نکتہ یہ کہ اس معاملے پر بھارتیوں کی طرف سے مکمل خاموشی سے اشارہ ملتا تھا کہ وہ اس پر مختلف موقف رکھتے ہیں، لیکن وہ اس کی تصدیق یا تردید نہیں کرنا چاہتے۔
نجم سیٹھی کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے وزارت تجارت کو گرین سگنل دیتے ہوئے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ رابطہ کمیٹی برائے معاشیات نے اسکی منظوری بھی دے دی۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ کیا یہ بھارت کے آرٹیکل 370 کی بحالی تک تجارت نہ کرنے کے فیصلے پر یوٹرن لے لیا گیا ہے تو کابینہ نے پرانی پالیسی کا اعادہ کردیا اور یوٹرن لیتے ہوئے بھارت سے تجارت پر پابندی عائد کردی۔ اب جی ایچ کیو اور وزیراعظم آفس الجھن میں ہیں کہ آگے کیسے بڑھیں۔ یہاں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار، شاہ محمود قریشی آگے بڑھے اور بڑی ڈھائی سے ٹی وی چینلز کو بتایا کہ آرٹیکل 370 ”بھارت کا اندرونی معاملہ“ ہے۔ گویا اس پر بات کیے بغیر بھی معمول کے تعلقات کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق اس پر ایک شور سا مچ گیا۔ وزیر اعظم، عمران خان کو صحافیوں کے ایک محدود گروپ کو بریفنگ دینی پڑی کہ جی ایچ کیو کی جو بھی خواہش ہو، وہ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لا سکتے جب بے روزگاری، مہنگائی اور غربت کی وجہ سے عوام کے احتجاج نے اُن کی حکومت کو ہلا ڈالا ہو اور حزب اختلاف اُن کے خون کی پیاسی ہو۔ چند روز پہلے تو عمران نے یہ اعلان کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعلقات معمول کی سطح پر لانے کے جنرل باجوہ کے اقدام کا باضابطہ طور پر خاتمہ کردیا کہ اگست 2019 ء کے اقدام کی واپسی تک بھارت کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوگی۔ شاہ محمود قریشی نے دانت پیستے، ڈائس پر مکہ مارتے ہوئے دبنگ لہجے میں کہا کہ”پاکستان کی خارجہ پالیسی دفتر خارجہ میں بنتی ہے“۔ گویا اس میں جی ایچ کیوکا کوئی عمل دخل نہیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق یہ موقف جی ایچ کیو اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان تازہ ترین رسہ کشی کا مظہر ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے پریشان کن طرزعمل کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور اسٹیبلشمینٹ اب بھی ریاض کا غصہ دور کرنے کی کوشش میں ہے۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف سعودی اتحاد فوج کی قیادت کررہے ہیں، ریاض میں نئے پاکستانی سفارت کار ایک سابق سی جی ایس، جنرل (ر) بلال اکبر ہیں، اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب کے ان گنت دورے کیے ہیں تاکہ عمران خان کے غیر محتاط رویے کی وجہ سے پرنس محمد بن سلیمان کے غصے کو کم کرسکیں۔ عمران خان نے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر سعودی قیادت میں او آئی سی کے مقابلے پر ایک بلاک بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ سعودی ولی عہد کی آشیر باد کے بغیر ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کرانے کی پیش کش کر ڈالی تھی۔ یہ بھی یاد ہوگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اگست 2020 ء میں اس وقت انتہائی نچلی سطح پر چلے گئے جب ہوش سے زیادہ جوش کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے او آئی سی پر کڑی تنقید کی تھی کہ اس تنظیم نے 2019 ء میں کشمیر پر بھارت کے قبضے پر خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ اس پر جنرل باجوہ کو تعلقات سنبھالنے کے لیے ایک بار پھر سرگرم ہونا پڑا۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ شاہ محمود قریشی کیوں پاک فضائیہ کے اس طیارے میں سوار نہیں تھے جو وزیر اعظم عمران خان کو گزشتہ ہفتے ریاض لے کر گیا تھا۔ اسی طرح پرنس محمد بن سلیمان نے بھی عمران خان پر آتے ہی کوئی خزانوں کے منہ نہیں کھول دیے۔ لہذا یوں لگتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے مابین باہمی تعلقات نہ صرف اندرون ملک سیاست کے حوالے سے کشیدہ ہیں بلکہ بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے بھی کشیدہ ہیں جن کا کوئی اچھا نتیجہ نکلنے کی امید نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close