اسلام آباد میں قومی حکومت کی سرگوشیاں کیوں ہو رہی ہیں؟

نواز لیگ کے صدر شہباز شریف کی جیل سے رہائی کے بعد سے اسلام آباد میں ایک ممکنہ قومی حکومت کے قیام کی سرگوشیوں میں تیزی آتی چلی جارہی ہے۔ تاہم کپتان حکومت کی چھٹی اور تمام اپوزیشن جماعتوں اور تحریک انصاف کے ناراض دھڑے پر مبنی ایک قومی حکومت کا قیام تب تک ممکن نہیں جب تک شہبازشریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لانے پر آمادہ نہ کر لیں۔ یاد رہے کہ مزاحمتی بیانیہ لے کر چلنے والے نواز شریف پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلوچ بھٹو کی جانب سے قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے مخالف ہیں اور انکا مطالبہ ہے کہ ملک میں نئے الیکشن کروائے جائیں۔ تاہم اب شہباز شریف کے ذمے یہ ٹاسک لگایا گیا ہے کہ وہ نواز شریف کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ تحریک عدم اعتماد کے علاوہ موجودہ آئین میں کسی بھی حکومت کو قبل از وقت گھر بھجوانے کا اور کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ لہذا اگر نواز شریف تحریک عدم اتحاد لانے پر اتفاق کر لیتے ہیں تو اگلے بجٹ کے فورا بعد ایک قومی حکومت کے قیام کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ کہا جارہا ہے کہ شاید اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان شہباز شریف کو لندن جانے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف سازش پروان نہ چڑھ پائے۔

یاس رہے کہ نون لیگ کے صدر شہباز شریف اس وقت حکومت مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ خود اپنے حکومت کی جانب سے ہونے والے اقدامات کی وجہ سے بھی بھرپور توجہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ اگر حکومت شہباز شریف کو ایئرپورٹ پر نہ روکتی اور جانے کی اجازت دے دیتی تو وہ اس وقت لندن میں ہوتے لیکن روکے جانے کے بعد اب وہ سیاسی طور پر انتہائی فعال اور متحرک ہو چکے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عید کے دن انہوں نے آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو، اختر مینگل اور دس دیگر اپوزیشن رہنماوں سے رابطے کیے اور سیاسی معاملات پر گفتگو کی۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اتحاد کا سربراہی اجلاس بلانے کے بارے میں بھی گفتگو کی ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہباز شریف اپنی سیاسی فعالیت اور رابطوں سے حکومت کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ انہیں بیرون ملک جانے سے روکنے کا حکومتی فیصلہ غلط تھا جس پر انہیں پچھتانا بھی پڑسکتا ہے۔

عید کی چھٹیوں میں ہی شہباز شریف نے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے رابطوں کو بھی بحال کر دیا ہے اور اب وہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے پارلیمانی ایوان میں بھرپور سیاست کریں گے۔ ان سرگرمیوں کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک بار پھر قومی حکومت کے قیام کے حوالے سے سرگوشیاں ہو رہی ہیں ،شہباز شریف کی لندن روانگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا تھا۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی یے کہ وزیراعظم عمران خان کابینہ کے اجلاس اور بعض دیگر مواقع پر بھی شہباز شریف کے معاملے پر پریشان نظر آئے۔ چنانچہ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو ہدایت کی ہے کہ شہباز شریف کو لندن جانے سے روکنے کے لیے تمام تر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر کے ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں یا حکومت انہیں حدیبیہ پیپرز مل کیس میں الجھا کر روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close