کیا کپتان شہباز کی پرواز روکنے میں کامیاب ہوگا؟


مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف اور کپتان حکومت کے مابین جاری کشمکش میں شدت آگئی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سابق وزیر اعلی پنجاب کو بیرون ملک جانے سے روکنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا شہباز بالآخر پرواز کر جاتے ہیں۔
جہاں ایک جانب وفاقی وزارت داخلہ نے پیر کے روز شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تو دوسری جانب شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں خود کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل وفاقی کابینہ نے شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔17 مئی کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ شہباز شریف سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بیرون ملک سے پاکستان واپس لانے کے کیس میں ضمانتی تھے لیکن انھوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اب نیب کی سفارشات کی بنیاد پر حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا ہے۔ انھوں نے استفسار کیا کہ ایسے حالات میں شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے جبکہ اُن کے خلاف سات ارب روپے کے آمدن سے زیادہ اثاثوں کا کیس چل رہا ہے اور اس مقدمے میں شریک دیگر نو ملزمان کو پہلے ہی ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس سے کچھ دیر قبل ہی وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ کے ذریعے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے دی گئی منظوری کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ گذشتہ ہفتے عید کے ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ نے آگاہ کیا تھا کہ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منطوری دے دی ہے اور اس حوالے سے باضابطہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے عید کی چھٹیوں کے دوران مختلف وزارتوں کے دفاتر کھلوا کر اس فیصلے پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کروانے پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کے بعد حرکت میں آئی تھی جس میں عدالت نے شہباز شریف کو ریلیف فراہم کیا تھا۔ پیر کے روز شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں لاہور ہائی کورٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں پر ایک ہی دن میں باہر جانے کے لیے درخواست دائر ہوئی اور اس درخواست پر اعتراض لگنے کے باوجود اُس کی سماعت کی گئی اور پھر اسی دن شہباز کو پرواز کی اجازت بھی دے دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ’کامن سینس کی بات ہے نواز شریف واپس نہیں آئے تو شہباز نے کہاں سے آنا تھا۔‘ شیخ رشید نے کہا کہ ’سات ارب کا کیس ہے اگر شہباز شریف چلے جاتے ہیں تو انھیں ان کے بھائی کی طرح واپس لانا بہت مشکل ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ باہر رہتے ہوئے شہباز گواہوں پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں اور شواہد کو ٹیمپر کر سکتے ہیں۔ شیخ کامران تھا کہ شہباز تو سحری کھانے سے پہلے ہی بھاگنا چاہ رہے تھے، ان کی ٹکٹ بھی بک ہو چکی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہونے دیابگیا کیونکہ آئین کہتا ہے کہ کسی کیس کے تمام ملزمان سے یکساں سلوک کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کی اجازت کے باوجود بیرونِ ملک سفر کرنے سے روکنے پر شہباز شریف نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔شہباز نے درخواست میں مؤقف لیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے انہیں علاج کے لیے ایک بار ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تھی، اور واضح حکم دیا کہ انہیں آٹھ ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت ہے تاہم عدالتی حکم کے باوجود انکو زبردستی ائیر پورٹ پر روک دیا گیا۔ انکا مؤقف تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دینا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے۔ اس کے علاوہ شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے لیے متفرق درخواست بھی دائر کی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائیکورٹ نے انہیں علاج کے لیے جانے کی اجازت دی تھی لیکن عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ شہباز شریف نے استدعا کی ہے کہ عدالت اپنے حکم پر عملدرآمد کروانے کے لیے احکامات جاری کرے۔
یاد رہے کہ 7 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے شہباز کو 8 مئی سے 3 جولائی تک کے لیے علاج کی غرض سے لندن جانے کی مشروط اجازت دی تھی۔ دوسری طرف شیخ رشید کا کہنا یے کہ حکومت کسی صورت شہباز کو بیرون ملک نہیں جانے دے گی۔ انکا کہنا تھا کہ دنیا میں پاکستانی سیاستدان واحد ہیں جو اپوزیشن کا وقت لندن میں گزارنا چاہتے ہیں مگر اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا شہباز شریف حکومت کے تازہ فیصلے کے خلاف پندرہ روز میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف دائر ریفرنس میں نامزد 14 ملزمان میں سے پانچ ملزمان وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں اور اگر قائد حزب اختلاف بیرون ملک چلے جاتے تو وہ ان پانچ افراد پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے جو ان کے خلاف گواہی دینے پر تیار ہیں۔ جب وزیر داخلہ سے سوال ہوا کہ کیا شہباز کو ایک ہی دن میں ریلیف ملنا کسی ڈیل کا نتیجہ ہے تو شیخ کا کہنا تھا کہ ’اُن کی ڈیل کے بارے میں تو علم نہیں ہے تاہم نواز شریف کے ترجمان زبیر کے مطابق ان کے اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں۔‘
جب وفاقی وزیر داخلہ سے نواز شریف کو وطن واپس لانے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے مایوس کُن انداز میں جواب دیا کہ ’حکومت کی کوشش تھی کہ برطانوی حکومت سابق وزیر اعظم کو ملک بدر کرے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر نے مشورہ دیا کہ حکومت نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے ایکٹسراڈیشن والا راستہ اختیار کرے۔‘
واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کا مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا 7 مئی کا فیصلہ کلعدم قرار دیا جائے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو اس لئے ملک سے باہر جانے سے روک رہے ہیں کہ کہیں وہ لندن میں ان کے خلاف کوئی نئی سازش تیار نہ کر لیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ اور عدالت کی مدد سے بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں یا عمران خان انہیں لندن جانے سے روک لیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close