فاروق قیصر ’انکل سرگم‘ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے


فاروق قیصر نے اپنے پرستاروں سے منہ کیا موڑا، ہر کسی کے ذہن میں اپنے بچپن کا وہ وقت گھوم گیا جب پڑھائی اور کھیل کود سے فارغ ہونے کے بعد گھر والوں کے ساتھ مزے لے کر ان کے ٹی وی شو سے لطف انداز ہوا جاتا تھا۔
1970 سے 1990 کی دہائیوں میں بڑے ہونے والے پاکستانی یقیناً انکل سرگم سے ضرور واقف ہوں گے۔ جب کیبل ٹی وی اور کارٹون نیٹ ورک کا دور نہیں تھا تب انکل سرگم ہی تھے جنھیں ٹی وی پر دیکھنے کے لیے بچے بے تاب رہتے تھے۔ اس پتلی تماشے کے خالق اور اس میں انکل سرگم کو آواز دینے والے فاروق قیصر بالآخر اپنے مداحوں کو چھوڑ گئے۔ فاروق قیصر کا کلیاں نامی شو ویسے تو بچوں کے لیے تھا لیکن اس میں موجود ہلکا پھلکا طنز و مزاح بڑوں کی بھی توجہ حاصل کیے رکھتا تھا۔ فاروق قیصر کہتے تھے کہ جو وہ بول نہیں سکتے، وہ ’انکل سرگم‘ کہہ دیتے۔ جبھی وہ معاشرے اور حکمرانوں کے رویوں کو انتہائی خوبصورت پیرائے میں ’انکل سرگم‘ کی زبانی بیان کردیتے۔ صرف یہی پتلی کردار نہیں بلکہ مسٹر ہیگا، شرمیلی، ماسی مصیبتے، رولا اور گورا صاحب بھی اِن دکھتی سماجی ناانصافیوں کو شگفتہ انداز پیش کرتے تو ہر چہرہ کھل اٹھتا۔ فاروق قیصر کے لکھے ہوئے شوخی اور طنز سے بھرے جملوں کو کیسے فراموش کیا جا سکتا یے جو کہ خاصے معنی خیز ہوتے تھے۔ وہ اُن برائیوں اور مشکلات کی نشاہدگی کرتے، جن سے ہر انسان کا روز کسی نہ کسی طرح واسطہ پڑتا رہتا۔
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ فاروق قیصرجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ آخر کیا بننا چاہتے ہیں۔ انکی خواہش تو پائلٹ بننے کی تھی لیکن دراز قد کی وجہ سے یہ سپنا بھی پورا نہ ہوا۔ کیونکہ انہیں بتایا گیا کہ ان کے قد و قامت کے جہاز کہاں سے لائے جائیں گے۔ ڈرائنگ میں تو بچپن سے ہی مشاق تھے۔ اسی لیے70کی دہائی میں ایک کزن نے ان کے اس ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا کہ لاہورکے نیشنل سکول آف آرٹس میں داخلہ لیں، جو اُس زمانے میں میو سکول آف انڈسٹریل آرٹس کہلاتا تھا۔ بہترین کارکردگی ایسی دکھائی کہ پہلے ہی سال سکالرشپ مل گئی۔ فاروق قیصر کی عادت تھی کہ کلاس میں فارغ اوقات میں ہم جماعتوں اور اساتذہ کے بارے میں کوئی نہ کوئی نظم بلیک بورڈ پر لکھ دیتے، جس پر ساتھیوں کی جانب سے پذیرائی بھی ملتی۔ جب پرنسپل کو کسی نے اس جسارت کی چغلی کی تو انہوں نے سرزنش کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ بلکہ تاکید کی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ فاروق قیصر کا کہنا تھا کہ اس حوصلہ افزائی نے انہیں نئی ہمت اور جوش دیا لیکن چونکہ ڈرائنگ کرنا ان کا شوق تھا، اس سلسلے کو انہوں نے نہیں چھوڑا۔ اس دوران درس گاہ کی طالبات کی تصویریں بنا کروہ خاصے مشہور ہوچکے تھے۔
فاروق قیصر کی زندگی میں اُس وقت ڈرامائی موڑ آیا، جب پاکستان میں ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا۔ شعیب ہاشمی ’اکڑ بکڑ‘ کرتے تھے، جنہیں اس شو کے لیے ’سیسم سٹریٹ‘ کی ’بگ برڈ‘ کی طرح ایک بطخ کی کٹھ پتلی پیش کرنی تھی۔ فاروق قیصر تک رسائی کی اور انہیں ’بگ برڈ‘ کی طرح کی بطخ بنانے کا ٹاسک ملا۔ تین چار دن کے اندر ہی فاروق قیصر نے بطخ کی یہ کٹھ پتلی بنا دی، جسے پرفارم خود انہیں ہی کرنا تھا جبکہ آواز شعیب ہاشمی کی استعمال ہونی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ فاروق قیصر آدھے گھنٹے تک بطخ کی اس قد آور کٹھ پتلی کو جملوں کے اعتبار سے حرکت دیتے دیتے ہوئے اس قدر تھکن کا شکار ہوئے کہ بے ہوش ہی ہوگئے۔ مسئلہ یہ ہوا کہ انہوں نے کٹھ پتلی تو بنادی تھی لیکن اس میں اپنے لیے سانس لینے کی کوئی جگہ ہی نہیں چھوڑی تھی۔ تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کٹھ پتلی سازی میں مہارت حاصل کریں گے۔ اسی لیے رومانیہ کا رخ کیا، جہاں انہوں نے اس فن میں گرافکس آرٹ میں باقاعدہ ڈگری حاصل کی۔ پاکستان واپسی کے بعد ان کے پرانے دوست قیصر فاروق نے کٹھ پتلیوں پر مبنی ٹی وی شو تیار کرنے کا ارادہ کیا تو فاروق قیصر نے اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا۔ ’انکل سرگم‘ کا کردار یہیں سے تخلیق ہوا۔
فاروق قیصر کے مطابق اس کردار کے خدو خال ان کے رومانیہ میں موجود ایک استاد سے مشابہت رکھتے تھے۔ ابتدا میں اس کردار کا نام ’پروفیسر سرگم‘ تھا، جو ننھے منے بچوں کو کھیل ہی کھیل میں جہاں اچھی باتیں بتاتا وہیں چلبلے گیت گا کر اپنے فن کا اظہار کرتا۔ لیکن مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ پی ٹی وی کو اس نام پر اعتراض تھا۔ اسی لیے ’پروفیسر‘ ہٹا کر ’انکل‘ کردیا گیا۔ 10جنوری 1977کو ’کلیاں‘ کے سلسلے کا پہلا پروگرام نشر ہوا، جس نے غیر معمولی شہرت حاصل کی، جس میں ’انکل سرگم‘ اور دیگر کٹھ پتلی کردار چبھتے ہوئے جملوں کی ادائیگی کرکے لوٹ پوٹ کرنے کی دلچسپ کوشش میں مصروف رہتے۔ انکل سرگم کے لیے فاروق قیصر کی آواز استعمال کی جاتی۔ بچوں کے لیے شروع ہونے والا یہ شو دھیرے دھیرے بڑوں کو بھی پسند آنے لگا۔
انکل سرگم کے علاوہ اُن کے مشہور پتلی کرداروں میں ماسی مصیبتے، ہیگا، شرمیلی، رولا، اور نونی پا شامل ہیں۔ پی ٹی وی کے ساتھ اُنھوں نے مزید پروگرام کیے مگر سب سے مشہور پروگرام کلیاں ہی رہا۔ تمام کرداروں کی ڈیزائننگ اُنھوں نے خود ہی کی تھی اور انکل سرگم کا وائس اوور بھی وہ خود کرتے تھے۔ وہ کارٹونسٹ بھی تھے اور زندگی کے آخری دنوں تک مختلف اخبارات کے لیے کارٹونز بھی بناتے رہے۔
فاروق قیصر صرف آرٹسٹ ہی نہیں بلکہ نغمہ نگار، ادیب اور کالم نگار بھی تھے۔ ہور پیچھو، کالم گلوچ، میٹھے کریلے اور میرے پیارے اللہ میاں ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ فاروق قیصر کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ٹی وی کے لیے سب سے زیادہ تین ہزار گیت لکھے۔ کہتے کہ شعیب ہاشمی کی خواہش پر ایک ملی نغمہ لکھا، جس کی اصلاح کے لیے فیض احمد فیض کے روبرو ہوئے۔ جنہوں نے کلام کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اس کا دوسرا بند خود لکھ کر فاروق قیصر کے حوالے کیا۔ وہ اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتے۔ بدقسمتی سے یہ ملی نغمہ سنسر کی نذر ہوگیا۔
فاروق قیصر کا پتلی تماشا صرف پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنی ٹیم کے ساتھ اسے پیش کیا اور پذیرائی حاصل کی۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں ایک مذہبی جماعت کے لاکھوں کے اجتماع میں بھی وہ اپنی کٹھ پتلیوں کی فنکاری کا اظہار کرچکے ہیں۔ فاروق قیصر نے بھارت میں بھی دو سال تک کٹھ پتلی فنکاری کے علاوہ سکرپٹ کا ہنر پڑھایا ہے۔ مختلف پاکستانی سربرہان مملکت کے سامنے پرفارم کرنے کا اعزاز ملا۔ ضیا الحق کے سخت آمریت والے دور میں وہ کئی بار تنقید سے بھرے جملوں کا اظہار انکل سرگم اور دیگر کرداروں کے ذریعے ادا کروا دیتے۔ پی ٹی وی اسلام آباد سینٹر کا افتتاح ہوا تو صدر ضیاالحق مہمان خصوصی تھے۔ جبکہ فاروق قیصر کو انکل سرگم کی ٹیم کے ساتھ پرفارم کرنے کی دعوت دی گئی۔ ان کے مطابق شو سے پہلے پی ٹی وی حکام نے یہ پابندی لگائی کہ اپنی پرفارمنس کا سکرپٹ پہلے سے لکھ کر دیں، تاکہ اگر صدر کے سامنے انہوں نے سکرپٹ سے ہٹ کر کوئی بات کی تو وہ صدر کو مہر لگا یہ سکرپٹ دکھا دیں گے کہ فاروق قیصر نے اپنی مرضی سے یہ جملے ادا کیے ہیں۔
اُنھیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اُن کی خدمات کے اعتراف میں تیسرے اعلیٰ ترین سول اعزاز ستارہِ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔
اُن کی وفات پر سوشل میڈیا صارفین اُس دور اور اُس پروگرام کے بارے میں اپنی یادیں اور تاثرات کا تبادلہ کرتے نظر آئے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ٹویٹ میں لکھا کہ اُنھیں فاروق قیصر کی وفات کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ صرف ایک فنکار نہیں تھے بلکہ سماجی مسائل اور ناانصافیوں کے خلاف بھی مسلسل آگاہی پھیلاتے تھے۔ صارف یوسف ملک نے لکھا کہ آج کی نسل تصور بھی نہیں کر سکتی کہ انکل سرگم کا 70، 80 اور 90 کی دہائی کے بچوں پر کیا اثر ہوا کرتا تھا۔ ایک صارف عمر حسن نے لکھا کہ ایک عہد کا اختتام ہوا، اُن کا شو کلیاں، بالخصوص اس میں سائنس بڑی یا بھینس کا سیگمینٹ ‘طنز برائے اصلاح’ کا صحیح نمونہ تھا۔ صارف اسما نسیم نے لکھا کہ ہماری کئی مسکراہٹیں اور یادیں آپ کی وجہ سے ہیں۔ معروف گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع نے لکھا کہ اُنھیں اپنے دوست فاروق قیصر کی وفات کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ اُنھوں نے لکھا کہ وہ اُنھیں 40 سال سے جانتے تھے اور ساتھ مل کر کام بھی کیا۔
76برس کے فاروق قیصر کے بارے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انہیں لفظوں کی بازی گری کا فن خوب آتا تھا۔ وہ درحقیقت اس جگہ چوٹ مارتے تھے جہاں مارنی ضروری ہوتی تھی۔ انکل سرگم تو چلے گئے لیکن پیچھے ہر وقت کھکھلانے اور شگوفوں کی بہار لانے والے مسٹر ہیگا، شرمیلی، ماسی مصیبتے، رولا اور گورا صاحب کو ہمیشہ رنجیدہ اور اداس رہنے کی وجہ دے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close