ثمینہ بیگ کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے آٹھ سال

’لوگ میرے بھائی کو کہتے تھے آپ اپنی بہن کو پہاڑ پر کیوں لے کر جا رہے ہیں؟ اسے ایورسٹ چڑھ کر کیا مل جائے گا؟ ان اونچے پہاڑوں کو سر کرنا کسی لڑکی کے بس کی بات نہیں ہے۔‘
لیکن پہاڑوں کی گود میں پیدا ہونے والی ثمینہ بیگ کا حوصلہ ایسی باتیں سن کر پست نہیں ہوا اور گلگت بلتستان کے ایک ایسے گاؤں جس کا باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں تھا، کی یہ لڑکی 21 برس کی عمر میں دنیا کے سب کے اونچے پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون، سب سے کم عمر پاکستانی اور پہلی مسلمان خاتون بنیں۔اس مہم میں ثمینہ کے بھائی مرزا علی بیگ بھی ان کے ساتھ تھے لیکن چوٹی سے چند میٹر دور رک کر انھوں نے خود آگے نہ بڑھنے اور چوٹی سر کرنے کے لیے بہن کو اکیلے جانے دینے کا فیصلہ کیا۔چند میٹر کے فاصلے سے وہ اپنی چھوٹی بہن کو تاریخ رقم کرتے دیکھتے رہے۔۔۔ کیونکہ وہ پاکستانی معاشرے کی اس سوچ کو بدلنا چاہتے تھے کہ ’ہر جگہ بھائی نے ہی بہن کو چھوڑ کر نہیں آنا ہوتا۔‘ثمینہ بیگ کے مطابق مرزا علی بیگ اپنے ہم وطنوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ’اگر آپ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مدد کرتے اور انھیں مواقع دیتے ہیں تو وہ آپ کے بغیر دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ایورسٹ کو بھی سر کر سکتی ہیں۔‘ثمینہ خیال بیگ ستمبر 1990 میں گلگت بلتستان کے ضلع گوجال میں 3100 میٹر کی بلندی پر واقع شمشال میں پیدا ہوئیں۔ آج سے چند سال پہلے اس علاقے کا بذریعہ سڑک باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور یہاں ثمینہ کی زندگی آسان نہیں تھی۔سڑکیں، ذرائع مواصلات اور انٹرنیٹ نہ ہونے کے باعث یہاں رہنے والوں کے لیے معلومات اور رابطے کا واحد ذریعہ وہ افراد تھے جو مہم جوئی یا کوہ پیمائی کی غرض سے ان پہاڑوں میں آتے۔ ثمینہ بیگ نے بتایا کہ اس زمانے میں بہت سارے ملکوں سے مہم جو شمشال آتے اور ان کے قصے سن کر انھیں پہاڑوں میں دلچسپی پیدا ہوئی اور یوں چھوٹی عمر سے ہی انھوں نے پہاڑوں پر چڑھنا شروع کر دیا۔اگرچہ ان کے دو انکل بھی پاکستانی فوج کے ساتھ کوہ پیمائی کی مہمات کا حصہ بنتے رہتے تھے، لیکن وہ بتاتی ہیں کہ ان کی زندگی میں سب سے اہم کردار ان کے بھائی مرزا علی بیگ نے ادا کیا ہے۔’جب میں تیسری یا چوتھی جماعت کی طالبہ تھی، تب سے وہ مجھے پہاڑوں کے قصے سناتے تھے۔۔۔ کہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر کیسا محسوس ہوتا ہے۔۔۔ دنیا میں 8000 میٹر سے بلند کتنی چوٹیاں ہیں اور کون کون سے ملکوں سے خواتین ان بلند پہاڑوں کو سر کرنے آتی ہیں۔‘شمشال میں رہنے والے بیشتر افراد کا ذریعہ معاش کوہ پیمائی سے وابستہ ہے اور یہاں رہنے والے افراد کو پاکستان میں کوہ پیمائی میں وہی مقام حاصل ہے جو نیپال میں شرپاؤں کا ہے۔گاؤں اور خاندان کے افراد کی کوہ پیمائی سے وابستگی، ہر طرف پہاڑوں کے قصے۔۔۔ اور ثمینہ بیگ کے دل میں تجسس۔۔ ثمینہ بیگ نے بچپن میں ہی کوہ پیما بننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔خاندان کے بیشتر افراد کی کوہ پیمائی سے وابستگی کے باوجود ثمینہ بیگ کے لیے کوہ پیما بننے کا سفر آسان نہیں رہا۔۔۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے کوہ پیمائی کا آغاز کیا اس وقت پاکستان میں اس فیلڈ پر ’مکمل طور پر مردوں کا غلبہ‘ تھا۔وہ کہتی ہیں کہ کیونکہ پاکستانی کوہ پیما خاص کر شمشال سے تعلق رکھنے والے ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹرز ان اونچے پہاڑوں پر ذریعہ معاش کمانے کے لیے چڑھتے تھے اس لیے اس وقت کوہ پیمائی کو دوسرے کھیلوں کی طرح ایک کھیل بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔’میرے لیے ایک لڑکی ہو کر پہاڑ چڑھنا اور پھر ایورسٹ سر کرنے کے متعلق سوچنا بھی بہت بڑی بات تھی۔۔۔ کوئی یقین ہی نہیں کرتا تھا کہ ایک لڑکی بھی پہاڑوں پر چڑھ سکتی ہے۔‘لیکن ثمینہ بیگ نے ثابت کیا کہ لڑکیاں نہ صرف خواب دیکھ سکتی ہیں بلکہ مردوں کی طرح اونچے پہاڑ بھی سر کر سکتی ہیں۔انھوں نے سنہ 2009 میں کوہ پیمائی کا باقاعدہ آغاز کیا اور کچھ ایسی چوٹیاں بھی سر کیں جن پر ثمینہ سے پہلے کوئی نہیں پہنچ پایا تھا۔ ان میں شمشال میں واقع چسکین سر پیک (6400 میٹر) قابلِ ذکر ہے، جسے ثمینہ نے 2010 میں اپنے بھائی علی مرزا کے ساتھ سر کیا اور بعد میں اس چوٹی کا نام تبدیل کر کے ’ثمینہ پیک‘ رکھا گیا۔سنہ 2013 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر ہونے کے 60 سال پورے ہوئے تو یہ خیال آیا کہ اس دوران کسی پاکستانی خاتون نے ایورسٹ یا آٹھ ہزار سے بلند چوٹیوں میں سے کسی بھی چوٹی کو سر کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ لہذا جب ثمینہ نے کوہ پیمائی کا آغاز کیا تب ہی انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ 2013 میں ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کریں گی۔یاد رہے مئی 1953 میں نیوزی لینڈ کے کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری اور ان کے نیپالی گائیڈ اور کوہ پیما تینزنگ نورگے نے پہلی بار دنیا کی بلندی ترین چوٹی ایورسٹ کو سر کیا تھا۔لہذا آنے والے سالوں میں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا خواب دل میں لیے، ثمینہ ایک چوٹی سے دوسری چوٹی پر چڑھتی چلی گئیں۔ ثمینہ کے مطابق ان کا مقصد ’ماؤنٹ ایورسٹ کی 60ویں سالگرہ پر پاکستانی خواتین کی نمائندگی کرنا تھا۔‘لیکن شمشال کے گاؤں میں پیدا ہونے والی اس لڑکی کے لیے ماؤنٹ ایورسٹ کے خواب دیکھنا جہاں آسان نہیں تھا، اس مہم کے لیے سپانسرز جمع کرنے کا سفر اور زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ثمینہ کہتی ہیں ’چونکہ ہمارا تعلق گاؤں سے تھا اور ہم کسی کو بھی نہیں جانتے تھے۔۔ لہذا مالی طور پر ہمیں بہت مشکلات پیش آئیں۔‘’لوگ میرے بھائی کو کہتے تھے آپ اپنی بہن کو پہاڑ پر کیوں لے کر جا رہے ہیں؟ اسے ایورسٹ چڑھ کر کیا مل جائے گا؟‘ثمینہ بتاتی ہیں کہ ان کے بھائیوں اور اہلِ خِانہ کو اس طرح کی بہت سی باتیں سننے کو ملتیں، لیکن یہ سب سن کر ہمارا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ کی نیت کھری ہو اور آپ کچھ اچھا کرنا چاہیں تو خدا خود آپ کی مدد کرتا اور کوئی نہ کوئی ذرائع بنا دیتا ہے۔‘بلاخر وہ نیوزی لینڈ کے کچھ افراد سے ملیں جنھوں نے ان کی ایورسٹ مہم کو سپانسر کیا۔یہ پہلا موقع تھا جب ثمینہ باہر نکل کر مختلف ممالک کے لوگوں سے رابطے میں آئیں، وہ بتاتی ہیں کہ کوہ پیمائی کے دوران پیش آنے والے خطرناک چیلینجز کے علاوہ ایک عورت خاص کر پاکستانی اور مسلمان عورت ہونے کے باعث انھیں کئی اور طرح کے چیلینجز بھی درپیش تھے۔ثمینہ کا کہنا تھا کہ ’پہاڑوں پر کوئی پرائیویسی نہیں ہوتی لہذا مجھے پرائیویسی کا بہت زیادہ مسئلہ ہوتا تھا۔‘ایورسٹ سر کرنے کے دوران پیش آنے والے حالات و صورتحال سے نمٹنے کے لیے ثمینہ نے خود کو ذہنی طور پر تیار کیا، وہ کہتی ہیں کہ خدا نے ہر موقع پر میری مدد کی اور آسانیاں پیدا ہوتی گئیں۔وہ بتاتی ہیں کہ سپانسرز ڈھونڈنے سے لے کر، دو مہینے کی مہم جوئی اور سمٹ پر پہنچنے تک ’خدا نے میری جتنی مدد کی اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘آخرکار ثمینہ کی سالوں کی محنت رنگ لائی اور 34 گھنٹے مسلسل کوہ پیمائی کے بعد، آج سے ٹھیک آٹھ برس قبل 19 مئی 2013 کی صبح 7:40 منٹ پر شمشال سے تعلق رکھنے والی ثمینہ بیگ نے نیپال میں واقع دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ کو سر کر لیا۔اس موقع پر وہ ایورسٹ سر کرنے والی سب سے کم عمر پاکستانی، سب سے پہلی پاکستانی عورت اور پہلی مسلمان عورت تھیں۔وہ بتاتی ہیں کہ وہ اس لمحے بہت زیادہ خوش تھیں ’میں اتنی جذباتی ہو گئی تھی کہ رونے لگی۔۔ وہ لمحات میں شاید کبھی بھلا نہیں پاؤں گی۔۔۔‘پاکستان سمیت دنیا بھر میں ثمینہ بیگ کو سراہا گیا۔ ملک اور بیرونِ ملک ملنے والی پذیرائی کے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ جب لوگ کہتے ہیں کہ ’آپ فخرِ پاکستان ہو‘ وہ خوشی بیان نہیں کی جا سکتی۔ثمینہ کہتی ہیں انھوں نے اور مرزار علی بیگ نے آج تک جن چوٹیوں کو سر کیا ہے اس کا مقصد صرف انھیں سر کرنا ہی نہیں تھا۔وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں ایسے کھیلوں کے لیے لڑکیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی اور خاص کر ایڈوینچر سپورٹ اور کوہ پیمائی کا تو نام بھی نہیں لیا جاتا تھا لہذا ہمارا مقصد کوہ پیمائی میں عورتوں کو برابری دلانا اور خواتین کو بااختیار بنانا تھا۔‘’کیونکہ ہمارے معاشرے کی سوچ یہی ہے کہ سکول بھی بھائی یا والد چھوڑ کر آئیں گے، شاپنگ کرنے جانا ہے یا کسی کے دوست کے گھر پک اور ڈراپ کرنا ہے تو وہ بھی بھائی کریں گے۔‘ثمینہ بتاتی ہیں کہ چونکہ وہ کوہ پیمائی کے لیے پاکستانی خواتین کی حوصلہ افزائی اور پاکستان میں اسے پروموٹ کرنا چاہتے تھے لہذا ماؤنٹ ایورسٹ سے تقریباً 248 میٹر کے فاصلے پر مرزا علی بیگ واپس مڑ گئے۔وہ اپنے ہم وطن پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ ’اگر آپ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں اور انھیں مواقع دیتے ہیں تو وہ آپ کی مدد کے بغیر دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ایورسٹ کو بھی سر کر سکتی ہیں۔‘ثمینہ کا کارنامہ اور ان کے بھائی کا پیغام دور تک گیا۔۔ اور پاکستان سمیت انھیں دنیا بھر میں سراہا گیا۔ثمینہ کی کامیابیوں کا سلسلہ چلتا رہا اور سنہ 2014 میں وہ سیون سمٹ (دنیا کے سات براعظم کی بلند ترین چوٹیاں جن کی تعداد نو ہے) سر کرنے والی بھی پہلی پاکستانی کوہ پیما بن گئیں۔دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی سر کرنے والی ثمینہ بیگ آج کل اپنے گاؤں میں ہیں اور گذشتہ تین ماہ سے شمشال اور آس پاس کے دشوار گزار پہاڑوں اور گلیشئیرز پر ٹریننگ میں مصروف ہیں۔ وہ اب کی بار دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔لیکن اتنا لمبا وقفہ کیوں؟ ثمینہ بتاتی ہیں کہ سنہ 2015 میں جب انھوں نے کے ٹو سر کرنے کی کوشش کی تو انھیں چوٹ لگی، جس کے باعث مہم روک کر انھیں لوٹنا پڑا۔اس کے بعد والدین کی وفات کے بعد انھیں کو ایک اور صدمے سے گزرنا پڑا۔۔۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ وقت میرے لیے بہت مشکل تھا۔سنہ 2018 اور 2019 میں ثمینہ نے پھر سے کے ٹو سر کرنے کی کوشش کی لیکن ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پاکستان کی اس پہلی خاتون کوہ پیما کو کوئی سپانسر کرنے پر تیار نہ ہوا اور پھر 2020 میں کوورونا کی وبا کے باعث وہ کوئی منصوبہ نہیں بنا پائیں۔لیکن اب ’الحمدو للہ جون 2021 میں، میں ایک بار پھر سے کے ٹو سر کرنے جا رہی ہوں۔‘ یہ مہینوں پر مشتمل یہ مہم جون کے دوسرے ہفتے میں شروع ہو گی۔ثمینہ کے مطابق عموماً کے ٹو سر کرنے کے لیے 18-24 جولائی کے دوران موسم سازگار (کلائمبنگ ونڈو) سمجھا جاتا ہے لیکن چونکہ کے ٹو ایک ایسا پہاڑ ہے جس کے موسم کا کوئی بھروسہ نہیں لہذا سمٹ پش کی تاریخیں موسم کی مناسبت سے آگے پیچھے ہو سکتی ہیں۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کو پیش آنے والے حادثے کے بعد یہ کے ٹو سر کرنے کے لیے جانے والی پہلی باقاعدہ ہم ہو گی۔اس مہم کے لیے ثمینہ بیگ کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں موبائل سروسز فراہم کرنے والی کمپنی دی سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) مالی معاونت فراہم کرے گی۔اس حوالے سے رواس برس جنوری میں ثمینہ بیگ اور ایس سی او کے درمیان راولپنڈی میں ایک معاہدہ بھی ہوا ہے۔اگر ثمینہ بیگ 8611 میٹر کی بلندی پر واقع ’کلر ماؤنٹین‘ یعنی سب سے خطرناک چوٹی کو سر کر لیتی ہیں تو وہ یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون اور دنیا کی پہلی مسلمان خاتون بھی ہوں گی۔اس پاکستانی ٹیم میں ثمینہ کے ہمراہ ان کے بھائی مرزا علی بیگ کے علاوہ بلتستان سے تین ہائی ایلٹیٹیوڈ گائیڈز اور پورٹر ہوں گے جبکہ تین کا تعلق شمشال سے ہو گا۔وہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان کے ہائی ایلٹیٹیوڈ گائیڈز اگرچہ انتہائی پروفیشنل ہیں لیکن باہر سے لوگ شرپاؤں کو لے آتے ہیں اور ہمارے لوگوں کو روزگار کے مواقع نہیں ملتے لہذا ہماری کوشش ہے کہ اپنے لوگوں کو مواقع دیں۔تکنیکی اعتبار سے ’کے ٹو‘ دنیا کی مشکل ترین چوٹیوں میں انناپورنا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ سال 2021 تک کے اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو اس وقت اس ’کلر ماؤنٹین‘ پر شرح اموات دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور اسے سر کرنے کی کوشش کرنے والے ہر تین میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔پاکستان میں کوہ پیمائی سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ثمینہ بیگ نے ماؤنٹ ایورسٹ اور سیون سمٹ سر کیے ہیں لیکن ان میں سے ایورسٹ اگرچہ ہائی ایلٹیٹیوٹ ماؤنٹین ضرور ہے لیکن اسے یا سیون سمٹ میں سے کسی بھی چوٹی کو ’ہائیلی ٹیکنیکل ماؤنٹین‘ نہیں سمجھا جاتا لہذا کے ٹو سر کرے کی کوشش سے قبل ثمینہ کو پاکستان میں موجود دوسری ’ہائیلی ٹیکنیکل ماؤنٹینز‘ یا تکنیکی اعتبار سے مشکل چوٹیوں کو سر کرکے کےٹو کی تیاری کرنی چاہیے۔اس حوالے سے جب ہم نے ثمینہ سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’کے ٹو میرا دیرینہ خواب ہے اور میں سنہ 2015 سے اسے سر کرنے کی کوششیں کر رہیں ہوں۔‘ثمینہ کہتی ہیں انھیں معلوم ہے کہ کےٹو کے چیلینجز کیا ہیں، لیکن وہ تیاری کر رہی ہیں اور باقی تو اللہ اور کے ٹو پر منحصر ہے۔اس سوال کے جواب میں کے ٹو سر کرنے کے بعد وہ کون سی چوٹی کو سر کرنا چاہیں گی، ثمینہ کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ منصوبے نہیں بناتیں، بس ایک پروجیکٹ پر کام کرتی ہیں اور اس کے مکمل ہونے کے بعد اگلے گول کے متعلق سوچتی ہیں۔ اور فی الحال ان کی تمام تر توجہ کے ٹو پر ہے۔جو لڑکیاں کوہ پیمائی یا دوسرے کھیلوں کی جانب آنا چاہتی ہیں ان کے گھر والوں کے لیے ثمینہ بیگ کا پیغام ہے کہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو خواب دیکھنے دیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کا ساتھ دیں کیونکہ جب وہ کوئی کارنامہ انجام دیں گی تو اس سے آپ کے ہی خاندان کی عزت بڑھے گی اور ملک کا نام روشن ہو گا۔اور پاکستان کی لڑکیوں کے لیے ثمینہ بیگ کا پیغام ہے کہ ’مسائل تو آتے ہیں لیکن اگر آپ کچھ حاصل کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لیے پوری ایمانداری سے محنت کریں اور خود پر بھروسہ رکھیں کیونکہ دنیا میں کچھ ناممکن نہیں اور ایک لڑکی اگر ماؤنٹ ایورسٹ سر کر سکتی ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہے۔‘

Close