مائرہ ذوالفقار قتل کیس: ’مائرہ جج بننا چاہتی تھی‘

‘ان ظالموں نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا، اُس کی کیا غلطی تھی۔ مجھے کچھ نہیں پتا میں اس ملک (پاکستان) میں آیا ہوں اور دھکے کھا رہا ہوں، پولیس میری بات نہیں سنتی۔ اگر کوئی مائرہ کی مدد کرتا تو شاید وہ زندہ ہوتی۔‘
پاکستان کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں لگ بھگ تین ہفتے قبل قتل ہونے والی پاکستانی نژاد خاتون مائرہ ذوالفقار کے والد محمد ذوالفقار کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے قتل کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ نہ تو پولیس افسران ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور نہ ہی ملزمان کو گرفتار کر کے مناسب تفتیش کی جا رہی ہے۔
مائرہ کے والد کا کہنا تھا کہ ’مائرہ ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی۔ وہ تعلیم سے محبت کرنے والی لڑکی تھی۔ اس نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور وہ جج بننا چاہتی تھی۔ وہ پاکستان آ کر خواتین کے لیے کام کرنا چاہتی تھی اور کہتی تھی کہ پاپا میں غریب لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔‘یاد رہے کہ پاکستانی نژاد مائرہ ذوالفقار کو تین مئی 2021 کو لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس (فیز 5) میں اس گے گھر میں نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ وہ اس گھر میں گذشتہ چند ماہ سے اپنی ایک خاتون دوست کے ہمراہ مقیم تھیں۔ رواں ہفتے سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انھیں بے دردی سے قتل کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔اس کیس میں نامزد دو ملزمان ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں اور تفتیش جاری ہے۔ مائرہ کی والد اپنی بیٹی کے کیس کے سلسلے میں فی الحال پاکستان آئے ہوئے ہیں۔مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا تھا کہ پاکستان سے کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں جب لندن تعلیم کے لیے آئے تو ان کی مائرہ سے دوستی ہوئی اور انہی میں سے چند کے کہنے پر مائرہ پاکستان آئیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ مائرہ قتل کیس میں نامزد ملزمان بھی اسی طرح ان کی بیٹی سے ملے تھے جبکہ مائرہ کے ساتھ ان کے کرائے کے گھر میں رہنے والی سہیلی اُن کی کسی دوسری دوست کے توسط سے اُن سے ملی تھیں۔’میری بیٹی مغرب میں پلی بڑھی ہے جہاں پر لڑکے لڑکیاں آپس میں بات کر لیتے ہیں اور اسے عجیب نہیں سمجھا جاتا۔‘مائرہ کے والد نے دعویٰ کیا (جس کے شواہد پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی ہیں) کہ ’میری بیٹی کو بے دردی سے مارا گیا پہلے اس کے گلے میں رسی باندھی گئی کیونکہ وہ بہت بہادر تھی اس نے اپنا دفاع کیا تو اس پر بے دردی سے گولیاں چلائی گئیں۔‘ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مائرہ ذوالفقار کے جسم پر گولیوں کے دو نشانات سمیت کل چھ زخم موجود تھے جن گلے اور بازوں پر موجود نشانات بھی تھے جبکہ چہرے پر لگنے والی گولی سے ان کے دانت بھی ٹوٹے ہوئے پائے گئے ہیں۔مائرہ کے والد کا کہنا تھا کہ پولیس ان کے ساتھ زیادہ تعاون نہیں کر رہی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مائرہ کے دوستوں اور مبینہ ملزمان سے جس طرح تفتیش کی جانی چاہیے اس طرح سے نہیں ہو رہی۔انھوں نے کہا کہ جب تک ان کی بیٹی کو انصاف نہیں مل جاتا وہ اس ملک کے ہر صاحب اقتدار شخص سے اپیل کرتے رہیں گے۔مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا تھا کہ ’میری بیٹی نے موت سے قبل پولیس کو آگاہ کیا تھا کہ اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اس کی جان کو خطرہ ہے لیکن انھوں نے اُس کی بات نہیں سُنی۔‘یاد رہے کہ مائرہ کے قتل کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ انھوں نے اپنی قتل سے چند روز قبل اس کیس میں نامزد ایک ملزم کے خلاف پولیس کو درخواست دی تھی جس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔مائرہ کے والد کا کہنا تھا کہ ’اگر میری بیٹی کی بات سن لی گئی ہوتی تو آج وہ زندہ ہوتی۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک خاتوں پولیس افسر کو صرف وارننگ دی گئی۔ کیا اتنے بڑے کیس میں پولیس افسر کو صرف وارننگ دی جانی چاہیے؟‘مائرہ ذوالفقار کے والد کا کہنا تھا کہ ’مائرہ کورسز کے لیے اکثر دبئی آتی جاتی تھی جہاں ایک کورس کے دوران ان کی ایک نامزد ملزم سے دوستی ہوئی۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں مائرہ اپنی ایک کزن کی شادی کے لیے پاکستان آئی تھیں جہاں بعد میں ان کی والدہ بھی ان کے ساتھ شریک ہوئیں تاہم وہ کچھ ضروری کاغذات تیار کروانے کے لیے رک گئیں اور کچھ دن بعد انھیں واپس برطانیہ آنا تھا۔محمد ذوالفقار کا مزید کہنا تھا کہ ’مائرہ اکثر دبئی سے پاکستان آتی تو اپنی نانی کے گھر ٹھہرتی تھیں، وہ اپنی یہاں کی مصروفیات کا ذکر گھر والوں سے کرتی رہتی تھیں لیکن انھوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہ کسی ایسی مصیبت میں پھنس گئی ہیں یا ان کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہو جائے گا۔‘مائرہ کے والد کا کہنا تھا کہ اسے دی جانے والی دھمکیوں کے بارے میں انھوں نے گھر والوں کو تو نہیں بتایا تاہم ایک سہیلی کو بتایا تھا کے جس نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے والدین کو آگاہ کر دیں۔’اس پر مائرہ کا جواب تھا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ میں اپنے والد کو پریشان کروں میں خود وکیل ہو اس لیے میں اس معاملے کو خود حل کر لوں گی۔‘مائرہ کے بھائی معز محمد کا کہنا تھا کہ انھیں ’یہاں کسی پر بھروسہ نہیں کیونکہ کوئی بھی اس کیس میں تعاون نہیں کر رہا اور ایسا لگتا ہے جیسے سب جان چھڑانا چاہتے ہیں۔‘اس موقع پر مائرہ کے بھائی اشکبار ہو گئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ میری بہن نہیں رہی یہ سب ایک بُرے خواب کی طرح لگ رہا ہے۔‘ان کا روتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میں ہر روز صبح اٹھتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں کہ یہ سب حقیقت نہیں وہ مجھ سے صرف تین سال بڑی تھیں۔‘مائرہ کے بھائی کا کہنا تھا کہ ’کسی کو بھی قتل نہیں کیا جانا چاہیے خاص طور پر ایسے نوجوانوں کو جو مائرہ جیسے ہوں، وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہونا چاہتی تھی اپنے لیے خود کچھ کرنا چاہتی تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ مائرہ ہمیشہ فلاحی کام کرتی رہتی تھیں اور وہ ہر مہینے کسی نہ کسی فلاحی کام کے لیے عطیات دیتی رہتی تھیں۔ ان کے بقول مائرہ انتہائی خیال کرنے والی لڑکی تھیں۔مائرہ کے بھائی معز محمد کا کہنا تھا کہ ان کی بہن ان سے ہر طرح کی بات شیئر کرتی تھی لیکن وہ نہیں جانتے کہ انھوں نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ اتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں جانتا کہ اس کی زندگی میں کیا ہو رہا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ اگر اسے لگتا کہ اس کی زندگی کو خطرہ ہے تو وہ کچھ نہ کچھ ضرور بتاتی۔۔۔ اسے لگا ہو گا کہ وہ سب سے نمٹ لے گی۔‘مائرہ کے والد کا کہنا تھا کہ نامزد ملزمان میں سے ایک کی مائرہ میں دلچسپی اور پسندیدگی کے بارے میں وہ لوگ آگاہ تھے۔ ان کے بقول مائرہ نے اپنی والدہ کو بتایا تھا کہ ان کا دوست شادی کا خواہاں ہے جس کے بعد ماہرہ کی والدہ اس سے ملیں تاہم کہا کہ حتمی فیصلہ مائرہ کے والد کا ہو گا۔مائرہ کے والد نے شبہ ظاہر کیا کہ ملزم کی کچھ تصاویر مائرہ کے فون میں تھیں جس میں وہ زیر جامہ پہنے ہوئے ہیں۔ انھیں شبہ ہے کہ ان تصاویر کے حصول کے لیے ملزم نے سازش کے تحت مائرہ کو قتل کیا۔

Close