لیبارٹریوں سے وائرس لیک ہونے کے خدشات،سائنسدان پریشان

دنیا بھر میں 59 بائیو لیبارٹریاں بے حد خطرناک وائرس اور بیکٹریا پر کام کر رہی ہیں۔ تاہم سائنس دان فکر مند ہیں کہ ان لیبز کے انتہائی محفوظ ہونے کے باوجود یہاں سے حادثاتی طور پر لیک ہونے والے وائرس تباہی پھیلا سکتے ہیں۔کسی سائنسی تجربے کے نتیجے میں کرونا وائرس پھیلنے کے مفروضے نے دنیا کی توجہ انتہائی محفوظ بائیو لیبارٹریوں کی جانب مبذول کروا دی ہے۔
سارس کوو ٹو کو چین کے ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی سے جوڑنے کے شواہد تو سامنے نہیں آئے لیکن کئی ماہرین اگلی وبا کے حادثاتی طور پر پھیلنے کے خدشے سے نمٹنے کے لیے ایسی تمام لیبارٹریوں پر سخت کنٹرول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس حوالے سے یہ معلومات جاننا ضروری ہے۔ووہان لیب انتہائی محفوظ کلاس BSL4 کا حصہ تصور کی جاتی ہے، جس کا بائیو سیفٹی درجہ چار ہے۔اس درجے کی لیبارٹری ایسے انتہائی خطرناک بیکٹریا اور وائرس پر محفوظ طریقے سے کام کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے، جو مہلک امراض پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں اور جن کا اب تک کوئی علاج یا ویکسین دریافت نہیں ہوئی۔
جارج میسن یونیورسٹی کے بائیو ڈیفنس گریجویٹ پروگرام کے ڈائریکٹر گریگوری کوبلنٹز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ایسی لیبز میں ایچ وی اے سی کے فلٹریشن سسٹم موجود ہوتے ہیں تاکہ وائرس ایگزاسٹ سے فرار نہ ہو سکے۔’اسی طرح لیبارٹری سے نکلنے والے پانی کو کیمیکلز یا پھر انتہائی زیادہ درجہ حرارت سے گزارا جاتا ہے تاکہ اس میں کوئی بیکٹریا یا وائرس زندہ نہ رہے۔‘ایسی لیبارٹریوں میں کام کرنے والے محققین انتہائی تربیت یافتہ اور محفوظ لباس میں کام کرتے ہیں۔
رواں ہفتے شریک مصنف کوبلنٹز کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس کے مطابق دنیا بھر میں بائیو سیفٹی لیول فور کی 59 لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں۔Mapping Maximum Biological Containment Labs Globally نامی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ پیتھوجینز پر محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے کام کے لیے بین الاقوامی معیارات کی کوئی پابند نہیں۔
حادثات خارج از امکان نہیں ہوتے۔ بعض اوقات اعلیٰ درجے کی محفوظ لیبارٹریوں میں اور اکثر نچلے درجے کے ہزاروں لیبز میں ایسے حادثات رونما ہو جاتے ہیں۔1918 میں جان لیوا وبائی فلو کا ہیومن H1N1 وائرس 1977 میں سوویت یونین اور چین میں لیک ہوا اور پوری دنیا میں پھیلا۔
اسی طرح 2001 میں ایک امریکی بائیو لیب کے ذہنی طور پر پریشان ملازم نے ملک بھر میں انتھراکس کے بیضے پوسٹ کر دیے، جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔2004 میں دو چینی محققین پر سارس وائرس نے حملہ کیا جو بعد ازاں پھیلا اور ایک ہلاکت کا سبب بنا۔2014 میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے دفتر کی منتقلی کے دوران مٹھی بھر چیچک کی شیشیاں ملیں۔سینٹر برائے اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے ایک سینیئر سائنس فیلو لن کلوٹز کئی سالوں سے ایسی لیبز سے پیدا ہونے والے عوامی تحفظ کے خطرات کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا ’تجربہ گاہوں میں 70 فیصد سے زیادہ غلطیاں انسانی غلطیوں پر مشتمل ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ مریکی محققین کو ان واقعات کے بارے میں جاننے کے لیے معلومات کی دستیابی کی درخواستوں کے نتیجے میں ملنے والے اعداد و شمار پر انحصار کرنا ہوگا۔ووہان میں چمگادڑ کرونا وائرس پر تحقیق کی مالی اعانت فراہم کرنے والے امریکہ اور کچھ آزاد سائنس دانوں کے مابین اختلاف رائے ہے کہ آیا یہ متنازع ’گین آف فنکشن‘ (جی او ایف) ریسرچ ہے۔جی او ایف ریسرچ میں پیتھوجینز کو مزید قابل منتقل، مہلک یا علاج اور ویکسین سے بچنے کے قابل بنانے کے لیے کام کیا جاتا ہے تاکہ ان سے لڑنے کے لیے بہتر طور پر معلومات اکھٹی کی جا سکیں۔
یہ شعبہ طویل عرصے سے متنازع رہا ہے اور اس پر بحث اس وقت نکتہ عروج پر پہنچی جب 2011 میں دو ریسرچ ٹیموں نے ثابت کیا کہ وہ ممالیہ جانوروں میں برڈ فلو وائرس منتقل کر سکتے ہیں۔
2014 میں امریکی حکومت نے اس طرح کی تحقیق روکنے کے لیے وفاقی مالی اعانت روکنے کا اعلان کیا، جس نے 2017 میں ایک ایسے فریم ورک کا راستہ ہموار کیا جس میں ہر درخواست کو اس کی نوعیت کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔لیکن اس عمل کو شفافیت اور ساکھ کی کمی کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔پچھلے سال کے آخر تک ووہان میں انسانوں میں بیٹ کرونا وائرس ’پہنچنے کے امکان‘ کی پیش گوئی کرنے کی تحقیق کے لیے امریکہ سے مالی اعانت حاصل ہوتی رہی۔
اس ہفتے کانگریس میں پوچھ گچھ کے دوران قومی انسٹی ٹیوٹ برائے صحت کے فرانسس کولنس اور انتھونی فوچی نے انکار کیا کہ یہ ’گین آف فنکشن‘ ریسرچ تھی لیکن ایبرائٹ کے خیال میں یہ واضح طور پر جی او ایف تھی۔تاہم ایبرائٹ نے کہا کہ اس کا کسی طور پر یہ مطلب نہیں کہ کووڈ19 وائرس یقینی طور پر کسی لیب سے لیک ہوا کیونکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور نہ ہی لیب میں حادثے کے کسی منظر نامے کا کوئی ثبوت ہے۔

Close