کیا زیادہ بھائی بہنوں سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟

سویڈن کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر آپ کے بھائی بہنوں کی تعداد زیادہ ہے یا بہن بھائیوں میں آپ کا دوسرا یا تیسرا نمبر ہے تو آپ کےلیے دل کی بیماریوں اور دیگر مسائل کا خطرہ بھی چھوٹے خاندان والوں سے زیادہ ہوسکتا ہے۔
یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق ہے جس میں 1932 سے 1960 کے درمیان پیدا ہونے والے 26 لاکھ 80 ہزار افراد کی زندگی اور صحت سے متعلق اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ مطالعہ مجموعی طور پر 73 سال کا احاطہ کرتا ہے جس میں 13 لاکھ 60 ہزار مردوں اور 13 لاکھ 20 ہزار خواتین کی صحت کا جائزہ دو مرحلوں میں لیا گیا ہے جبکہ یہ تمام اعداد و شمار ’’ملٹی پل جنریشن رجسٹر‘‘ سے حاصل کیے گئے جو سویڈن میں عوامی صحت و زندگی سے متعلق تمام معلومات جمع رکھنے والا سب سے بڑا سرکاری ادارہ ہے۔
ابتدائی مرحلے میں افراد کی عمر 30 سے 58 سال کے درمیان، جبکہ دوسرے مرحلے میں 55 سے 83 سال کے درمیان تھی۔
عادات و اطوار، مالی حیثیت، خاندانی امراض اور ایسے دیگر پہلوؤں کے ممکنہ اثرات کو خارج کرنے کے بعد مردوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ:
جن مردوں کا کوئی بہن بھائی نہیں تھا، ان کے مقابلے میں ایک سے دو بہن بھائیوں والے مردوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ کم تھا جبکہ چار یا زیادہ بہن بھائیوں والے مردوں کےلیے یہ خطرہ زیادہ تھا۔
علاوہ ازیں، ایک سے دو بہن بھائیوں والے مردوں میں دل یا دل سے متعلق کسی بھی بیماری سے مرنے کا خطرہ کم دیکھا گیا جبکہ تین یا زیادہ بہن بھائیوں والے مردوں کےلیے یہ خطرہ زیادہ تھا۔
خواتین کے بارے میں پتا چلا کہ:جن خواتین کا کوئی بہن بھائی نہیں تھا، ان کی نسبت دو یا زیادہ بہن بھائیوں والی خواتین میں دل کی بیماریوں اور (ایسی کسی بھی بیماری سے) موت کا خطرہ بھی زیادہ تھا۔
البتہ صرف ایک بہن یا بھائی والی خواتین میں امراضِ قلب اور ان سے موت کا خطرہ مجموعی طور پر بہت کم دیکھا گیا۔
اگرچہ یہ مطالعہ بہت وسیع ہے لیکن اسے مرتب کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی طرح کے سوالات کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے جن کا تعلق خاندان میں افراد کی تعداد کے ساتھ ساتھ معاشرتی و تمدنی پس منظر اور پسِ پردہ حیاتیاتی نظاموں سے بھی ہے۔ان تمام پہلوؤں کو جانچ کر ہی ہم پورے وثوق سے کسی خاندان میں لوگوں کی تعداد اور امراض کے بارے میں کچھ کہہ سکیں گے۔

Close