جنرل رانی کی بیٹی عروسہ عالم بھارت میں کیوں بس گئی؟


ان دنوں پاکستان میں جنرل یحییٰ خان کی خاص دوست جنرل رانی کا بہت زیادہ تذکرہ ہورہا ہے، تاہم کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اقلیم اخترعرف رانی کی بیٹی اور سابقہ صحافی عروسہ عالم اب کئی برسوں سے بھارتی پنجاب کے شہر چنڈی گڑھ میں وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کی دوسری بیوی کے طور پر مستقل قیام پذیر ہیں۔ یاد رہے کہ عروسہ عالم معروف پاکستانی گلوکار فخر عالم کی والدہ ہیں۔
تاہم پاکستان میں عروسہ عالم کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی امریندر سنگھ سے شادی نہیں ہوئی اور وہ بطور دوست ان کے ساتھ رہتی ہیں۔پٹیالہ کے سابق مہاراجہ اور موجودہ وزیر اعلی بھارتی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ کی ناجائز بیوی قرار دی جانے والی عروسہ عالم دراصل اپنے زمانے کی مشہور نائیکہ اقلیم اختر عر رانی کی بیٹی ہیں۔ عروسہ کے دو بیٹے ہیں جن میں ایک فخر عالم معروف سنگر اور ایکٹر ہونے کےساتھ ساتھ پائلٹ بھی ہیں۔ بھارتی شہریت حاصل کرنے والے معروف گلوکار عدنان سمیع خان بھی فخر عالم کے فرسٹ کزن ہیں۔ خیال رہے کہ اقلیم اختر، جو کہ بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، پاکستان توڑنے کے ذمہ دار عیاش فوجی جرنیل جنرل یحیی خان کی قریبیی ترین داشتہ میں شمار ہوتی تھیں جو ایک کامیاب نائیکہ بھی تھیں اور تب کے عیاش جرنیلوں کو لڑکیاں سپلائی کرتی تھیں۔
طاقت کے ایوانوں میں اپنے قریبی تعلقات کی بناء پر وہ جنرل یحیی کو “آغا جانی“ کے نام سے پکارتی تھیں اور ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اقلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار اور طاقتور ور شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔ حامد میر نے بھی اپنی ایک تقریر میں اسی جنرل رانی کا ذکر کیا تھا جس نے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی۔ آج بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے اکثر حکمران کسی نہ کسی جنرل رانی کے زیر اثر رہے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان میں اقتدار کا ہر دور کسی نہ کسی جنرل رانی اور اس کی ’’بٹالین‘‘ کی حکمرانی کا دور رہا ہے۔ جنرل رانی مر چکی مگر وہ مطمئن ہے کہ اس کی روح زندہ ہے۔ وہ مطمئن ہے کہ اس کے بعد بھی اقتدار کے ایوانوں میں کسی نہ کسی جنرل رانی کے قہقہوں پر دل و جان نثار کرنے والے رنگیلے یحییٰ موجود ہیں۔ جنرل رانی صرف ایک نام نہیں، وہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ وہ ایک استعارہ اور ادارہ تھی۔ یہ ادارہ اب ناقابل تسخیر حد تک مستحکم ہو چکا ہے۔ جنرل رانی نے مقتدر طبقات کے ایوانوں کو ہرنیوں، تتلیوں، بلبلوں اور میناؤں سے سجانے کا فن متعارف کروایا تھا۔ یہ فن اب بالغ ہو چکا ہے۔ جنرل رانی کل بھی ایوان اقتدر پر قابض تھیں اور اس کی تربیت یافتہ کئی دیگر ’’کاریگر اور فنکار رانیاں‘‘ آج بھی ایوان ہائے اقتدار کی ’’انٹریئر ڈیکوریشن‘‘ میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ اپنی ایک تقریر کے دوران سقوط مشرقی پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے ماضی کے معروف صحافی آغا شورش کاشمیری نے کہا تھا کہ ’ملک کی تباہی کے ذمہ داران ان گنت ہیں لیکن ان میں انگور کا پانی اور جنرل رانی نمایاں ہیں۔
اپنی والدہ جنرل رانی کی طرح عروسہ عالم کے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں اور وہ خود کو ڈیفنس اور ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹ کہلانا پسند کرتی تھیں۔
عروسہ عالم ماضی میں پاکستان میں کئی اخبارات کے ساتھ منسلک رہ چکی ہیں اور ان کی آخری نوکری بزنس ریکارڈر کے ساتھ تھی۔ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں اثر و رسوخ اور اچھے تعلقات کی وجہ سے ہی اُنہیں دفاع معاملات کی رپورٹنگ کا خاصا تجربہ حاصل ہوا۔کہا جاتا ہے کہ فرانس سے اگست نامی آبدوز کی خریداری کے اسکینڈل میں میں ملوث نیول چیف منصورالحق کی 1997میں گرفتاری میں بھی عروسہ کا اہم کردار تھا۔ عروسہ کو اس وقت زیادہ شہرت ملی جب انہوں نے پاکستان اور بھارت کے مابین امن اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کی ترویج کی غرض سے قائم ہونے والی تنظیم ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن یا سیفما کے پلیٹ فارم سے بھرپور اور متحرک کردار ادا کیا اور بھارت بالخصوص پنجاب کے متعدد دورے کیے۔
اسی دوران انکی امریندر سنگھ سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور دوستی ہو گئی۔ امریندر سنگھ اور عروسہ عالم کے نجی تعلقات کا چرچا پہلی بار 2007 میں ہوا۔ تاہم اس موقع پر دونوں نے اسے محض اچھی دوستی کا نام دیا۔ بھارتی میڈیا میں جب یہ خبریں شائع ہوئیں کہ ارمیندر سنگھ نے عروسہ عالم سے شادی کرلی ہے تو امریندر کی بیوی مہارانی پرنیت کور نے بھارتی میڈیا میں بیان دیا تھا کہ سکھ مذہب کے مطابق ارمیندر سنگھ کی واحد قانونی بیوی ان کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ کہتے ہیں کہ کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ کی عروسہ عالم سے پہلی ملاقات پاکستان کے ایک سرکاری دورے کے دوران ہوئی۔ بعد ازاں دونوں میں مسلسل رابطہ ہوتا رہا۔ عروسہ نے ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے بھارت کے کئی دورے کیے۔ واضح رہے کہ امریندر سنگھ سے ملاقات کے وقت عروسہ شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھی جبکہ امریندر سنگھ بھی شادی شدہ اور بال بچے دار تھے، ان کی اہلیہ پرنیت کور بھی بعد ازاں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی کابینہ میں وزیر مملکت رہیں۔ امریندر سنگھ کی اہلیہ کو اپنے شوہر کی عروسہ کے ساتھ تعلق پر بے حد اعتراض تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ عروسہ کو بھارتی پنجاب کا ویزہ نہ مل سکے۔
جہاں ایک طرف کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ نے کبھی کھلے عام یہ اعتراف نہیں کیا کہ ان کا عروسہ کے ساتھ کوئی رومانوی تعلق ہے، وہیں دوسری جانب عروسہ نے بھی اس تعلق کو چھپانے کی کبھی زیادہ کوشش نہیں کی، عروسہ کیپٹن ریٹائرڈ امریندر سنگھ کو مہاراج صاحب کہہ کر پکارتی ہیں۔ ایک بار ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے عروسہ عالم نے امریندر سنگھ کے ساتھ اپنے تعلق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا تھاکہ میرا تعلق پاکستان سے ہے اور میں مسلمان ہوں۔ چونکہ اسلام میں مسلمان عورت کی غیر مسلم مرد سے شادی جائز نہیں اس لیے لیے یہ بڑا حساس معاملہ ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی دہشت گردی ہورہی ہے، عورتیں بھی مشکلات کا شکار ہیں لہذا میں اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کر سکتی۔
لیکن بھارتی صحافیوں کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے عروسہ عالم ایک طرح سے بھارتی پنجاب میں مستقل سکونت کی سہولت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ازلی دشمن سمجھے جاتے ہیں تاہم بھارتی پنجاب کے شہری پاکستان سے تعلق رکھنے والی عروسہ عالم کو صوبے کی خاتون اول یعنی وزیر اعلی امریندر سنگھ کی بیوی قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عروسہ عالم کیپٹن امریندر کی سرکاری رہائش گاہ میں ان کے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ بھارتی صحافیوں کے مطابق عروسہ عالم پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ عروسہ ایلیٹ کلاس خواتین کی محفلوں میں اکثر شریک ہوتی ہیں جہاں وہ امریندر سنگھ سے اپنی محبت کے بارے میں کھل کر بات کرتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چونکہ امریندر کی قانونی بیوی پرنیت کور کو عروسہ سے سخت نفرت ہے اس لیے عروسہ نے کبھی پٹیالہ شہر کا رخ نہیں کیا اور بھارت میں قیام کے دوران اپنا زیادہ تر وقت چنڈی گڑھ میں گزارتی ہیں۔2017 میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے دوران عروسہ نے امریندر سنگھ کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ پھر جب کانگریس پارٹی انتخابات میں کامیاب ہوئی تو امریندر سنگھ کی بطور وزیراعلی تقریب حلف برداری میں بھی عروسہ عالم نے شرکت کی اور انہیں وی آئی پی نشست دی گئی۔ امریندر سنگھ کی کتاب میں ان کے عروسہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک مکمل باب موجود ہے جس میں امریندر سنگھ نے عروسہ کے ساتھ اپنی دوستی کو انتہائی خوشگوار اور لازوال قرار دیا ہے۔

Close