خودکار شٹل بس اپنے عجیب و غریب ڈیزائن کی وجہ سے تنقید کی زد میں

خودکار الیکٹرانک شٹل بس اپنے عجیب و غریب ڈیزائن کی وجہ سے تنقید کی زد میں آگئی۔
حال ہی میں ایک ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے الیکٹرانک خودکار شٹل بس متعارف کرائی گئی ہے جسے آزمائشی مرحلے سے گزارنے کے لیے کیمبرج میں یونیورسٹی کیمپس کی سڑکوں پر چلایا گیا۔
کمپنی توقع کر رہی تھی کہ اسے پذیرائی ملے گی تاہم شٹل بس اپنے عجیب و غریب ڈیزائن کی وجہ سے ٹوئٹر صارفین کی تنقید کی زد میں آگئی۔
صارفین نے بس کی جدید صلاحیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کے ڈیزائن پر منفی تبصرے شروع کردیے۔
ٹوئٹر صارفین میں سے کسی نے کہا کہ یہ ایک بدصورت چیز دکھائی دے رہی ہے، کسی نے کہا کہ ’ایسا لگ رہا ہے بس کسی حادثے کا شکار ہوچکی ہے‘۔
شٹل بس مکمل طور پر خودکار ہے، اسے کمپیوٹر کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے تاہم اس میں ایک ڈرائیو بھی موجود ہوتا ہے جو ضرورت پیش آنے پر بس کا کنٹرول اپنے ہاتھ لے لیتا ہے۔ ٹیکنالوجی سے آراستہ شٹل بس 32 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔ اس میں ایک وقت میں 10 مسافر سوار ہوسکتے ہیں۔

Close