ننگی تصاویر بنوانے والی رابی پیرزادہ کی ملالہ پر تنقید


پاکستانی رجعت پسندوں کی جانب سے متنازعہ بنا دی جانے والی دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ لڑکی ملالہ یوسفزئی کے حالیہ انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے اپنی فحش تصاویر لیک ہونے کے بعد حاجی بن جانے والی سابق گلوکارہ رابی پیزادہ نے ملالہ کے لیے ہدایت کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ کیا سے کیا ہو گے، دیکھتے دیکھتے۔
یاد رہے کہ برطانوی فیشن میگزین ووگ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد ملالہ یوسفزئی سے منسوب کر کے یہ بات کی گئی تھی کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی شخص کا ساتھ چاہتے ہیں تو آپ کو شادی کے کاغذات یعنی نکاح نامے پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا یہ ساتھ صرف پارٹنرشپ پر مشتمل نہیں ہوسکتا؟
ملالہ کو اس بیان پر شدید تنقید کا سامنا تھا لیکن انکے والد نے سختی سے تردید کی یے کہ ملالہ نے ایسا کوئی بیان دیا ہے۔ ملالہ کے اس بیان پر اسلام کی خاطر موسیقی و شوبز کی دنیا کو خیرباد کہنے والی سابق گلوکارہ رابی پیرزادہ نے رد عمل دیتے ہوئے ان کے تبدیل ہوجانے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ رابی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ملالہ یوسف زئی کی پرانی تصویر اور ’ووگ‘ میں شائع نئی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے انہیں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے‘۔ رابی پیرزادہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اگرچہ انہوں نے موسیقی چھوڑ دی ہے مگر انہیں ملالہ کو دیکھ کر نہ جانے کیوں مرحوم موسیقار استاد نصرت فتح علی خان کا مقبول گانا ’کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے‘ یاد آگیا۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ ’مسلمان فسق کی باتیں نہیں کرتے، اللہ سب کو ہدایت دے‘۔
سابق گلوکارہ نے ملالہ یوسف زئی کی کسی بات کو کوٹ کیے بغیر گانے کی صورت میں انہیں طعنہ دیا کہ وہ اب بدل گئی ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ رابی پیرزادہ کا اپنا ماضی کافی داغدار ہے اور وہ خود سو چوہے کھانے کے بعد حاجی بن ہیں۔ یاد رہے کہ ایک فوجی کی اہلیہ رابی پیرزادہ کی دو سال پہلے ڈھیروں ننگی تصویر لیک ہوگئی تھیں جن میں وہ اپنے جسم کی نمائش کرنے کے علاوہ جانوروں کے ساتھ بھی برہنہ حالت میں نظر آئیں۔ یہ تصاویر مارکیٹ ہونے کے بعد رابی پیرزادہ نے بتایا تھا کہ ان کی ایک سابقہ سہیلی نے انکو نقصان پہنچانے کے لیے برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کی تھیں۔ رابی کا کہنا تھا کہ انہوں نے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کے ساتھ مل کر کچھ برہنہ تصاویر بنوائی تھیں جن کا مقصد مظلوم جانوروں کی فلاح تھی۔ تاہم یاد رہے کہ رابی نے زیادہ تر برہنہ تصاویر اپنے بیڈ پر جسم کی ننگی نمائش کرتے ہوئے بنوائی تھیں اور ان میں کوئی جانورموجود نہیں تھا۔
تاہم اپنی برہنہ تصاویر مارکیٹ ہو جانے کے بعد رابی پیرزادہ نے اچانک اسلامی ہو جانے کا اعلان کردیا اور عمرے پر روانہ ہو گئیں تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے حجاب کرنا شروع کر دیا اور مولانا طارق جمیل کی پیروی شروع کر دی۔ اپنے حاجی ہو جانے کی تشہیر کرتے ہوئے رابی پیرزادہ نے ایک قاری صاحب سے قرآن بھی پڑھنا شروع کیا اور پھر اس عمل کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال دیں۔ گویا وہ یہ سب اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں میں اپنا اسلامی امیج بنانے کے لئے کر رہی تھیں۔
بعد ازاں رابی پیرزادہ نے نے پردے والا حجاب بنانے کا کاروبار بھی شروع کردیا۔ چنانچہ ملالہ یوسفزئی کے حوالے سے سے رابی پیرزادہ کی طنزیہ ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین انہیں آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ زیادہ تر صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پہچان بننے والی ملالہ پر انگلی اٹھانے سے پہلے رابی پیرزادہ کو اپنا داغدار ماضی یاد رکھنا چاہیے۔ ایک صارف نے رابی کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کے چاند کا تھوکا ہمیشہ منہ پر آتا ہے اور ویسے بھی سو چوہے کھا کر حاجی بن جانے والی رابی کو اسلام پر بھاشن دینا زیب نہیں دیتا۔ زیادہ تر صارفین نے رابی پیرزادہ سے سوال کیا کہ جب وہ اپنی الف ننگی تصاویر بنوا رہی تھیں تب ان کی دینی تعلیمات اور اخلاقیات کہاں تھیں۔
سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بننے کے بعد رابی پیرزادہ نے ایک ٹوئٹ میں کمنٹس کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ملالہ یوسف زئی کی مخالف نہیں ہیں، بس وہ کسی غلط بات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ رابی پیرزادہ نے ساتھ ہی لکھا کہ چوں کہ انہیں لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں، اس لیے ان کا فرض بنتا ہے کہ اگر کوئی چیز غلط ہو رہی ہے تو وہ انہیں درست کریں۔ رابی نے اپنی ٹوئٹس میں ملالہ یوسف زئی کے کسی بھی بیان کو کوٹ نہیں کیا، البتہ انہوں نے فیشن میگزین کےلیے کھچوائی گئی ان کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں نوبیل انعام یافتہ کارکن کو حجاب کے ساتھ پاکستانی ثقافت سے مشابہہ لباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ رابی پیرزادہ سے قبل اداکارہ متھیرا بھی ملالہ یوسف زئی کے حالیہ انٹرویو کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انکا ماضی اور حال بھی کوئی اتنا قابل فخر نہیں ہے کہ وہ دوسروں کو بھاشن دیتی پھریں۔
یاد رہے کہ ملالہ یوسف زئی نے ’ووگ‘ کو انٹرویو دیا تھا، جسے 2 جون کو شائع کیا گیا، تاہم ان کا مکمل اور تفصیلی انٹرویو مذکورہ میگزین کے آئندہ ماہ جولائی کے شمارے میں شائع کیا جائے گا۔ ووگ کے جولائی کے شمارے میں ملالہ یوسف زئی سرورق کی زینت بھی بنیں گی۔ ملالہ یوسف زئی پر ہونے والی تنقید کے بعد گزشتہ روز ان کے والد نے بھی ٹوئٹ کی تھی کہ ان کی بیٹی کے شادی سے متعلق جواب کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

Close