کاریں بنانے والے بکنگ سے منافع کیسے کما رہے ہیں؟

پاکستان میں قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے ایک تو کار ساز کمپنیوں نے ڈالر کی قیمت کم ہونے کے باوجود نئی گاڑیوں کی قیمتیں کم نہیں کیں دوسرا اپنے نئے ماڈل کی تشہیر کرکے بکنگ کے نام پر سرمایہ کاروں سے لاکھوں روپے فی گاڑی بٹورنا شروع کردیئے ہیں۔ یہی سرمایہ کار چند ماہ بعد نئے ماڈلز کی کار کو من مانی قیمت پر فروخت کریں گے۔ یہی وجہ ہے کار خریدنا متوسط طبقے کے لئے خواب بن گیا ہے اور ہر مہینے گاڑیوں کی قیمتیں اوپر ہی چلی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں ہنڈا کمپنی کی گاڑیوں کی بُکنگ شروع ہونے کے بعد سے نئی گاڑیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی کافی فعال ہو چکے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے فصل بوئی جا چکی ہے اور اب کٹائی کا انتظار ہے۔ ہنڈا ایٹلس کارز پاکستان نے مئی کے وسط میں ہنڈا سٹی کے نئے ماڈل کا اشتہار دیا جس میں صارفین کو بتایا گیا تھا کہ اب لوگ سٹینڈرڈ ماڈل کے لیے دس لاکھ روپے اور ایسپائر ماڈل کے لیے 12 لاکھ روپے میں پارشل یعنی جزوی بکنگ کروا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گاڑی کی مختصر جھلکیاں دکھائی گئیں اور مزید معلومات کے لیے مستند ڈیلرشپ سے رابطے کا کہا گیا لیکن صارفین کو جس کار کی بکنگ کی پیشکش کی جا رہی ہے اس کی کوئی مکمل تصویر، خصوصیات، کل قیمت یا ٹیسٹ ڈرائیو کا کہیں کوئی ذکر موجود نہیں۔
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئر پرسن ایچ ایم شہزاد کے مطابق اس بکنگ کا ہدف عام صارفین نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا تھا۔ لاہور میں ایک انٹرپرینیور جبین اویس اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں جب اسی ماڈل کی کار خریدنے کے لیے ایک مستند ڈیلر سے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ ایسپائر کی بُکنگ تو ختم ہو چکی ہے اور اس نئی کار کے لیے اب گاڑیوں کے کسی سرمایہ کے پاس جانا ہو گا جو بیچنے کی نیت سے بکنگ کیے بیٹھے ہیں۔ جبین سمیت پاکستان میں کئی لوگ یہ کار اس لیے خریدنا چاہتے ہیں کیونکہ پائیدار ہونے کے ساتھ یہ ایک سٹیٹس سمبل ہے اور اس کے لیے تھوڑے زیادہ پیسے دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ہنڈا سٹی کے ایک ڈیلر نے بتایا کہ ان کی ڈیلرشپ پر اب ایسپائر کی بکنگ نہیں کی جا رہی کیونکہ ان کا کوٹہ مکمل ہو گیا ہے جبکہ ان گاڑیوں کی اصل قیمت جولائی تک بتائی جائے گی اور ڈیلیوری نومبر یا دسمبر میں متوقع ہو گی۔ انھوں نے بتایا کہ چند دنوں بعد اس کار پر پریمیئم، یعنی ریٹیل پرائس کے علاوہ غیر قانونی طور پر وصول کی جانے والی رقم یا سرمایہ کاروں کا منافع دو سے ڈھائی لاکھ روپے فی کار تک جا سکتی ہے۔ دوسری طرف لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیلر نے بتایا کہ رواں سال کے اواخر تک اس نئے ماڈل پر پریمیئم ساڑھے تین سے چار لاکھ روپے تک بھی جا سکتا ہے۔ یعنی اگر ایک سرمایہ کار پیسے دے کر ابھی گاڑی بُک کر لیتا ہے تو وہ یہ کار دسمبر میں حاصل کر سکے گا۔ دسمبر میں محض گنے چنے لوگوں کے پاس یہ نیا ماڈل ہو گا اور وہ اسے اسی وقت کسی اور کو بیچ کر چار لاکھ روپے تک کا فوری منافع حاصل کر سکے گا۔
کار ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرپرسن ایچ ایم شہزاد نے بتایا کہ ’یہ ہنڈا سٹی ممکنہ طور پر وہ کار ہو گی جو دیگر ممالک میں سنہ 2015 میں متعارف کرائی گئی تھی لیکن پاکستان میں اسے سنہ 2021 کے داموں پر بیچا جائے گا۔ ایسا پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔‘ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں بڑی کار کمپنیوں کے منظور شدہ ڈیلرز کے پاس ’اتنے سرمایہ کار بیٹھے ہیں کہ عام بندے کے لیے گاڑی نہیں ہے۔۔۔ آپ چاہے جتنے مرضی طاقتور ہیں آپ کو نئی کار کے لیے طے شدہ ریٹ سے زیادہ پیسے دینے ہوں گے اور کئی ماہ انتظار کرنا ہو گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اون منی یا پریمیئم کے ذریعے دو طریقوں سے پیسے کمائے جاتے ہیں۔ ’اگر آپ کسی کمپنی کی گاڑی کے منظور ڈیلر کے پاس جائیں گے تو وہ پہلے تو آپ کی گاڑی بُک نہیں کرے، پھر آپ کو فنانسر بننے کا مشورہ دے گا اور کہے گا کہ اسے کسی دوسرے صارف کو بیچ کر آدھا آدھا منافع رکھ لیں۔‘ ان کے مطابق ’بہت سے سرمایہ کاروں کی گاڑیاں ڈیلر کے پاس بُک ہو چکی ہیں۔ ایسے میں نئی کار کے خریدار کو کہا جائے گا کہ کسی سرمایہ کار سے یہ کار پریمیئم ادا کر کے خرید لیں۔ ایچ ایم شہزاد کے مطابق اسے بے نامی گاڑی بھی کہا جاتا ہے اور اسے خریدنے کی صورت میں پے آرڈر اور دستاویزات صارفین کے نام کے ہی بنائے جاتے ہیں۔ انھوں نے اعتراض اٹھایا کہ اسے روکنے کے لیے کار کمپنیوں اور ڈیلروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی جبکہ نئی گاڑیوں کی قیمتیں ڈالر کی قیمت کم ہونے کے باوجود کم نہیں کروائی جا سکیں۔ ’اس کے حل کے لیے کمرشل سطح پر درآمد کردہ استعمال شدہ گاڑیوں تک رسائی آسان کی جائے۔‘ پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت کے ماہر فضل وہاب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان میں بغیر دکھائے اور بغیر خصوصیات بتائے گاڑی کی بکنگ شروع کر دی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہنڈا نے پہلے بھی ’سوک‘ اور اپنی ایس یو وی کار ’بی آر وی‘ کو متعارف کرانے سے قبل ایسا ہی کیا تھا جبکہ 2019 میں سوزوکی کے ڈیلرز نے نئی آلٹو کی بکنگ کی مد میں مکمل قیمت بتائے بغیر پانچ لاکھ پر بکنگ شروع کر دی تھی۔ فضل وہاب کے مطابق پاکستان میں کوئی ایسا حکومتی ادارہ موجود نہیں جو مارکیٹ میں مصنوعی طلب پیدا کرنے والے اس عمل کو روک سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ منافع کمانے کی خاطر بکنگ کے وقت مکمل قیمت نہیں بتائی جاتی، جان بوجھ کر مارکیٹ میں قلت پیدا کی جاتی ہے اور گاڑی کی فوری ڈیلیوری کے لیے غیر قانونی طور پر اضافی پیسے یعنی ’اون منی‘ یا پریمیئم رقم وصول کی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب نئی گاڑی آنے سے پہلے ہی پریمیئم مافیہ متحرک ہو جائے گا۔

Close