حکومت کا احتساب کی بجائے ڈائیلاگ کرنا کیوں ضروری ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست اور حکومت تب ہی آگے بڑھ سکتے ہیں جب سیاست میں موجود ڈیڈ لاک ختم ہو، ایسا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت تمام سیاسی رہنماؤں کو رہا کرکے گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز کرے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ابھی دور دور تک کسی قسم کے حکومت اور اپوزیشن ڈائیلاگ کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔ لہذا ان کے خیال میں اگر ملکی سیاست اسی طرح تار تار رہی تو حکومت جن نام نہاد معاشی کامیابیوں کے دعوے کر رہی ہے وہ بھی کسی تحریک یا لانگ مارچ کے نتیجے میں ضائع ہو سکتی ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دنیا کے ہر ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے آپسی اختلافات فطری ہیں لیکن مہذب جمہوری ممالک اور پسماندہ ممالک میں فرق یہ ہے کہ وہاں حکومت خارجہ پالیسی اور مالیاتی پالیسی سمیت ہر اہم ریاستی معاملے پر اپوزیشن سے ڈائیلاگ کرتی ہے، قانون سازی کے معاملے میں تو حکومت اور اپوزیشن میں مسلسل تعاون اور مشورہ جاری رہتا ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں بات تک کرنے کو تیار نہیں۔  سہیل وڑائچ کے مطابق حکومت کا موقف یہ ہے کہ جب ہم اپوزیشن سے بات کرتے ہیں تو وہ این آر او مانگتی ہیں جبکہ اپوزیشن کا کہنا یے کہ ایک طرف یہ ہمیں جیلوں میں ڈال رہے ہیں اور دوسری طرف ہم سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دو عملی کیوں؟
یاد رہے کہ کپتان حکومت کچھ عرصے سے قانون سازی پر اپوزیشن سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن اپوزیشن والوں کو ماضی میں ایسے تلخ تجربات ہو چکے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار ہی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ نیب کے ہاتھوں گرفتاریوں کے بعد سے اپوزیشن اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ حکومت قانون سازی کے لئے تو تعاون چاہتی ہے لیکن گرفتاریوں یا مجموعی ماحول کے بارے اپوزیشن سے تعاون کے لئے تیار نہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ سیاست کی دنیا ہو یا ہمارا سماج ، جب بھی کسی سے مذاکرات کئے جاتے ہیں تو ماحول کو خوشگوار اور سازگار بنایا جاتا ہے۔ لیکن عمران کی حکومت اس حوالے سے پیش رفت کرنے کو تیار نہیں، اصولی طور پر تو اگر مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت کو گرفتار اپوزیشن رہنمائوں کو رہا کرنا چاہئے اور اپوزیشن لیڈرز سے درخواست کرنی چاہئے کہ وہ قانون سازی کے معاملے میں تعاون کریں۔ فی الحال حکومت نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس کی وجہ سے قانون سازی پر مذاکرات میں تاخیر ہو رہی ہے۔
سینئیر صحافی کہتے ہیں کہ سیاسی معاملات تو دور کی بات، ریاستی معاملات میں بھی اپوزیشن کو شریک نہیں کیا جا رہا۔ ہمارے پڑوس، افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بہت بڑا واقعہ ہے جس کے نہ صرف افغانستان بلکہ اس پورے خطے پر اثرات پڑیں گے۔  گاہے گاہے یہ خبر پڑھنے کو ملتی ہے کہ افواج پاکستان نے افغانستان کے معاملات پر صلاح مشورہ کیا، یہ خبر بھی شائع ہو چکی کہ وزیراعظم کو افغان صورتحال پر بریفنگ دی گئی، ہونا تو یہ چاہئے کہ افغانستان کے مسئلے پر اپوزیشن لیڈرز کو بھی بریفنگ دی جائے تاکہ انہیں بھی یہ احساس ہو کہ وہ بھی ملکی معاملات کے مشورے میں شریک ہیں۔ اپوزیشن رہنما بھی حکومت کی طرح ملک کے منتخب لوگ ہیں جنہیں عوام نے منتخب کر کے پارلیمان میں بھیجا ہے۔
سہیل وڑائچ کا اصرار ہے کہ ریاست اور حکومت کو اگر سیاست میں بہتری لانی ہے تو اپوزیشن کو اس کا جائز مقام دیں، ریاستی بریفنگز میں اسے بلایا جائے اور اسے قومی ڈائیلاگ کا حصہ بنایا جائے۔ کسی ملک کی مجموعی ترقی اور خوشحالی دیکھنی ہو تو معاشی اشاریوں کے علاوہ انسانی وسائل، جمہوری حقوق، آزادیٔ اظہار اور غربت کے پیمانوں کو دیکھا جاتا ہے۔ گو ابھی پاکستان میں معیشت بہتر ہو رہی ہے لیکن سیاست کے فرنٹ پر فی الحال بہتری کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ اگر تو ملک کی مجموعی صورتحال میں بہتری لانی ہے تو پھر سیاست اور معیشت سمیت تمام محاذوں پر بہتری لانا پڑے گی۔

Close