کیا فاروق ستار پر را کا ایجنٹ ہونے کا الزام درست ہے؟

حال ہی میں خود پر انڈیا کی خفیہ ایجنسی “را” کے لیے کام کرنے کا الزام عائد ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے موقف اپنایا ہے کہ چونکہ وہ سیاسی طور پر دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں، اسی لئے سندھ میں انسداد دہشت گردی پولیس نے مجھ پرانے کیسوں میں طلب کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ چند برس پہلے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی ایک پاکستان اور فوج مخالف تقریر کے بعد ایم کیو ایم نے ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں لندن بیٹھی قیادت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے خود کو ایم کیو ایم پاکستان قرار دے دیا تھا۔ بعد میں انتخابات کے موقع پر ایم کیو ایم پاکستان مزید دھڑے بندی کا شکار ہوگئی اور منتخب اراکین اور تنظیم نے خود کو ڈاکٹر فاروق ستار سے الگ کر لیا اور انھیں ان کی تنظیمی ذمہ داریوں سے بھی سبکدوش کر دیا گیا۔ فاروق ستار کے خلاف بغاوت کے بعد اس وقت ایم کیو ایم پاکستان دھڑے کے کراتا دھرتا خالد مقبول صدیقی ہیں جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم پی آئی بی کالونی گروپ کا سربراہ پکارا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ بانی ایم کیو ایم کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کا مہرہ قرار دیتی ہے اور یہ تاثر عام ہے کہ گذشتہ بیس برسوں میں ایم کیو ایم نے کراچی اور حیدرآباد میں جتنی بھی دہشت گردانہ کارروائیں کیں، ان کے لئے اسلحہ اور پیسہ را نے فراہم کیاتھا۔ لیکن یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایم کیو ایم کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی کو سندھ میں کاؤنٹر کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جسے بعد میں جنرل مشرف نے اپنے اردو اسپیکنگ کنکشن پر مزید پروان چڑھایا۔
لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا جب اسٹیبلشمنٹ کے اپنے ہی بنائے ہوئے الطاف حسین نے فوج کے خلاف ہی بولنا شروع کر دیا۔ تب اچانک اسٹیبلشمنٹ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ الطاف حسین بھارت کے لیے کام کرتا ہے اور ملک دشمن ہے۔ چنانچہ عدالت کے ذریعے الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر ملک بھر میں پابندی لگا دی گئی۔
یاد رہے کہ چند برس قبل الطاف حیسن سے بغاوت کرکے اپنی الگ سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی بنانے والے سابق میئر کراچی مصطفی کمال بھی ایک پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ بانی ایم کیوایم کو لوگوں کا خون چاہیے، بھارت انہیں پیسے دیتا ہے، میرے سامنے اس نے کہا کہ بھارت پیسے دیتا ہے، ہمیں بانی ایم کیو ایم کے ساتھ رہنے کا دنیاوی فائدہ تھا لیکن ہم نے اللہ کے خوف سے ان سے دوری کی۔ نوجوانوں کو بانی ایم کیو ایم لاطاف حسین نے قاتل اور را کا ایجنٹ بنایا، اپنے آقاؤں کے کہنے پر سندھو دیش کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔
کراچی کاؤنٹر ٹیررازم محکمے کے سربراہ عمر شاہد حامد کا کہنا ہے کہ حال ہی میں گرفتار کیے گئے ایم کیو ایم دہشت گردوں کے را کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ منسلک رہے ہیں، سی ٹی ڈی کی ایک ٹیم انھیں سمن دینے کے لیے ان کے گھر اور ان کی عارضی رہائش گاہ آواری ہوٹل گئی تھی۔ اس سمن میں ڈاکٹر فاروق ستار کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ انڈین ایجنسی را سے وابستہ ملزمان نعیم خان اور عمران نے را سے اپنی وابستگی کروانے میں ڈاکٹر فاروق ستار کی معاونت ظاہر کی ہے، لہذا انھیں پابند کیا جاتا ہے کہ وہ 5 جون بروز ہفتہ سی ٹی ڈی میں تمام تر شواہد کے ساتھ مذکورہ تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہوں۔واضح رہے کہ سابق پی ایس پی رہنما انیس ایڈووکیٹ کو بھی دہشت گردوں کی معاونت کے الزام میں سی ٹی ڈی نے طلب کر رکھا ہے۔
دوسری جانب فاروق ستار نے گرفتار ملزمان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں ایک انسپیکٹر کا فون آیا تھا کہ وہ سمن دینے آنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ آ جائیں۔ وہ اپنی مستقل رہائش گاہ پر موجود ہیں۔’اس وقت ٹی وی کیمرے والے بھی پہنچ گئے شاید وہ انھیں یہ اعزاز ٹی وی کیمروں کے سامنے دینا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں وہ سیاسی طور پر دوبارہ سرگرم ہوئے ہیں، انھوں نے نوجوانوں کو متحرک کیا ہے اور انکا حالیہ جلسہ بھی کامیاب رہا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے کراچی کے تاجروں کی حمایت میں پریس کانفرنس بھی کی اور شاید یہ سرگرمیاں کسی کو ناگوار گزر رہی ہیں۔ دوسری جانب کاؤنٹر ٹیررازم محکمے کے سربراہ عمر شاہد حامد کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما انیس ایڈووکیٹ کو بھی دہشت گردی کے واقعات میں تفتیش کے لیے سمن جاری کیا گیا ہے جو انھوں نے وصول کر لیا ہے۔

Close