رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کردیا

رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن نے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے، فائلرز کے لیے ایڈوانس اِنکم ٹیکس 1 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے، گین ٹیکس کے لیے ودہولڈنگ پیریڈ چار سال سے کم کرکے تین فیصد کرنے سمیت دیگر مطالبات پیش کردیے۔اس حوالے سے رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن کے رہنما احسن ملک کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے حوالے سے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے تجاویز وزارت خزانہ کو بھجوادی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن نے رئیل اسٹیٹ سے متعلقہ تجاویز وزارت خزانہ کو بجھوا د ی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے، ریئل اسٹیٹ کا کام کرنے والے ڈیلرز کو ایف بی آر کی جانب سے نوٹسز کا سلسلہ بند کیا جائے، ڈیلرز کو خرید و فروخت پر 2 فیصد کمیشن حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔
مطالبات میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ڈی سی ریٹ موجودہ سطح پر برقرار رکھے جائیں، فائلرز کے لیے ایڈوانس اِنکم ٹیکس ٹیکسز کی شرح میں کمی کی جائے، فائلرز کے لیے ایڈوانس اِنکم ٹیکس 1 فیصد سے کم کر کے صفر اعشاریہ 25 فیصد کیا جائے، نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح 2 فیصد کی سطح پر قائم رکھی جائے، غیرمنقولہ جائیداد پر عائد کیپٹل گین ٹیکس میں کمی کی جائے اور کیپٹل گین ٹیکس کے لیے 4 سال کی شرط کو ختم کر دیا جائے۔
اسی طرح رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے نئے بجٹ میں ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے اور پراپرٹی ٹرانسفر پر تمام اقسام کی فیسز میں 50 فیصد کمی کی جائے، وزیر اعظم کے تعمیراتی شعبے کے لیے پیکیج میں ایک سال کی توسیع کی جائے، تعمیراتی شعبے کے لیے دی گئی اسکیم کی مدت 30 جون 2022ء تک بڑھائی جائے۔
یاد رہے کٰہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سارے ادارے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کررہے ہیں اور یہ بہت بڑامفادات کا ٹکراؤ ہے۔

Close