میڈیا اتھارٹی پاکستانی میڈیا کا گلا کیسے گھونٹے گی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سید طلعت حسین نے کپتان حکومت کی مجوزہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو گلا گھونٹ اتھارٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سرکاری ادارے کے قیام سے پاکستانی میڈیا کی رہی سہی آزادی بھی مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں طلعت حسین کہتے ہیں کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی طرف سے اس آرڈیننس کا خلاصہ جاری کرنا ایک انتہائی کارآمد قدم ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد قارئین خود ہی جان جائیں گے کہ فسطائی سوچ کیا کیا رنگ اختیار کر سکتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ آرڈی نینس کے مطابق پہلی بار خلاف ورزی پر کسی بھی صحافی یا میڈیا مالک کو تین سال قید کی سزا یا اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جاسکیں گی جبکہ دوسری بار خلاف ورزی ثابت ہونے پر پانچ سال قید یا 5کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جاسکیں گی۔
طلعت کے مطابق پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کی منظوری کے بعد ملک بھرکے صحافی اور میڈیا ورکرز نہ صرف ’نیوزپیپر ایمپلائز اینڈ سروسز کنڈیشنز ایکٹ 1974 میں دیے گئے قانونی تحفظ سے محروم ہو جائیں گے بلکہ اس آرڈیننس کی بدولت ان کا چھٹے، ساتویں اور نویں ویج بورڈ ایوارڈ کے تحت تنخواہ و دیگر مراعات اور بقایاجات مانگنے کاحق بھی سلب ہوجائے گا۔
پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کی منظوری کے بعد عمل درآمد ٹربیونل برائے اخباری کارکنان تحلیل ہو جائے گا اور ٹربیونل میں زیر سماعت اخباری کارکنان کے ہزاروں مقدمات بھی خودبخود ختم ہو جائیں گے۔
اسکے علاوہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے تحت قائم ہونے شکایات کونسلز اور ٹربیونلز میں صحافی اور میڈیا ورکرز، میڈیا مالکان کی مرضی کے مطابق طے شدہ تنخواہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں شکایت تو کرسکیں گے مگر انہیں نہ تو ملازمت کا تحفظ ملے گا اور نہ وہ قانونی طور پر ہاؤس رینٹ الاؤنس ودیگر مراعات کا مطالبہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اسی طرح میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے بعد پاکستان میں کام کرنے والے تمام ٹی وی و ریڈیو چینلز، اخبارات وجرائد، نیوز ایجنسیاں، آن لائن اخبارات، ویب سائٹس، بلاگز، فیس بک پیجز، یوٹیوب چینلز، نیٹ فلکس، ایمازون پرائم چینلز وغیرہ ’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ سے لائسنس، ڈیکلریشن، این اوسی یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ لینے کے پابند ہوں گے جس کی مدت 5، 10 اور 15 سال ہوگی جبکہ اس کے اجرا کے لیے بھی فیس مقرر ہوگی۔ علاوہ ازیں سالانہ فیس اور رینیوول فیس الگ ادا کرنا ہوگی اور سالانہ فیس تاخیر سے جمع کرانے پر جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
طلعت حسین کے مطابق پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے تحت  ’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ تشکیل دی جائے گی جس کا سربراہ گریڈ 21 یا 22 کا انفارمیشن گروپ کا آفیسر ہوگا جبکہ اتھارٹی کے 11 ممبر ہوں گے جن میں چھ نجی جبکہ پانچ ممبران میں وفاقی سیکرٹری انفارمیشن، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین ایف بی آر اور چیئرپرسن مسابقتی کمیشن پاکستان شامل ہوں گے۔ اس آرڈی نینس کے تحت اتھارٹی کو کسی بھی ٹی وی چینل، ریڈیو چینل، اخبار، جریدے، نیوز ایجنسی، آن لائن اخبار، ویب سائٹ، بلاگ، فیس بک پیج، یوٹیوب چینل، نیٹ فلکس، ایمازون پرائم چینل وغیرہ کو لائسنس، ڈیکلریشن، این اوسی، رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے، معطل کرنے، منسوخ کرنے، کسی پروگرام کو بند کرنے، آف ائیر کرنے، کسی خبر کو روکنے کے وسیع تر آمرانہ اختیارات حاصل ہوں گے۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت پاکستان میں صحافی صرف وہی تصور کیا جائے گا جو ’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ سے لائسنس یافتہ، ڈیکلریشن، این اوسی یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے میڈیا کے ادارے سے منسلک ہوگا۔ اسی طرح پروٹیکشن آف جرنلسٹ ایکٹ میں حاصل حقوق بھی صرف اسی صحافی کو ملیں گے۔
میڈیا آرڈیننس 2021 کے تحت تمام ٹی وی و ریڈیو چینل، اخبار، جریدے، نیوز ایجنسی، آن لائن اخبار، ویب سائٹ، بلاگ، فیس بک پیج، یوٹیوب چینل، نیٹ فلکس، ایمازون پرائم چینل وغیرہ کے لیے لائسنس، ڈیکلریشن، این او سی، رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درج ذیل شرائط پر عمل کرنا لازمی ہوگا:
خبروں، تجزیوں، تبصروں وبحث مباحثے میں۔۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خودمختاری، سکیورٹی اور سالمیت کے تحفظ کویقینی بنانا۔آئین میں شامل قومی، ثقافتی، سماجی و مذہبی اقدار و اصولوں کے تحفظ کو یقینی بنانا۔اس بات کو یقینی بنانا کہ تمام پروگراموں میں تشدد، دہشت گردی، نسلی ومذہبی امتیاز، فرقہ واریت، انتہاپسندی، عسکریت پسندی، نفرت، پورنوگرافی، فحاشی، ولگیریٹی، یا دیگر کسی قسم کا جارحانہ مواد موجود نہ ہو جو شائستگی کے تسلیم شدہ معیارات کے خلاف ہے اور نہ اس مذکورہ بالا برائیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو۔
میڈیا کو ڈیلی ٹرانسمشن، براڈکاسٹ، پبلیکیشن، پروگرامز یا خبروں میں حکومت کی طرف سے طے کیے گئے مفاد کے فروغ پر مبنی مواد شامل کرنا ہوگا اور اس کا دورانیہ کل دورانیے کا 5 فیصد لازمی ہوگا۔پروگرام اور اشتہارات کے لیے اتھارٹی کے منظورشدہ ظابطے پر عمل درآمد لازمی ہو گا، جس کے لیے اِن ہاؤس مانیٹرنگ کمیٹی تعینات کرنا ہوگی جوکہ منظور شدہ پر عمل درآمد بارے آگاہ کرے گی۔ کاپی رائٹ آرڈیننس 1962، انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹ ایکٹ 2012  ودیگر قواعدکی عدم خلاف ورزی کو یقینی بنانا ہوگا۔
اسکے علاوہ میڈیا سے متعلقہ امور کے لیے کام آنے والے کسی بھی قسم آلات کی درآمد کے لیے اتھارٹی سے الگ این اوسی لینا لازمی ہوگا۔خودکش بمبار، دہشت گرد، دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی لاشوں، جنگجوؤں وانتہاپسند عناصر کے بیانات واعلانات ودیگر اقدامات جو کسی بھی لحاظ دہشت گرد کارروائیوں اور دہشت کے فروغ کا سبب بنیں، ان کونشر یا تقسیم نہ کرنے اور ان کی آن لائن ویڈیو فوٹیج کی عدم دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔امن وامان کامسئلہ پیدا کرنے والی کوئی نشریات، ڈسٹری بیوشن یا آن لائن پروگرام کی اجازت نہیں ہوگی۔
کوئی بھی اینکرپرسن، ماڈریٹر یا میزبان کوئی بھی ایسی رائے یااقدام کو پروپیگیٹ نہیں کرے گا جو کسی بھی طرح نظریہ پاکستان، پاکستان کی خودمختاری وسلامتی یا دفاع کے خلاف تعصب پر مبنی ہو۔ کوئی بھی ایسی نشریات، ڈسٹری بیوشن یا آن لائن کوئی بھی ایسی چیز ممنوع ہوگی جس سے سربراہِ مملکت، یا مسلح افواج کے ممبران، یا ریاست کے قانون ساز اور عدلیہ کے اداروں کی بدنامی یا ان کی تضحیک ہوتی ہو۔عدالتوں میں زیرسماعت معاملات پر کسی قسم کی نشریات، ڈسٹری بیوشن، پروگرام یا بحث ومباحثہ نہیں ہوگا اور کورٹ رپورٹنگ صرف انفارمیشن کی صورت میں نشر/شائع کی جاسکے گی۔
کوئی بھی ایسی نشریات، ڈسٹری بیوشن یا آن لائن کوئی بھی ایسی چیز ممنوع ہوگی جس کے بارے میں پتہ ہوکہ وہ جھوٹ پر مبنی یا بے بنیاد ہے یا بدنیتی پرمبنی ہے یا اس کے جھوٹ، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہونے کایقین کرنے کے لیے کافی وجوہات موجود ہوں۔کوئی بھی الیکٹرانک وڈیجیٹل چینل واخبار اپنی باقاعدہ لانچنگ کے بعد ایک سال کا نان سٹاپ آپریشن مکمل کرنے سے پہلے سرکاری اشتہار لینے کا حقدار نہیں ہوگا۔
میڈیا آرڈیننس 2021 کے مطابق کوئی بھی لائسنسن یافتہ، این اوسی، ڈیکلریشن، رجسٹریشن ہولڈر ادارہ یا فرد پر مذکورہ بالا کسی ایک بھی شرط کی پہلی بار خلاف ورزی ثابت ہونے پر تین سال قید کی سزا یا اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جاسکیں گی جبکہ دوسری بار خلاف ورزی ثابت ہونے پر پانچ سال قید یا 5کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جاسکیں گی۔
اسی طرح اگر میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے لائسنس، ڈیکلریشن، این اوسی، رجسٹریشن لیے بغیر کام جاری رکھنے والا ٹی وی چینل، ریڈیو چینل، اخبار، جریدے، نیوز ایجنسی، آن لائن اخبار، ویب سائٹ، بلاگ، فیس بک پیج، یوٹیوب چینل، نیٹ فلکس، ایمازون پرائم چینل وغیرہ یا ان میں کام کرنے والا فرد مذکورہ بالاشرائط میں سے کسی ایک بھی شرط کی خلاف ورزی کرے گا تو خلاف ورزی ثابت ہونے پر اس کو پانچ سال قید یا پانچ کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جاسکیں گی۔ لہذا طلعت حسین کے خیال میں اگر یہ موجودہ آرڈیننس نافذ ہو گیا تو پاکستانی مین سٹریم اور سوشل میڈیا مکمل طور پر حکومت شکنجے میں آ جائے گا۔

Close